تاریخ اسلام

جلد دوم

تاریخ اسلام

مہدی کے عہد خلافت یعنی 163ھ میں قریباً 77 سال کی عمر میں خالد کا انتقال ہوا۔ اس کی آخری آدھی عمر سلطنتوں کے بننے اور بگڑنے کا تماشا دیکھنے میں صرف ہوئی تھی اور وہ خود سلطنتوں کو برباد کرنے اور نئی سلطنت قائم کرنے کے کام میں شریک غالب کی حیثیت سے کام کر چکا تھا۔ اس کی وفات کے وقت اس کے بیٹے یحییٰ کی عمر 45 یا 50 سال کی تھی‘ اور اس نے بھی ہوش سنبھالتے ہی یہ تمام تماشے اور ہنگامے دیکھے تھے۔ وہ اپنے باپ سے اس کے تمام عزائم‘ تمام خیالات‘ تمام خواہشات‘ تمام احتیاطیں ورثہ میں پا چکا تھا۔ وہ اپنے باپ دادا کی بربادی‘ اپنے خاندانی احترام‘ ایرانی شہنشاہی کے افسانے نہایت عقیدت و حسرت کے ساتھ سن چکا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ایرانی قوم کا نمائندہ اور پیشوا سمجھتا اور اس بات کو بخوبی جانتا تھا کہ ایک ذرا سی لغزش پا اس رسوخ کو جو خلافت اسلامیہ میں حاصل ہے ضائع کر کے تحت الثریٰ میں پہنچا سکتی ہے۔ دوسری طرف اس کو اور اس کے باپ کو خاندان خلافت کے اندرونی اور خاندانی معاملات میں بھی دخل تھا۔ صحبت مدام نے اس کے قلب کو رعب سلطنت کے بوجھ سے چور چور اور مرعوب ہونے سے بھی بچا لیا تھا۔
خالد بن برمک نے سب سے بڑا کام اور نہایت گہری تدبیر یہ کی تھی کہ 161ھ میں مہدی کو مشورہ دیا کہ شہزادہ ہارون الرشید کا اتالیق یحییٰ کو بنایا جائے۔ مہدی چونکہ خود خالد کی اتالیقی میں رہ چکا تھا لہٰذا اس نے اپنے بیٹے کو خالد کے بیٹے کی تالیقی میں سپرد کرنا بالکل بے ساختہ چیز سمجھا۔ اس سے بھی پہلے جبکہ ہارون الرشید بمقام رے خیز ران کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا تو خالد مہدی کے ساتھ رے میں موجود تھا۔ خالد ہی نے ہارون الرشید کو یحییٰ کی بیوی کا اور اپنے پوتے یعنی یحییٰ کے بیٹے فضل کو خیز ران کا دودھ پلوا کر فضل اور ہارون کو دودھ شریک بھائی بنوایا تھا۔ خالد کی ان تمام تدابیر کو اگر بنظر غور دیکھا جائے تو اس نے نہایت ہی خوبی کے ساتھ اپنے خاندان کی پوری پوری حفاظت کر لی تھی کیونکہ وہ ایک نہایت عظیم الشان کام انجام دینا یعنی ابو مسلم کا بدلہ لے کر ایرانیوں میں حکومت و سلطنت کو واپس لانا چاہتا تھا۔
یحییٰ بن خالد نے ہارون کو تعلیم و تربیت کیا تھا‘ اس نے ہارون پر یہاں تک اپنا اثر قائم کر لیا تھا کہ ہارون تخت خلافت پر متمکن ہونے کے بعد بھی یحییٰ کو پدر‘ بزگروار ہی کہہ کر مخاطب کرتا تھا اور اس کے سامنے بے تکلفانہ گفتگو کرتا ہوا شرماتا تھا۔ خلیفہ ہادی کا عہد خلافت کسی طرح بھی خاندان برمک کے منصوبوں کے موافق نہ تھا اور ہادی پر یحییٰ کا کوئی اثر بھی نہ تھا۔ اگر تھا تو صرف اسی قدر کہ وہ متوسلین میں سے ایک تھا۔ لیکن یحییٰ نے وہ تدابیر اختیار کیں کہ ہادی کی حقیقی ماں خیز ران اپنے بیٹے ہادی کی دشمن بن کر اس کی جان کی خواہاں ہو گئی اور یحییٰ دخیز ران نے مل کر جلدی ہی اس کا کام تمام کر دیا‘ اور سال بھر سے زیادہ اس کو حکومت کا موقعہ نہ مل سکا۔ ہارون کی تخت نشینی کے لیے یحییٰ کا کوشش کرنا ظاہر ہے کہ خود اپنی ہی ذات کے لیے کوشش کرنا تھا۔
ہارون نے خلیفہ ہوتے ہی جیسا کہ توقع تھی یحییٰ بن خالد کو وزیراعظم اور مدار المہام خلافت بنا دیا۔ یحییٰ ایسا بے وقوف نہ تھا کہ ہارون کی ماں خیزران کو ناراض رکھتا۔ اس نے ہر ایک کام خیزران کے مشورہ سے کرنا شروع کیا۔ یعنی اپنی ہر ایک تجویز کے لیے پہلے خیزران سے مشورے لیتا تھا۔ چند روز کے بعد خیزران فوت ہو گئی اور یحییٰ کو اس تکلف کی بھی ضرورت باقی نہ رہی۔ یحییٰ نے امور خلافت اور مہمات سلطنت میں اس انہماک‘ دل سوزی اور خوبی سے کام کیا کہ ہارون الرشید کے دل میں یحییٰ کی عزت اور محبت بڑھتی چلی گئی۔ یحییٰ نے یہ بھی احتیاط رکھی کہ ہارون کی آزاد مرضی اور دلی خواہش میں کسی مقام پر بھی یحییٰ کا اختیار سد راہ محسوس نہ ہونے پائے۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ یحییٰ کا کام صرف ہارون کی خواہش اور منشاءکو کامیاب بنانے کی سعی بجا لانا ہے اور بس۔
لیکن یحییٰ نے جو سب سے بڑا کام کیا وہ یہ تھا کہ اس نے غیر محسوس طریقے پر اپنے خاندان والوں‘ اپنے بھائیوں‘ بھتیجوں اور اپنے ہم خیال ایرانیوں کو ذمہ داری کے عہدوں‘ اہم ولایتوں کی حکومتوں اور فوجوں کی سرداریوں پر مامور و مقرر کرنا شروع کیا۔ اپنے بیٹوں فضل و جعفر وغیرہ کو اس نے ہارون الرشید کا بھائی بنا ہی دیا تھا‘ ہارون بھی یحییٰ کے بیٹوں کو اپنا بھائی کہتا اور انھیں سب سے زیادہ اپنا عزیز و رفیق جانتا تھا۔ اپنے بیٹوں کو ہارون نے فضل و جعفر کی اتالیقی میں دے دیا تھا۔ 174ھ میں جب کہ یحییٰ بوڑھا اور ضعیف ہو گیا تھا ہارون نے اس کے بیٹے فضل کو مہمات وزارت میں اس کا مددگار و شریک بنا دیا تھا۔
جب یحییٰ بن عبداللہ نے 176ھ میں دیلم میں خروج کیا ہے تو فضل بن یحییٰ ہی نے اس مہم کو طے کیا تھا۔۔۔۔۔ اور یحییٰ بن عبداللہ کے لیے جاگیر مقرر کرائی تھی۔ چند روز کے بعد ہارون نے یحییٰ بن عبداللہ کو جعفر بن یحییٰ ہی کے سپرد کر دیا کہ اپنے پاس نظر بند رکھو۔ فضل کو ہارون نے 178ھ میں خراسان و طبرستان ورے و ہمدان کا گورنر بھی بنا دیا تھا۔ فضل بن یحییٰ کو ہارون نے اپنے بیٹے امین کا اتالیق بنایا تھا۔ یحییٰ نے اپنی گورنری خراسان کے زمانہ میں پانچ لاکھ ایرانیوں کی ایک نہایت زبردست اور آراستہ فوج تیار کی۔ مگر ایک ہی سال کے بعد 179ھ میں ہارون نے اس کو خراسان سے بلا کر مستقل وزیراعظم بنا دیا۔ مگر یحییٰ سے اہم معاملات میں ضرور مشورہ لیا جاتا تھا۔ یعنی وہ بھی بدستور مہمات سلطنت میں دخیل رہا۔
یحییٰ کا دوسرا بیٹا جعفر ہارون الرشید کا مصاحب خاص اور نہایت بے تکلف دوست تھا۔ ہارون سفر و حضر میں اس کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ جعفر نہایت خوش مزاج اور سلیقہ شعار تھا۔ 176ھ میں جعفر کو محلات شاہی کی داروغگی کے علاوہ ملک مصر کی گورنری بھی عطا ہوئی تھی۔ جعفر نے اپنی طرف سے مصر کی حکومت پر عمران بن مہران کو روانہ کر دیا تھا اور خود ہارون کی خدمت میں رہتا تھا۔ 180ھ میں دمشق و شام میں فسادات پیدا ہوئے تو جعفر ہی نے جا کر ان کو فرو کیا۔ پھر ہارون نے جعفر کو خراسان کی گورنری عطا کی۔ مگر ایک مہینہ بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ خاص بغداد کی حکومت و کوتوالی اس کے سپرد کی۔ جعفر نے یہ کام ہرثمہ بن اعین کے سپرد کیا اور خود بدستور ہارون الرشید کا مصاحب رہا۔ ہارون الرشید نے یحییٰ بن خالد کو بلا کر کہا کہ آپ فضل سے کہہ دیں کہ وہ قلم دان وزارت جعفر کے سپرد کر دیں کیونکہ مجھ کو فضل سے یہ کہتے ہوئے شرم آتی ہے کہ وہ وزارت کا کام جعفر کو سپرد کر دیں۔ چنانچہ یحییٰ نے فضل سے ہارون کا منشاءظاہر کیا اور جعفر وزیراعظم ہو گیا۔ اس بات سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس خاندان کا ہارون پر کس قدر قوی اثر تھا۔
جعفر بن یحییٰ نے اپنے عہد وزارت میں سلطنت کے تمام عہدوں اور تمام صیغوں پر اس طرح تسلط جما لیا کہ حقیقتاً وہی سلطنت کا مالک اور اصل فرمانروا سمجھا جانے لگا۔ بغداد کی تمام پولیس بغداد کے بڑے بڑے محلات سب اس کے قبضہ میں تھے۔ ولایتوں کے عامل‘ صوبوں کے گورنر فوج کے افسر سب اسی کے آوردے تھے۔ خزانہ کا وہی مالک و مہتمم تھا۔ حتیٰ کہ ضرورت کے وقت ہارون الرشید کو جعفر ہی سے روپیہ مانگنا پڑتا تھا۔ یحییٰ بن خالد کے اور بھی کئی بیٹے تھے جو بڑی بڑی فوجوں کے افسر تھے۔ اپنے ان اختیارات اور اقتدار سے یحییٰ اور اس کے بیٹوں نے نہایت خوبی کے ساتھ فائدہ اٹھایا یعنی انھوں نے بڑی بڑی جاگیروں اور وظیفوں کی آمدنی کے علاوہ خزانہ سلطنت کے روپیہ کو بھی سخاوت اور داد و دہش میں بے دریغ خرچ کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی سخاوت حاتم کی طرح مشہور ہو گئی۔
(جاری ہے)

Scroll To Top