مودی کی چال ناکام ہوگی ؟

zaheer-babar-logo
نریندر مودی کا گجرات میں الیکشن جیتنے کے لیے کانگریس پر پاکستان سے مدد لینے کے الزام کی جس قدر مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ بھارتی وزیر اعظم حالیہ دنوں میں یہ الزام تواتر کے ساتھ دہرائے رہے کہ نئی دہلی میں مامور پاکستان کے سفاتکاروں ، سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کانگریسی رہنما منی شنکر ، سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ اور سابق نائب صدر حامد انصاری سے ملاقات کی ہے تاکہ گجرات کے انتخاب میں بی جے پی کو شکست سے دوچارکیا جاسکے۔ “
نریندر مودی کے اس الزام نے بھارتی سیاست میں بھونچال کی سی کفیت پیدا کردی ۔گانگریس کے ایک سنیر رہنما نے بھارتی وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے بیانات کے زریعہ سیاسی بحث کو اس سطح پر لے گے ہیں جو وزیر اعظم کے عہدے کو بھی بے توقیر کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ان کے بعقول نریندری مودی کو گجرات میں واضح شکست نظر آرہی ہے لہذا وہ گندی زبان استمال کرتے ہوئے جذبات کو بھڑکا رہے ہیں۔ادھر سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے نریندر مودی کو خط لکھا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم اور آرمی چیف سمیت ہر اہم عہدے دار پر حملہ کرکے ایک خطرناک مثال قائم کررہے ہیں لہذا وہ متانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگیں تاکہ اس عہدے کا وقار بحال کیاجاسکے جس پر وہ فائز ہیں“
پاکستان نے ان تمام الزمات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے بھارت کی داخلی سیاست میں نہ گھسیاٹا جائے۔ وزارت خارجہ نے سماجی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میںکہا ہے کہ ”انتخابات اپنی طاقت پر جتیے جائیں ، فرضی اور باکل بے بنیاد سازشوں کے سہارے نہیں“
سیاسی مبصرین کے بعقول گجرات میں بی جے پی 22سال سے برسر اقتدار ہے مگر اب خیال کیا جارہا ہے کہ اسے اپوزیشن جماعتوں کے ہاتھوں شکست ہونا بعیدازقیاس نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ نریندی مودی پاکستان پر الزمات عائد کرکے اپنی متوقع شکست کے لیے رائے عامہ ہموار کررہے ہیں۔
اسے یقینا جنوبی ایشیاءکی بدقسمتی کہا جانا ہے کہ بھارت میں نریندر مودی جسیا شخص وزرات عظمی کے منصب پر فائز ہے۔ ہندو دہشت گرد تنظیم کے سرکردہ رہنما سے بھارت کے مسلمان کیا خیر کی توقع رکھیں گے جب کہ اب خود ہندووں کے لیے مشکلات پیدا ہورہیں۔ پاکستان ، اسلام اور مسلمان دشمنی میں بھارتیہ جتناپارٹی اس حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے بھی تیار نہیں کہ اس کا طرزسیاست خود بھارت کے وجود کو خطرات سے دوچار کرچکا۔ باعث اطمنیان ہے کہ کانگریس سمیت پڑوسی ملک کے سوچنے سمجھنے والے حلقے سوال اٹھا رہے کہ مسقبل میں نریندر مودی کی سربراہی میں ان ملک مذید کن مسائل سے دوچار ہوسکتا ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بھارتی میڈیا کا قابل زکر حصہ پاکستان دشمنی میں اندھا ہوچکا۔ وہ یہ نہیں جان پارہا کہ دوایٹمی قوتوں کے درمیان تصادم تو دور مسلسل رہنے والی کشدیگی ہرگز نیک شگون نہیں ۔ مثلا نائن الیون کے بعد پاکستان اورافغانستان میں ایسے پرتشدد گروہ سامنے آچکے جن کے مفادات صرف اور صرف جنگ سے وابستہ ہیں۔امن کے دشمنوں کی خواہش اور کوشش یہی ہے کہ پاکستان اور بھارت میں کسی نہ کسی شکل میں تصادم ہوجائے تاکہ ان کے حلقہ اثر میں اضافہ کرسکے۔
ترقی پذیر ملکوں کا المیہ یہ ہے کہ ان کے ہاں بڑے بڑے سیاسی نام بھی ایسی بصیرت اور اخلاص کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں اس ضمن میں بھارت کی مثال نمایاں ہے جہاں تقسیم ہندسے لے کر اب تک جاری جمہوری نظام سے نریندر مودی برآمد ہوا۔ بھارت میں اہل فکر ونظر کو اس پہلو پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہوگی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان کا روشن اور محفوظ مسقبل انتہاپسند وں کے ہاتھوں یر غمال بن چکا۔
پڑوسی ملک کا المیہ یہ ہے کہ وہاں بعض سیاسی جماعتیں پاکستان دشمنی کے نام پر ووٹ حاصل کرتی ہیں۔ پاکستان کو دشمن نمبر ایک کا درجہ دے کر اپنی تمام تر ناکامیوں کا ملبہ ہم پر ڈال دیا جاتا ہے۔بھارت میں یہ سلسلہ تقسیم ہند سے لے کر اب تک جاری وساری ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں ایسا نہیں۔ ملک کی شائد ہی کوئی نمایاں سیاسی ومذہبی قوت ایسی ہو جو بھارت دشمنی کی بنیاد پر عوام کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ٹھری۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد اہل پاکستان نے کم وبیش ستر ہزار جانوں کی قربانی دی ہے۔ حد یہ ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف عام شہری اور سیکورٹی فورسز مسلسل اپنی جانوں کا نذارنہ پیش کررہے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام امن کی قدر باخوبی جانتے ہیں۔اب تک ہونے والے سروے اس بات کی گواہی دے رہے کہ ملک کا عام شہری جہاں کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھا رہا وہی پڑوسی ملک کے ساتھ مساوی بنیادوں پر دوستانہ تعلقات کا بھی حامی ہے۔
تعمیر وترقی کا ہر راستہ امن سے ہوکر گزرتا ہے۔ سی پیک کی شکل میں جنوبی ایشیا کے ممالک کو ایسا موقعہ مل چکا جس سے فائدہ اٹھا کر وہ باہمی تنازعات کو عارضی طور پر ہی سہی فراموش کرتے ہوئے بہتری کے راستے تلاش کرسکتے ہیں۔ اس پس منظر میں نریندرمودی کا گجرات میں بی جے پی کو الیکشن ہروانے کے لیے پاکستان پر الزام عائد کرنا افسوسناک کے علاوہ تشوشیناک بھی ہے۔اس پس منظر میں یہ مطالبہ غلط نہیں کہ مودی کی ہرزہ سرائی پر قیام امن کے زمہ دار عالمی اداروں کو بھی نوٹس لینا چاہے تاکہ بھارتی وزیراعظم کے جارحانہ عزائم کو بروقت ناکام بنایا جاسکے۔

Scroll To Top