جنرل قمر جاوید باجوہ کا فکر انگیز خطاب

zaheer-babar-logo

چیف آف آرمی سٹاف جنر ل قمرجاوید باجوہ کا یہ کہنا غلط نہیں کہ مدرسہ میں تعلیم کے معیار کو جدید بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں طالب علم معاشرے میںمثبت کردار ادا کرسکیں گے۔ کوئٹہ میں سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مدارس میں طالب علموں کو محض مذہبی تعلیم دی جاتی ہے جس کے سبب طالب علم ترقی کی دوڈ میں پچھے رہ جاتے ہیں۔ “
وطن عزیز میں طویل عرصہ سے مختلف حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ چلا آرہا کہ دینی مدارس کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے اقدمات کیے جائیں اس ضمن میں سابق صدر پرویز
مشرف دور میں دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی گئی مگر مختلف محاذوں پر بعض علما نے مزاحمت کی ۔ ان کے بعقول اگر دینی مدارس کے نظام میں اگر کوئی ایسی کوشش کی گئی جس سے ان کی آزادی اور خود مختاری میں کوئی فرق پڑا تو نہ صرف یہ کہ ایسی کوئی کوشش قابل عمل نہیں ہو گی بلکہ یہ ملک و ملت کے دینی مستقبل کے لیے انتہائی نقصان دہ اور تباہ کن بھی ہو گی۔
ایک تجویز یہ ہے کہ دینی مدارس کے انتظام وانصرام اور مالی معاملات میںحکومت کی مدد ہونی چاہیے مگر ساتھ ساتھ اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ مدارس کا اندرونی ڈھانچہ متاثر نہ ہو یعنی علمائے کرام کی مشاورت سے مدارس میں علوم وفنون متعارف کرائے جائیں مذید یہ کہ دینی مدارس میں انگریزی اور کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم ضروری ہو ۔اس میں دوآراءنہیںکہ دینی مدارس میں اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ آج حالات یہ ہیں کہ مدارس کے موجودہ نظام اور معیار سے خود مدارس سے وابستہ لوگ مطمئن نہیں ۔ایک خیال یہ ہے کی دینی مدارس کے موجودہ نظام اور نصاب میں اوقات کا ہی ضیاع نہیں بلکہ وسائل کا بھی ضیاع ہو رہا ، مثلا آٹھ دس سال تک ایک طالب علم کو مدارس میں منطق اور فلسفے سے متعلق بہت سے مضامین طلبہ پڑھ لیتے ہیں ، لیکن فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ میں سے نوے فی صد کسی مسجد کی امامت اختیار کرتے ہیں یا موزن بنتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ امامت یا مذنی میں منطق اور فلسفہ کا کیا کام ؟ نہ اس کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ان مسائل کے حل کے لیے کوئی سوال پوچھتا ہے ۔ ایک مطالبہ یہ ہے کہ دینی مدارس میں مختلف علوم اسلامیہ میں مثالی قابلیت کا حامل ہونا چاہے تاکہ فارغ التحصیل طلبہ اپنے شعبہ میں دسترس رکھتے ہوں ، مزید برآں طلبہ کو یہ علوم دیگر لوگوں تک منتقل کرنے کا ملکہ بھی رکھتے ہوں محض امامت اور خطابت دینی مدارس کا مقصود نہ ہونا چاہیے ۔ مثلا ایسے علما وفقہا پیدا کیے جائیں جو دینی مدارس کے علاوہ ملک کے اعلی تعلیمی اداروں میں اپنی خدمات سرانجام دے سکیں تاکہ مجموعی طور پر نئی نسل کو اسلامی طرز معاشرت سے متعارف کرایا جائے۔ علوم اسلامیہ میں تخصص اس انداز سے ہو کہ اسلام کے عقائد ونظریات کے بارے میں اٹھائے جانے والے شکوک و شبہات کا تسلی بخش جواب دیا جا سکے ۔ دینی مدارس کے طلبہ میں ایسی اہلیت ہونی چاہے تاکہ وہ اپنی دینی مہارت کے بل بوتے پر مغربی علوم کا تنقیدی جائزہ لے سکیں تاکہ ان کے مفید اور غیر مفید پہلوں کو سامنے لایا جا سکیں ۔
یقینا مدارس کے طلبہ کو عربی اور انگریزی زبان کو بالخصوص اور دیگر اہم زبانوں کو بالعموم سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ دراصل زبانوں کو سیکھنے سے معاشرے میں علما کی افادیت کہیں زیادہ بڑھ جائے گی ۔ دینی مدارس میں ایسے نظام تعلیم لانا ہوگا جو قومی ضروریات سے ہر لحاظ سے ہم آہنگ ہو یعنی جدید دور کے چیلنجز کے لیے طلبہ کو تیار کر سکے ۔ وطن عزیز کو صحیح اسلامی ریاست بنانے میں مدارس کے کردار اہمیت کا حامل ہے مگر مدارس کا موجودہ نصاب اور طریقہ تدریس ان اہداف کے حصول کے لیے کسی نشان منزل کا تعین کرنے میں ابھی تک ناکام ہے ،
ایک خیال یہ ہے کہ مدارس میں موجود مسائل میں سر فہرست مسلکی اختلافات ہیں جن کی شدت میں بظاہر روز بروزاضافہ ہو رہا ہے، اختلاف رائے گو بذات خود ایک مثبت سوچ کی عکاسی کر تی ہے لیکن فروعی مسائل میں شدت امت مسلمہ کو فرقہ وار یت کی آ گ میں جھونک رہی ہے ۔ مدارس کے انتظامی اداروں کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہو گا تاکہ یہ مدارس صحیح معنوں میں اسلام اور عالم اسلام کی خدمات سر انجام دے سکیں ۔
یقینا اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ تاحال کسی بھی حکومت کی مدارس میں اصلاح احوال کے لیے ٹھوس اقدمات دیکھنے کو نہیںملیں۔ سمجھ لینا ہوگا کہ تیزی سے تبدیل ہونے والی اس دنیا میں ایسا ممکن نہیں رہا کہ کوئی ملک اپنے ہزاروں نہیں لاکھوں نوجوانوں کے مسقبل کو نظر انداز کر ڈالے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جس امور کی طرف اپنی تقریر میں اشارہ کیا ہے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس جانب توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔ مملکت خداداد پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہے۔نائن الیون کے بعد کم وبیش ستر ہزار شہری ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہکار شہید ہوچکے ۔ قومی سطح پر درپیش مسائل سے اسی انداز میںعہدہ برا ہوا جاسکتا جب سب ہی ادارے اصلاح احوال کے لیے اپنا کردارادا کریں۔

Scroll To Top