اس حکومت کو راہِ راست پر لانے کا اور کون سا راستہ ہے؟

aaj-ki-bat-logo

عمران خان کا قافلہ روز بروز زیادہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ گذشتہ دنوں علامہ طاہر القادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے تقریباً تمام بڑی پارٹیوں کے رابطے ہوئے۔ خاص طور پر آصف علی زرداری کی علامہ سے ملاقات کو بڑی اہمیت دی گئی۔اس موقع پر زرداری صاحب نے گول مول انداز میں اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ وقت آنے پر وہ علامہ کے ساتھ نہ صرف یہ کہ سڑکوں پر نکلیں گے بلکہ ضرورت پڑی تو دوسرے آپشنز پر بھی عمل کریں گے۔
ان باتوں سے یہ تاثر ابھر ا کہ شاید کوئی بڑا سیاسی اتحاد بن رہا ہے جو مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو گرانے کے لئے میدانِ عمل میں آئے گا۔یہ تاثر درست ہے یا غلط اس کے بارے میں میں کچھ بھی نہیں کہوں گا۔ پاکستان کے سیاستدانوں کے بیانات کو اہمیت صرف وہ لوگ دیتے ہیں جو ان کے ماضی سے واقف نہیں۔ہمارے سیاستدانوں کو قلابازی کھانے کے لئے صرف ایک چھوٹے سے جواز کی ضرورت ہوتی ہے۔آج زرداری صاحب ماڈل ٹاو¿ن کے شہیدوں کے قاتلوں کو سزا دلوانے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں، کل وہ یکا یک یہ بیان بھی دے سکتے ہیں کہ انہیں کوئی بھی مقصد جمہویت سے زیادہ عزیز نہیں اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ جمہوریت کو اگر کندھا نہ دیا گیا تو اس کا قائم رہنا مشکل ہو جائے گا۔
جمہویت کے ساتھ وابستگی کا اظہار ہمارے ”تقریبا“ تمام سیاستدان کرتے ہیں۔ خاص طور پر وہ سیاستدان جنہیں جمہوریت نے امارت اور دولتمند ی کی بلندیوں تک پہنچا دیا اور جو جانتے ہیں کہ ان کی بقاءاور ان کی بے انداز دولت کا تحفظ موجودہ نظام کی بقاءاور تسلسل کے بغیر ممکن نہیں۔
جیسا عشق جمہوریت سے ہمارے سیاستدانوں کو ہے اس سے ذرا مختلف قسم کا عشق ہمارے ٹی وی اینکرز کو سیاست کے” تقدس“ کو دین کی” آلودگی“ سے دور رکھنے کی ضرورت سے ہے۔
میں گذشتہ چند روز سے دھرنوں کی سیاست کے خلاف خاصی آوازیں بلند ہوتی سن رہا ہوں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ گذشتہ دو دھرنے دین سے وابستہ جماعتوں اور گروہوں نے دیئے ہیں۔
یہ درست ہے کہ فیض آباد دھرنے جیسے ا©حتجاج دو اہم شہروںکی زندگی کو مفلوج کر سکتے ہیں مگر صرف اس وجہ سے اس قسم کے احتجاج کی مخالفت کرنا کہ اس کے شرکاءکی شناخت داڑھی اور دین سے ہوتی ہے بیمار ذہنیت کی نشان دہی کرتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو حکومت عدلیہ کو گالیاں دے رہی ہو۔ ملک وقوم کی آزادی کے محافظوں کو تضحیک و تمسخر کا نشانہ بنا رہی ہو ۔۔۔ جس نے دین (اسلام ) کے حوالے سے ایک شرانگیز آئینی ترمیم کرنے کی دانستہ منصوبہ بندی کی ہو۔۔۔ اُس حکومت کو راہِ راست پر لانے کا اور کیا راستہ ہے۔۔؟میں ان اینکر پرسنز سے کم پڑھا لکھا نہیں ہوں جو بڑے زور و شور سے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ” چند سو مولویوںکو کیسے یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے مطالبات منوانے کے لئے ملک کے نظم و نسق کو یر غمال بنا لیں۔؟“
اگر معاملہ ”ختم نبوت“ کا نہ ہوتا تو میں اس قسم کے افسوسناک دلائل پر خاموش رہتا لیکن ”ختم نبوت“ ہمارے دین اور ہمارے ایمان کا بنیادی ”جُز“ ہے۔
اس حکومت کو راہِ راست پر لانے کا اور کون سا راستہ ہے؟

Scroll To Top