غداروں کا نشیمن

تحریر ۔ غلام اکبر

” میں تمہارا مطلب نہیں سمجھی ؟ “
” میرا مطلب یہ ہے کہ موت سے کھیلنا ہماری زندگی ہے ۔ نجانے کب اس کھیل میں کیا ہو جائے ؟ “
” تمہاری زبان سے اس قسم کی باتیں عجیب سی لگ رہی ہیں “
” مجھے یاد نہیں کہ کتنی بار میں موت کے منہ سے نکلا ہوں ۔ ہمیشہ تو قسمت ساتھ نہیں دیتی ۔ “
” تم زندگی سے اچانک اتنی محبت کیسے کرنے لگے ؟ “
” اس سوال کا جواب تمہارے پاس ہے “ یہ کہہ کر اسد نے عذرا کی خوبصورت آنکھوں میں جھانک کر دیکھا ۔ ایک لمحے کیلئے اسے ان آنکھوں میں اپنی ہر خواہش کی تکمیل نظر آئی لیکن پھر اس نے آنکھیں جھکا لیں اور جب وہ بولی تو اس کی آواز میں بڑی خود اعتمادی تھی
” آج دوپہر کا کھانا چن سن کے ساتھ کھا رہے ہو “
یہ ایک جملہ اسد کو حقائق کی دنیا میں واپس لانے کیلئے کافی تھا ۔
” میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ بریگیڈیئر عبداللہ کو سازش کی اطلاع کس نے دی ؟ “
” اس سوال کا جواب تمہیں دوپہر کے کھانے پر ہی ملے گا ۔ اب تم غالباً کرنل مختار کے پاس جاو¿ گے میں ساڑھے بارہ بجے وزارت دفاع کے دفتر کے سامنے تمہاری منتظر ہوں گی “ ۔
” اصل روپ میں یا …. ؟ “
” میں نے سرخ ہیٹ پہن رکھا ہو گا ۔ کار یہی ہو گی ۔ ویسے بھی اب میں آزادی سے گھوم پھر سکتی ہوں ۔ روز کو مجھ پر اعتماد ہے ¾ افگر کو مجھ پر اعتماد ہے اور تمہیں مجھ پر اعتماد ہے اب ڈر کس بات کا ؟ “ عذرا نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
” نجانے کس کا اعتماد درست ہے ؟ “ اسد ٹھنڈی سانس لے کر اٹھا ۔
٭٭٭٭٭
عراقی سیکریٹ سروس کے دفتر میں داخل ہوتے ہی اسد کی ملاقات میجر عبداللہ سے ہوئی۔ اس کی آنکھیں خوشی اور حیرت سے چمک اٹھیں۔
دونوں دوست بڑی گرمجوشی سے گلے ملے۔ میجر عبداللہ مصری سیکریٹ سروس میںاسد کا قریب ترین دوست تھا۔ دونوں نے کئی مہموں میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کیا تھا۔
بغداد میں عبداللہ کی موجودگی اسد کیلئے قطعاً غیر متوقع تھی۔
”تم یہاں کیسے؟“ اس نے عبداللہ کو دونوں بازوﺅں سے پکڑتے ہوئے پوچھا۔
”باس نے صبح سویرے ٹیلیفون پر حکم دیا کہ فوراً بغداد روازنہ ہو جاﺅ۔ میرے لئے گذشتہ دو ماہ میںغالباًسب سے بڑی خوشخبری تھی۔ دفتر میں کام کرتے کرتے بور ہوگیا تھا۔ ایک گھنٹہ پہلے خاص فوجی طیارے میں یہاں پہنچاہوں۔“
”مشن کیا ہے؟“ اسد نے پوچھا۔
”جس مشن پر تم ہو۔ زیادہ تفصیلات مجھے معلوم نہیں۔ باس نے صرف اتنا کہا ہے کہ رات کو بغداد میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن کی وجہ سے اس مشن پر تمہارے ساتھ میری موجودگی بہت ضروری ہے۔“
”تاکہ اگر ایک کاکام تمام ہوجائے تو دوسراکام جاری رکھ سکے۔“ اسد نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”میرے خیال میں ہم دونوں پورے اسرائیل کاکام تمام کرنے کیلئے کافی ہیں۔“ یہ کہہ کر عبداللہ ہنسنے لگا۔
”کرنل مختار سے ملاقات ہوئی؟“
”میں ان کے پاس ہی بیٹھا تھا۔ انہوں نے مجھے تمام واقعات سنائے ہیں۔ لیکن یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ سازش کی اطلاع کس نے دی؟“
”یہ بات فی الحال صرف مجھے معلوم ہے۔“ اسد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
”اور تمہاری معلومات سے میں کب استفعادہ کروں گا؟“ عبداللہ نے پوچھا۔
”جب مجھے یہ یقین ہوجائے گا کہ تم ذہنی اور جسمانی طو رپر اس مہم کے خطرات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہو۔ مجھے یہ خدشہ ہے کہ کہیں دفتری کام نے تمہیں نکمانہ بنادیا ہو۔“
”اس خدشے کا اظہار تم نے دوبارہ کیا توتمہارے جبڑے توڑ کر اپنے چاق وچوبند ہونے کا ثبوت دوں گا۔“ یہ کہہ کر عبداللہ اس انداز میں مکا اسد کی ٹھوڑی کی طرف لایا جیسے واقعی مارنا چاہتا ہو۔ دونوں دوست باتیں کرتے ہوئے مختار کے کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ ٹیلیفون پر کسی سے بات کررہا تھا۔ بات ختم ہوئی تو اس نے ریسیور رکھ کر اسد اور عبداللہ کی طرف دیکھا جو کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے۔
”بڑی ہشاش بشاش لگ رہے ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ خوب ڈٹ کر سوئے ہو۔“ مختار نے مسکراتے ہوئے اسد سے کہا۔ اس کی مسکراہٹ تھکی تھکی سی تھی۔
”اور تمہارے چہرے پر اضطراب کی لکیریں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ نئی خبریں زیادہ خوشگوار نہیں۔“ اسد بولا۔
”نئی خبریں خاصی تشویشناک ہیں۔“ مختار نے بڑے بے زار سے لہجے میں کہا ”مجھے صرف ایک گھنٹے کی نیند ملی ہے۔“
”میں نئی خبریں سننے کیلئے بے قرار ہوں۔“
”سب سے بری خبریہ ہے کہ صبح چار بجے بریگیڈئیر جبار کوان کی خوابگاہ میں گولی مار دی گئی۔ ان کی بیگم کا کہنا ہے کہ وہ سو رہی تھی کہ گولی کی آواز نے اسے جگادیا۔ وہ ہڑبڑا کراٹھی اور دیکھا تو بریگیڈئیر جبار دونوں ہاتھوں سے سینہ پکڑے کراہ رہے تھے۔ کپڑوں پر خون دیکھ کر چیختی ہوئی ٹیلیفون کی طرف بھاگی۔ اور پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے ہمیں اطلاع دی اور جب میں وہاں پہنچا تو بریگیڈئیر ٹھنڈے پڑچکے تھے اور ان کی بیگم بلک بلک کر رو رہی تھی۔“ مختار نے بات مکمل کرکے اسد کی طرف دیکھا۔ اسد نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہا۔
”اس میں غلطی ہماری اپنی ہے ہمیں معلوم ہوچکا تھا کہ بریگیڈئیر جبار کی شخصیت اس میں ملوث ہے۔ ہمیں فوراً انہیں حراست میں لے لینا چاہئے تھا۔ کیا تمہیںوہ گفتگو یاد نہیں جو زاہد نے سنی تھی؟ بریگیڈئیر ہاشم نے بریگیڈئیر جبار کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔“
”بہر حال یہ بات میرے ذہن سے ہی نکل گئی تھی۔“ مختار نے مردہ سی آواز میں کہا ”کاش زاہد کی باتیں وقت پر ذہن میں آجاتیں!“
”دوسری خبرکیا ہے؟“ اسد نے پوچھا۔
”دوسری بری خبر یہ ہے کہ صبح سٹراس کو ہمارے آدمی پوچھ گچھ کیلئے وزارت دفاع کے دفتر لے جارہے تھے کہ وہ بڑی چالاکی سے انہیں جھانسہ دے کر فرار ہوگیا۔“
”اور تیسری بری خبر؟“
”تیسری بری خبریہ ہے کہ جون برکلے بھی برے پراسرار انداز میں غائب ہوگئی ہے۔ ہم نے یہ سمجھ کر کہ وہ زخمی ہے پہرہ ذرانرم رکھا تھا۔ صبح جب ناشتہ دینے کیلئے ہمارا آدمی اس کے کمرے میں گیا تو بستر خالی تھا۔“
”اور چوتھی بری خبر؟“
”چوتھی خبر سب سے بری ہے۔ رات کے واقعات کے بعد گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں انہوں نے فوجی ہائی کمان میںسخت اختلافات پیدا کردئیے ہیں۔ ٹائیگرزڈویژن کے جو افسر پکڑے گئے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ بریگیڈئیر ہاشم حکومت کے خلاف انتہائی بائیں بازو کی ایک سازش کچلنے کےلئے انکی امداد حاصل کر نا چاہتے تھے۔ بریگیڈئیر ہاشم نے انہیں یقین دلایا تھا کہ اس آپریشن میں اسے صدر کی براہ راست حمایت حاصل ہے۔ المیہ یہ ہے کہ فوجی ہائی کمان کے کچھ حلقوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ بریگیڈئیر ہاشم کا اسرائیل سے تعلق ثابت نہیں کیا جاسکتا اور اس کی سازش محض اقتدار کیلئے تھی۔ کمانڈر انچیف اور وزیر دفاع دونوں بڑے پریشان ہیں۔ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ رات کے واقعات کو محض ایک اندرونی معاملہ قراردے کر سارے معاملے کو دبایا جائے یا گرفتار ہونے والوں پر اسرائیل کے مفادات کیلئے کام کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے۔ وزیر دفاع اور کمانڈرانچیف کو یقین ہے کہ اس سازش میں اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ مگر ہائی کمان کے کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر دفاع اور کمانڈرانچیف دونوں بریگیڈئیر عبداللہ کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ المناک بات یہ ہے کہ صدر ایسے لوگوں کے دلائل سے متاثر ہورہے ہیں۔“
مختار خاموش ہوگیا تو اسد اٹھ کر بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔
”مجھے اسی بات کا ڈر تھا۔“ قدرے توقف کے بعد اس نے کہا ”عرب ممالک میں حصول اقتدار کی کشمکش اور ذاتی دشمنیوں نے ہی اسرائیل کو کھل کر کام کرنے کا موقع دیا ہے۔“
”اگر کرنل یزید گرفتار ہوجاتا توشاید ہم اس سازش میں اسرائیلی شرکت کا ثبوت حاصل کرسکتے۔“ مختا رنے کہا ”لیکن وہ لاپتہ ہے۔ اس کے علاوہ ٹائیگرزڈویژن کے دواور افسر لاپتہ ہیں۔ ہم نے ملک سے باہر جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ ہوائی سروسیں بھی معطل ہیں۔ ایک اطلاع ہے کہ رات کو ساڑھے بارہ بجے یہاں سے چالیس میل شمال میںایک چھوٹا سا طیارہ اترتے دیکھا گیا۔ صرف بیس منٹ بعد یہ طیارہ پھر پرواز کرگیا۔ مجھے خدشہ ہے کہ وہ سب اس طیارہ میں ملک سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔“
”ہوسکتا ہے کہ تمہارا خدشہ غلط نہ ہو۔“ اسد نے کہا۔ وہ کچھ اور کہنا ہی چاہتا تھا کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ مختار نے جھٹ سے ریسیور اٹھایا۔
”ہاں میں مختار بول رہا ہوں۔ کہوکیا بات ہے؟“
تھوڑی دیر بعد جب اس نے ریسیور رکھا تو اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں ”میجر بلال کا ٹیلیفون تھا۔ وہ اسی علاقے سے بول رہا تھا جہاں سے طیارہ اڑتے اور اترتے دیکھاگیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے وہاں سے چند میل دور ایک طیارے کا ڈھانچہ ملا ہے جس میں تین بری طرح جھلسی ہوئی لاشیں بھی ہیں۔“
اسد نے مختار کو گھور کر دیکھا۔ اس کا ذہن کہیں اور تھا۔ا چانک اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ اسے ٹیپ کی وہ گفتگو یاد آگئی جو اس نے چن سن کے ہاں سنی تھی۔
”ج کی بیوی ہمارے قبضے میں ہے۔“ یہ الفاظ اس کے ذہن میں گونج اٹھے۔
”مختار!“
”کہو کیا بات ہے؟“
”تم تباہ شدہ طیارے اور جلی ہوئی لاشوں کے بارے میں سراغ لگاﺅ۔ میں بریگیڈئیر جبار کی بیوی سے ملناچاہتا ہوں۔“
”کیوں؟ کوئی خاص بات ہے؟“
”جبار کا پہلا حرف ج ہے۔“ اسد نے عجیب سے انداز میں کہا ” اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ مجھے فوراً بریگیڈئیر جبار کی بیوی سے ملانے کا انتظام کرو۔“
٭٭٭٭٭
(جاری ہے)

Scroll To Top