مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhootمصنف۔۔ غلام اکبر
11-12-2017
قسط :35۔۔ ”


یہ ایک ایسے آمر کا اعترافِ شکست تھا جسے اقتدار سے بے پناہ محبت تھی لیکن اتنی ہی محبت اپنے ملک سے بھی تھی وہ تمام نفرتیں جو میرے دل میں ایوبی آمریت کے خلاف پروان چڑھتی رہی تھیں، ایوب خان کے اس اعترافِ شکست کے سامنے دم توڑ گئیں۔
لیکن بھٹو کے سیاسی عزائم افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنے کیلئے تیار نہیںتھے۔
اصغر خان کی زیرِ قیادت چلنے والی عوام تحریک کے نتیجے میں بھٹو کو رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد بھٹو نے پہلا کام یہ کیا کہ ایوب خان کے خلاف اجتماعی قیادت کا حصہ بننے کی بجائے اس نے اپنی پارٹی کو الگ کر دیا۔ اصغر خان کو وہ محض اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ مگر یہ بات اسے گوارہ نہیں تھی کہ اصغر خان کو قومی سیاست میں بالادستی حاصل ہو جائے۔ حالات نے اصغر خان کو اتنے بڑے قد کا قومی لیڈر بنا دیا تھا اب اس قدکو گھٹانے کی ضرورت تھی۔
بھٹو جانتا تھا کہ اگر ایوب خان کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا موقع دیا گیا تو مسائل واقعی حل ہو جائیں گے اور اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے اسے جس سیاسی خلا کی ضرورت تھی وہ پیدا نہیں ہو سکے گا۔ یہ سیاسی خلاءصرف اس طرح پیدا ہو سکتا تھا کہ ایوب خان فوری طور پر الگ ہو جائیں یا انہیں الگ کر دیا جائے۔
چنانچہ بھٹو نے عوام کے جذبات سے کھیلنے کی پالیسی جاری رکھی اور اصغر خان اور دوسرے اپوزیشن لیڈروں کو بھی مجبور کیا کہ یا تو وہ ایوب خان کے بارے میں نرم رویہ اختیار کر کے اپنی سیاسی موت قبول کر لیں، یا پھر ویسا ہی سخت رویہ اختیار کریں جیسا بھٹو نے اختیار کر رکھا تھا۔
بھٹو کہہ رہا تھا کہ آمریت کے خلاف عوام کی جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایوب خان کو اقتدار سے الگ ہونے پر مجبور نہیں کر دیا جاتا۔اور ہم جو بھٹو کو اپنی قومی امنگوں کا نقیب تصور کرتے تھے اس کی باتیں سن کر یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ آمریت کے خلاف جنگ کو واقعی فیصلہ کن فتح تک جاری رہنا چاہیئے۔ اگر ایوب خان واقعی پُرخلوص ہیں توہ وہ فوری طور پر اقتدار سے ہٹنے کے لئے کیوں تیار نہیں۔ ہم یعنی میں اور میرے لاکھوں ہم وطن بھٹو کی جوشیلی باتوں میں آکر یہ بھول گئے کہ اقتدار کی کرسی خالی نہیں رہ سکتی۔ اگر ایوب خان فوری طور پر یہ کرسی خالی کردیں تو اسے پُر بھی فوری طور پر کرنا ہوگا اور اسے فوری طور پر پُرکرنے کا کوئی ایسا طریقہ کار نہیں تھا جو آئینی بھی ہو اور عوام کی خواہشات کے مطابق بھی ہو۔
آج جب میں اس دور کا جائزہ لیتا ہوں تو بھٹو کی حکمتِ عملی پوری طرح سمجھ میں آتی ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے نظامِ حکومت پر اتفاق رائے ہو جائے اور اقتدار کی منتقلی کا آئینی طریقہ طے پا جائے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ جو سیاسی بحران اس نے اتنی محنت سے پیدا کیا تھا وہ اس کی ہوسِ اقتدار کے لئے سازگار حالات پیدا کئے بغیر ختم ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ایوب خان کی گول میز کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا اور یہ پیشگی شرط رکھی کہ شیخ مجیب الرحمان کو رہا کر کے اسے بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے۔ اس کا اندازہ تھا کہ ایوب خان یہ شرط منظور نہیں کریں گے۔کیوں کہ یہ وہ مسئلہ تھا جس کے بارے میں ایوب خان کے احساسات بڑے شدید تھے ۔ لیکن ایوب خان نے ملک کے وسیع تر مفاد کی خاطر اس مسئلے پر بھی اپنی انا کو قربان کر دیا اور شیخ مجیب الرحمان کو رہا کر کے گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلام آباد لا گیا ۔
اگر بھٹو کی جدوجہد جمہوریت کے لئے ہوئی تو بات چیت کے ذریعے جمہوریت کی بحالی کا راستہ پوری طرح ہموار ہو چکا تھا۔ مگر اس کی منزل مسندِ اقتدار تھی اور اس منزل تک پہنچنے کے لئے ضروری تھا کہ سیاسی بحران کے آئینی حال کے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں اور ان جنرلوں کو مداخلت کا بہانہ مل جائے۔ جنہیں اپنے اشاروں پر نچانا بھٹو کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔
بھٹو نے سوچا ہوگا۔”جنرل یحییٰ خان کے اگر اپنے عزائم ہوئے تو بھی مارشل لاءکی حکومت جلد یا بدیر عام انتخابات کرانے پر مجبور ہو جائے گی۔ مغربی پاکستان میں عوامی طاقت میرے ساتھ ہے اور مشرقی پاکستان میں عوامی طاقت شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ ہے ان دو طاقتوں کا اجتماعی دباو¿ یحییٰ خان کو انتخابات کرانے پر مجبور کر دے گا اور پھر میں اپنے حامی جنرلوں کی حمایت سے شیخ مجیب الرحمان پر فیصلہ کن برتری حاصل کر لوں گا۔ یہ جنرل اقتدارِ اعلیٰ مشرقی پاکستان کے حوالے کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوں گے اور شیخ مجیب الرحمان کے سامنے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا کہ اسلام آباد کو بھول جائے اور صرف ڈھاکہ پر قناعت کرے۔“
بھٹو کی یہ حکمت ِ عملی کامیاب ثابت ہوئی اور اس کی کامیابی نے پاکستان پر تباہی کے دروازے کھول دیئے۔
سقوطِ مشرقی پاکستان کے المیے کے بعد میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کے شیخ مجیب الرحمان سے بڑی قریبی تعلقات رہ چکے تھے اس شخص نے مجھے بتایا کہ یحییٰ خان کے مارشل لاءکے نفاذ سے قبل شیخ مجیب الرحمان نے خفیہ طور پر ایوب خان سے رابط قائم کیا تھا اور انہیں خبردار کیا تھا کہ کچھ جنرل انہیں اقتدار سے ہٹانے کی سازش کر رہے ہیں۔ شیخ مجیب الرحمان نے ایوب خان کو مشورہ دیا تھا کہ اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے وہ حق بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات کرانے کا یک طرفہ طور پر اعلان کر دیں۔ شیخ مجیب الرحمان نے یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ عوامی لیگ اس اقدام کی مکمل حمایت کرے گی اور ایوب خان کو کسی بھی مخالفت کی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔
(جاری ہے)

Scroll To Top