اقتدار کی جنگ اور پاکستان کا مستقبل 12-7-2012

kal-ki-baatآج سپریم کورٹ آف پاکستان میں دو انتہائی اہم کیس زیر سماعت ہوں گے۔ ایک کیس این آر او پر عملدرآمد کا ہے جس میں نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف عدالت کو بتائیں گے کہ وہ این آر او کے فیصلے کے مطابق سوئس حکام کو مطلوبہ نوعیت کا خط لکھیں گے یا نہیں۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ وہ خط لکھنے پر آمادگی کا اظہار کریں گے۔ اگر اس بات کا ذرا برابر بھی ارادہ ہوتا تو حکومت اتنی عجلت میں اتنی ساری قانونی سازی کرانے کے لئے سرگرم عمل نہ ہوجاتی اور عدلیہ کے ساتھ براہ راست تصادم کی فضا پیدا نہ کی جاتی۔ سو فیصد یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ نئے وزیراعظم بھی سابق وزیراعظم والا ہی موقف اختیار کریں گے اور کہیں گے کہ وہ عدلیہ کا پورا احترام کرنے کے باوجود آئین کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے اور چونکہ آئین صدر مملکت کو استثنیٰ کی سہولت فراہم کرتا ہے ‘ اس لئے ان کے استثنیٰ پر ذرابرابر بھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ عدلیہ اس بات پر توہین عدالت کی کارروائی کرتی ہے یا توہین عدالت کے نئے بل کے ” احترام “ میں کوئی کارروائی نہیں کرتی اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
دوسرا کیس آج میمو گیٹ کے حوالے سے پیش کی جانے والی اس رپورٹ کا ہے جس میں ایک اعلیٰ عدالتی کمیشن نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور صدر زرداری کے دستِ راست جناب حسین حقانی کو ” متنازعہ “ میمو کا خالق قرار دے دیا ہوا ہے۔ اس کیس میں ایک طرف میاں نوازشریف فریق ہیں تو دوسری طرف آرمی چیف جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی جنرل پاشا یہ حلف نامہ عدالت میں داخل کرچکے ہیں کہ ان کے خیال میں متنازعہ ” میمو“ میں ایسا مواد موجود ہے جو براہِ راست پاکستان کی سکیورٹی سے تعلق رکھتا ہے اور جس کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں کیس جیسے جیسے آگے بڑھیں گے پاکستان میں اس وقت اقتدار کی کشمکش اور طالع آزمائی کا جو کھیل کھیلا جارہا ہے ’ اس میں بڑی نتائج آفرین پیش رفت ہوگی۔
ایک طرف صدر زرداری اپنی سیاسی بقاءاور دوامِ اقتدار کے لئے تمام ممکنہ ہتھکنڈے استعمال کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں ’ اور دوسری طرف پاکستان کا مستقبل ہے۔ جو سوال ہر ذی ہوش شخص کی زبان پر ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں ۔ ” کیا گزشتہ چا ر سال کی حکومتی کارکردگی کا تسلسل ملک کے عوام کے لئے اچھی خبر ہوگا ؟“

Scroll To Top