جب ہمارے گناہ ہمارے تعاقب میں ہوں۔۔۔ 10-7-2012

kal-ki-baatاگر ہم ہمہ وقت اپنے آپ کو اس حقیقت سے آگاہ کرتے رہیں کہ جہاں ہمیں ¾ یعنی بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے عکس میں پیدا کیا ہے اور ہمارے اندر اپنی روح پھونکی ہے وہاں ابلیس یعنی شیطان کو بھی اختیار دیا ہے کہ وہ ہمارے اندر داخل ہو کر ہماری سوچوں اور اعمال پر اثر انداز ہو اور ہمیں گمراہ کرکے صراط مستقیم سے دور لے جائے ¾ تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے نفس اور اس کی خواہشات پر قابو پا کر قادرِ مطلق کی نظروں میں سرخروئی حاصل نہ کریں۔
اگر یہ دنیا معرکہ ءخیرو شر کا میدان ہے تو خیر کی قوت بھی آدم ؑ کی اولاد ہے اور شر کا وجود بھی اولادِ آدم ؑ کی بدولت ہے۔ شیطان کا ہماری ذات اور ہمارے نفس سے باہر کوئی وجود نہیں۔ شیطان ہماری آدمیت کے خلاف ہمارے نفس کے ذریعے ہی برسرپیکار رہتا ہے۔ آدمیت اس لئے ہارتی ہے کہ آدمی کو اپنے اندر موجود شیطان کے وجود سے شعوری آگہی نہیں ہوتی۔ وہ اپنے کسی بھی عمل اور اپنی کسی بھی سوچ کا رشتہ شیطان سے نہیں جوڑتا۔ اگر شیطان کی رسائی آدمی کی سوچ اور اِس سوچ کی بدولت ہونے والے اُس کے عمل تک نہ ہوتی تو حضرت آدم ؑ کو جنت سے کیوں نکلنا پڑتا؟
اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ جن لوگوں کو اپنے اندر کے شیطان کے وجود کا احساس ہوتا ہے ¾ وہ بدی کو زیادہ اعتماد کے ساتھ شکست دے سکتے ہیں۔
جو لوگ پارسائی کے دعویدار ہوتے ہیں اور اپنے آپ کونیکی کے بلند ترین مقام پر فائز کئے رکھتے ہیں اُن سے ڈرنا چاہئے کیوں کہ انہیں اپنے اندر کے شیطان کے حملوں کا احساس نہیں ہوتا یا پھر وہ خود کو اپنے اندر کے شیطان کے حوالے کرچکے ہوتے ہیں۔
اگر ہمارے اکابرین )جن میں اہل ِ اقتدار بھی شامل ہیں اور حزب اختلاف بھی(اپنے اندر کے شیطان سے آگہی حاصل کرنا شروع کردیں اور شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے اپنی آدمیت کا قلعہ مضبوط بنالیں تو سید یوسف رضا گیلانی کو اس قسم کے بیانات دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی کہ انہیں خمیازہ سرائیکی صوبے کی علمبرداری کرنے کا بھگتنا پڑا ہے۔۔۔ ہم سب خمیازہ اپنے اعمال کا بھگتاکرتے ہیں۔ اس ” ہم “ میں سب شامل ہیں۔ میاں نوازشریف بھی اور صدر آصف علی زرداری بھی۔ ہر ایک کو اپنے اعمال کے ’ حساب ‘ سے بچنے کے لئے کسی نہ کسی قسم کے ”استثنیٰ“ کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔
خدا کے قانون میں استثنیٰ کسی کو بھی حاصل نہیں۔
یہ اور بات ہے کہ وہ غفور و کریم اور رحمان و رحیم ہے ہوسکتا ہے کہ وہ ان لوگوں پر بھی دوزخ کے دروازے بند کردے جو اپنے گناہوں کو چھپائے رکھنے کے لئے استثنیٰ جیسے سہارے ڈھونڈھتے ہیں۔۔

Scroll To Top