مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhootمصنف۔۔ غلام اکبر

12-12-2017

قسط :36۔۔


مگر ایوب خان کو اس مشورے پر عمل کرنے کی مہلت نہ مل سکی۔
مارچ۹۶۹۱ءمیں جنرل یحییٰ خان نے مارشل لاءلگا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور پورے ایک سو پچیس ماہ تک حکومت کرنے کے بعد ایوب خان افق سیاست سے غائب ہو گئے۔
مُجرم کون
صدیاںگزریں حَسن بن صباح نے ایک جھوٹی جنت بنائی تھی۔ حسن بن صباح کے جانشین نے کہا۔
”پنجاب کے لوگ تماشبین ہیں۔ انہیں خوش کرنے کے لئے اچھا تماشہ چاہیئے اور میں اتنا اچھا تماشہ پیش کروں گا کہ پنجابی تالیاں بجانے پر مبجور ہو جائیں گے۔“
جنرل یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی ہی تقریر میں اعلان کیا کہ وہ حکومت پر قابض رہنے کے لئے نہیں آئے بلکہ ان کا مقصد عام انتخابات کے لئے ساز گار پیدا کرنا، ساز گار حالات میں عام انتخابات کرانا اور عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والے عوامی نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنا ہے۔
اس امر سے جنرل یحییٰ خان کے بدترین مخالف بھی انکار نہیں کریں گے کہ انہوں نے عام انتخابات کے لئے سازگار حالات پیدا کئے اور سازگار حالات میں تاریخِ پاکستان کے پہلے آزادانہ اور منصفانہ عام انتخابات کرائے۔ اگر ان آزادانہ اور منصفانہ عام انتخاب میں اکثر یت حاصل کرنے والے عوامی نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنے کا وعدہ پورا کر دیا جاتا تو قائد اعظمؒ کے پاکستان کو اپنے مشرقی بازو سے ہاتھ نہ دھونا پڑتے۔ جنرل یحییٰ خان یہ وعدہ اس لئے پورا نہ کرسکے کہ عام انتخابات کے نتائج نے مغربی پاکستان کی قسمت کا مالک بھٹو کو اور مشرقی پاکستان کی قسمت کا مالک شیخ مجیب الرحمان کو بنا دیا تھا۔ اقتدار بھٹو کی پیپلز پارٹی کو اس لئے منتقل نہیں ہو سکتا تھا کہ شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کی تھی اور اقتدار شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کو اس لئے منتقل نہیں ہو سکتا تھا کہ بھٹو مغربی پاکستان کا لیڈر ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی اقلیت کو عوامی لیگ کی اکثریت سے زیادہ طاقت ور ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا۔ عوامی لیگ کے حقِ اقتدار کو تسلیم نہ کرنے کا مطلب مشرقی پاکستان میں عوام بغاوت کو دعوت دینا تھا۔ اور پیپلز پارٹی کی طلبِ اقتدار کو نظر اندا کرنے کا مطلب بھٹو نواز جنرلوں کو دعوتِ بغاوت دینا تھا۔ یہ تھے وہ حالات جن میں جنرل یحییٰ خان نے پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کرنا تھا۔ اور جو فیصلہ کیا گیا وہ بھٹو کی زبردست سیاسی فتح تھا۔ اسی لئے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کے ذریعے عوام اور عوامی لیگ کو کچل ڈالنے کے فیصلے کو عملی جامہ پہنوانے کے بعد جب بھٹو ڈھاکہ سے مغربی پاکستان پہنچا تو اس نے کراچی کے ہوائی اڈے پر اعلان کیا کہ ” خدا نے پاکستان کو بچا لیا ہے۔“
اس زمانے میں مجھے اور میرے لاکھوں بھٹو پرست ہم وطنوں کو قدرت نے اس آنکھ سے محروم کر رکھا تھا جو نوشتہّ دیوار پڑھ سکے۔ ہمارے نزدیک بھٹو ٹیپو شہیدؒ، علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کے خوابوں کاامین تھا اور شیخ مجیب الرحمان جعفر اور صادق جیسے غداروں کے قبیلے سے تعلق رکھنے والا علیحدگی پسند دشمن ملک وملت تھا۔ ہم یہ تصور کرنے کے لئے چند خود غرض اور بے حس جنرلوں کی مدد سے غداری کی تاریخ میں ایک ایسے باب اضافہ کیا ہے ، جس پر کروڑوں فرزندانِ اسلام کی آنکھیں خون کے آنسو روئیں گی۔
لیکن آج جب کروڑوں مسلمانوں کی امنگوں کا یہ قاتل اپنی کھیتی کا پھل کاٹ رہا ہے تو میں ان دلائل کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں جو بعض بھولے بھالے لوگ مشرقی پاکستان کے متعلق بھٹو کے رویے کی حمایت میں دیتے رہے ہیں۔
ایک دلیل یہ ہے کہ اگر بھٹو قومی اسمبلی کے اجلا س سے پہلے آئینی سمجھوتے پرزور نہ دیتا تو قومی اسمبلی میں عوامی لیگ چھ نکات پر مبنی اپنی مرضی کا آئین قوم پر مسلط کردیتی جس سے ملک کی سا لمیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر بھٹو عوامی لیگ کو برسرِ اقتدار آنے سے نہ روکتا تو شیخ مجیب الرحمان مغربی پاکستان کی ساری دولت سمیٹ کر مشرقی پاکستان لے جاتا اور جب مغربی پاکستان بالکل مفلوک الحال اور تہی دست ہو جاتا تو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا اعلان کر دیا جاتا۔
تیسری دلیل یہ ہے کہ اگر بھٹو عوامی لیگ کو اقتدار پر قابض ہونے کا مواقع دے دیتا تو مشرقی پاکستان کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بھی علیحدگی پسند قوتیں زور پکڑ جائیں اور پاکستان کی سرحدیں بالآخر سمٹ کر پنجاب اور سندھ تک محدود ہو جاتیں۔
پہلی دلیل کا جواب تو یہ ہے کہ اگر بھٹو عوام لیگ کے چھ نکات کو ملکی سا لمیت کے خلاف تصور کرتا تھا تو اس نے ایک سچے محبِ وطن کی حیثیت سے مشرقی پاکستان جا کر عام انتخابات میں عوام لیگ کا مقابلہ کیوں نہ کیا۔ اس نے اپنا سارا زور مغربی پاکستان پر کیوں صرف کیا اور وہ یہ کیوں بھول گیا کہ مشرقی پاکستان ملک کے باقی چاروں صوبوں کی اجتماعی قوت سے بھی بڑا ہے اور ملک کا جوآئین بنا اسکی تشکیل میں مشرقی پاکستان سے منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کو بنیادی اور فیصلہ کن اہمیت حاصل ہوگی؟ اس نے ملک دشمن چھ نکات والی عوامی لیگ کا زور توڑنے کے لئے مشرقی پاکستان کے عوام کو بھی ” روٹی کپڑا اور مکان“ کے بنیادی معاشی نعرے کی گرفت میں لینے کی کوشش کیوں نہ کی اور ملک کی پچپن فیصد آبادی کو ” ملک دشمنی پر مبنی چھ نکات“ کا نعرہ بلند کرنے والوں کے رحم وکرم پر کیوں چھوڑ دیا؟ کیا بھٹو اتنا بے وقوف اور کوتاہ اندیش تھا کہ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اگر عوامی لیگ کا ڈٹ کرمقابلہ نہ کیا گیا تو قومی اسمبلی میں اس چھ نکات والی جماعت کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو جائے گی اور آئین بنانے میں مرکزی کردار ادا کرنے کا حق حاصل کر لے گی؟
(جاری ہے۔۔۔۔۔)

Scroll To Top