بات منکرین کی 27-7-2012

kal-ki-baat

ہم جس عظیم دینی اخلاقی اور سیاسی ورثے کے امین ہیں اس میں ایک عام مزدور کے ہاتھ اور مقتدر حاکم کے ہاتھ میں کوئی فرق نہیں۔ اگر جرم دونوں کا ایک جیسا ہو تو دونوں کے ہی ہاتھ کاٹے جائیں گے۔
ایک ہاتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ” مجھے استثنیٰ حاصل ہے“۔
خدا نے اپنے تمام بندوں کے لئے قانون ایک ہی بنایا ہے۔
اگر بندوں کے لئے الگ الگ قوانین بنائے جاتے ۔ امیروں کے لئے ایک قانون اور غریبوں کے لئے دوسرا۔ بادشاہ کے لئے ایک قانون اور ایک شہری کے لئے دوسراہوتا ۔ تو پھر محمد ﷺ کے خدا کو انصاف کرنے والا خدا کون کہتا ۔ ؟
یہ بات میں نے اُس ریمارک کے حوالے سے لکھی ہے جس میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو استثنیٰ نہیں دیا ` صدر کو بھی نہیں دیں گے۔
سوال یہاں یہ نہیں اٹھتا کہ استثنیٰ دینا درست ہے یا غلط یا استثنیٰ کا حقدار کون ہے اور کون نہیں ` سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ ” جس شخص کے پاس اپنا کوئی دفاع نہ ہو اور اسے قانون سے بچنے کے لئے استثنیٰ کی ڈھال درکار ہو کیا وہ شخص ایک اسلامی ریاست میں صدر یا وزیراعظم بن سکتا ہے ۔؟؟“
جو لوگ اس ضمن میں پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں انہیں یہ بھی سوچ لینا چاہئے کہ خدا ` قرآن اور رسول سے ٹکرانے والی پارلیمنٹ کا انجام ایک اسلامی ملک میں کیا ہوسکتا ہے۔
جارج بش نے کہا تھا ۔ ” جو ہمارے ساتھ نہیں وہ ہمارے خلاف ہیں ۔“
کیا ہم یہ نہ کہیں کہ ” جو قرآنی تعلیمات کو نہیں مانتے وہ خدا کے منکر ہیں ؟“

Scroll To Top