اس نظام کے تحت ہونے والے انتخابات مزید تباہ کن ثابت ہوں گے

aaj-ki-bat-logo

بات انتخابات کی ہورہی ہے۔۔۔ انتخابات قبل از وقت ہوں یا وقت پر ہوں۔۔۔ یا پھر کچھ مدت کے بعد ہوں۔۔۔ اگر انتخابات اسی نظام اور ایسے ہی اداروں کی نگرانی میں ہوئے تو اُن کے نتائج سے عمران خان کے نئے پاکستان کی جانب نکلنے والا راستہ شاید بہت ہی زیادہ دشوار گزار ہو۔۔۔1973ءکے آئین میں جو ترامیم ہوچکی ہیں ان کے خوفناک نتائج ہمارے سامنے آچکے ہیں۔۔۔2013ءکے انتخابات نے پنجاب شریف فیملی کو دے دیا۔۔۔ سندھ بھٹو زرداری خاندان کے حوالے کردیا اور کے پی کے عمران خان کے سپرد کردیا۔۔۔ جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے وہاں اگرچہ کنٹرول نون لیگ کا نظر آتا ہے لیکن قوم پرستوں کو خاصی سپیس دی گئی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی کا تقریباً پورا خاندان اقتدار کی برکات میں شریک ہے۔۔۔

مرکز نوازشریف کے پاس ہے۔۔۔ اور مرکزکا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔۔۔ وفاقی حکومت نے ملک کو قرضوں کے کمر توڑ بوجھ کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔۔۔ اگر بجلی دی ہے تو جس قیمت پر دی ہے اسے ادا کرنا دیانت دار صارفین کے بس سے باہر ہوگا۔۔۔
کیا اگلے انتخابات ایسے نتائج کے حامل ہوں گے جو بڑے فیصلے کرنے والے سیٹ اپ کے قیام میں معاون ہوں۔۔۔؟
مجھے ایسی کوئی صورت نظر نہیں آرہی کہ موجودہ سسٹم کے اندر رہ کر ایسے انتخابات ہو سکیں گے جو ایک نئی صبح کے پیامبربن سکیں۔۔۔ الیکشن کمیشن یہی ہوگا ۔۔۔ آر اوز بھی ویسے ہی ہوں گے ۔۔۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے ایک اصطلاح ” بدمعاشیہ “ ایجاد کررکھی ہے جسے اس سے پہلے ” اشرافیہ “ کا نام دیا جاتا تھا یہ ” اشرافیہ “ یا ” بدمعاشیہ “ پورے نظام میں کچھ اس مضبوطی کے ساتھ پنجے گاڑے ہوئے ہے کہ جب بھی اس کے ” بڑے “ اخبارات میں نئے پاکستان کی آمد کے بارے میں بیانات پڑھتے ہوں گے تو خوب دل کھول کر ہنستے ہوں گے ۔۔۔
جب تک اس ” بدمعاشیہ “ کی کمر توڑی نہیں جاتی ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔۔۔ اور جب تک موجود آئین اپنی اسی شکل میں موجود ہے `اس ” بدمعاشیہ “ کے پنجے ہمارے قومی وجود میں گڑے رہیںگے۔۔۔ آج جہاں ہم کھڑے ہیں اس مقام اور آئندہ کے انتخابات کے درمیان ہمیں ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جس کا خمیر اِس نظام سے نہ اٹھا ہو۔۔۔ جس کے اکابرین کا اِس ”بدمعاشیہ “ کے ساتھ کوئی رشتہ نہ ہو۔۔۔ اور جو ایک ایسی جمہوریت کے لئے راستہ ہموار کرنے کے لئے بڑے فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے اور کرانے کا اختیار رکھتے ہوں جو حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندہ ہو اور جس کی رگ رگ میں قانون کا احترام رچا بسا ہو۔۔۔

Scroll To Top