مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhootمصنف۔۔ غلام اکبر

10-12-2017

قسط :34۔۔ ”


کاش کہ اصغر خان کو اس وقت معلوم ہوتا کہ جس بھٹو کی حمایت میں وہ میدانِ سیاست میں کودے ہیں اس کے منصوبوں میں مشرقی پاکستان کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ کاش کہ اس وقت اصغر خان کو علم ہو جاتا کہ بھٹو کا مقصد جمہوریت کا قیام نہیں، ایوبی حکومت کا خاتمہ ہے۔ تا کہ اس ہوسِ اقتدار کی تکمیل کے لئے راستہ صاف ہو سکے۔ کاش کہ اس وقت اصغر خان یہ جان جاتے کہ جس پاکستان کی سا لمیت کے لئے وہ آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام کی جدوجہد شروع کرنے والے ہیں اس پاکستان کی سا لمیت ہی بھٹو کے سیاسی عزائم کی راہ میں سب سے بڑی چٹان ہے اور اس چٹان کو ہٹانے کے لئے وہ جمہوریت کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا منصوبہ تیار کر چکا ہے۔
یہ بات طے شدہ ہے کہ اصغر خان شروع سے ہی بھٹو کو ناپسند کرتے تھے اور ممکن ہے کہ بھٹو کے متعلق کچھ شکوک و شبہات ان کے ذہن میں اس وقت بھی ہوں جب انہوں نے جمہوری نظام کے قیام کے لئے قومی سیاست میں پہلا قدم رکھا، لیکن اس بات کا تصور وہ بھی نہیں کر سکتے تھے کہ بھٹو اپنی ہوسِ اقتدار کی تکمیل کے لئے پاکستان کی سا لمیت تک داو¿ پر لگا دے گا۔
اگر میرا مقصد پاکستان کی تاریخ مرتب کرنا ہوتا تو اس عوامی تحریک کے تمام واقعات قلمبند کرتا جس کا آغاز بھٹو نے پشاور سے کیا تھا اور بھٹو کی گرفتاری کے بعد جسے اصغر خان نے ایوبی آمریت کی بنیادیں ہلا دینے والے طوفان کا روپ عطا کر دیا ۔ اس تحریک کے دوران اصغر خان اتنے بڑے قومی رہنما کی حیثیت سے ابھرے کہ جو کچھ بھٹو نے برسوں کی جامع منصوبہ بندی سے حاصل کیا تھا۔ اصغر خان کو چند ہی دنوں میں حاصل ہوگیا۔ وہ جہاں بھی گئے ان کا فقیدالمثال استقبال کیا گیا۔ عوام نے ان پر عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔ عوامی حوصلوں کو نیا عزم ملا اور نئی قوت عطا ہوئی بھٹو نے ایجی ٹیشن کے لئے مزدوروں اور طلباءپر مشتمل طاقت کا جو ڈھانچہ تیار کر رکھا تھا وہ ایک دم حرکت میں آگیا۔ جلوسوں اور مظاہروں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا اور پولیس امن عامہ قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ہونے لگی۔ اصغر خان پر ہاتھ ڈالنا ایوب خان کے دائرہ اختیار سے باہر نظر آتا تھا۔ ابتداءمیں ایوب خان کو شاید یہ خوش فہمی تھی کہ عوام کے صرف چند طبقات ان کے خلاف ہیں اور باقی عوام اس ترقی وخوش حالی کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں جو ان کے دس سالہ دورِ حکومت میں ہوئی تھی اور ایک بہت بڑی اکثریت ان کے اقتدار کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اب ان کے سامنے دو ہی راستے تھے ایک تو یہ کہ ایجی ٹیشن کو کچلنے کے لئے وحشیانہ قوت استعمال کریں اور دوسرا راستہ یہ تھا کہ رائے عامہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی کوئی باعزت صورت تلاش کر یں۔ اگر ایوب خان کی جگہ بھٹو ہوتا تو پہلا راستہ اختیار کرتا اور ملک کے چپے چپے کو ”سرکش“ عوام کے خون سے نہلا دیتا، لیکن ایوب خان اپنی تمام ترکمزوریوں اور برائیوں کے باوجود محب وطن تھے۔ انہوں نے اپنی ہوسِ اقتدار کو ملک دشمنی کی سرحدوں تک پہنچنے نہ دیا اور قومی سیاست سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا۔
ایوب خان کی وہ تقریر اب بھی میرے ذہن میں گونج رہی ہے جو ریڈیو پر نشرہوئی تھی اور جس میں انہوں نے عوام کی خواہشات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تھا۔
اس تقریر میں ایوب خان نے کہا۔
” میں نے پورے خلوص کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کرنے کی کوشش کی میں نے جس نظامِ حکومت کو رائج کیا وہ میرے خیال میں جمہوری بھی تھا اور سیاسی استحکام اور ملکی سا لمیت کی ضمانت بھی دیتا تھا۔ لیکن عوامی خواہشات کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں موجود آئین میں ایسی تبدیلیاں کرنے کے لئے تیار ہوں۔ کہ آئندہ عام انتخابات حقِ بالغ رائے دہی یعنی ایک فرد۔ ایک ووٹ کی بنیاد پر منعقد کئے جائیں۔ البتہ یہاں میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں صدارتی نظام کو ترک نہیں کرنا چاہیئے کیوں کہ یہی نظام میری رائے میں قوم کے بہترین مفادات کے مطابق ہے۔ اس مسئلہ پر میں اپوزیشن کے تمام لیڈروں سے بات چیت کرنا چاہتا ہوں ۔ جو معاملات بات چیت کے ذریعے طے کئے جا سکتے ہیں ان کے لئے ایجی ٹیشن، مظاہروں اور توڑ پھوڑ کا راستہ اختیار کرنا ملک کے مفاد میں نہیں۔ میرا واحد مقصد ملک کو تباہی اور انتشار سے بچانا ہے اور آپ کو اپنے خلوص اور اپنی نیک نیتی کا یقین دلانے کے لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں آئندہ عام انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا۔“
(جاری ہے)

Scroll To Top