فیض آباد دھرنے کا اختتام، آرمی چیف کو زبردست خراج تحسین

  • فیض آباد آپریشن نے پورے ملک کو احتجاجی مظاہروں کی آگ میں دھکیل دیا جوتیزی سے خانہ جنگی کی طرف بڑھنے لگا جس کے پیش نظر وزیر اعظم اورآرمی چیف کی ملاقات میں اس انتہائی نازک معاملے کو جنگی بنیادوں پر حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا
  • حکومتی بے بسی کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی درخواست پر دھرنا مظاہرین سے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کو درست سمت کے چناﺅمیں مدد فراہم کی
فیض آباد دھرنے کا اختتام

فیض آباد دھرنے کا اختتام

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف کی کوششوں سے قوم بڑے بحران سے بچ گئی ہے۔ گزشتہ روز ہونیوالے اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے بڑا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں ڈی جی آئی ایس بھی موجود تھے جس میں دھرنے کے خاتمے کا پُرامن حل نکالنے کا بڑا فیصلہ ہوا۔آرمی چیف نے ا±س وقت اہم کردار ادا کیا جب خانہ جنگی کا خطرہ تھا۔ ان کے کردار کو پوری قوم نے سراہا ہے۔ آرمی چیف نے ثالثی کا کردار وزیرِ اعظم کی درخواست پر کیا۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے اظہارِ بے بسی کے بعد آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی درخواست پر ثالثی کی تجویز دی اور گھمبیر معاملے کو افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر نہ صرف یہ کہ زور دیا بلکہ دھرنا مظاہرین سے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کو درست سمت کے چناﺅمیں مدد فراہم کی۔حکومت کی جانب سے فیض آباد آپریشن کے بعد پورے ملک میں دھرنے شروع ہوگئے تھے اور ملک میں خانہ جنگی کا اندیشہ تھا ‘ جس کے پیش نظر قومی قیادت نے بڑا فیصلہ کیا اور آرمی چیف نے اس مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کیا۔یاد رہے کہ ہفتے کی صبح وفاقی حکومت نے فیض آباد انٹرچینج کو مظاہرین سے کلئیر کرانےکے لیے آپریشن شروع کیا ‘ جس کے ردعمل میں ملک بھر میں مذہبی جماعت کے دھرنے شروع ہوگئے اور نظامِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔ایسے ماحول میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے وزیراعظم کی درخواست پر حکومت اور مذہبی جماعت کے مظاہرین اور ان کی قیادت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا۔ دریں اثنا ءلاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے فیض آباد دھرنے کے دوران مثبت کردار ادا کرنے پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ اور پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاک فوج کی وجہ سے بحران ٹل گیا اور بگڑتی ہوئی کشیدہ صورت حال نارمل ہو گئی۔یہ بات فیض آباد دھرنے کے شرکا پر تشدد کے معاملے پر لاہور ہائی کورٹ بار میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں کی گئی جس میں دھرنے کے شرکا پر تشدد اور ملکی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔اس موقع پر صدر ہائی کورٹ بار ذوالفقار چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت فیض آباد دھرنے کا بحران حل کرنے کے معاملے پر مکمل ناکام نظر آئی تاہم اس موقع پر پاک فوج اور چیف آف آرمی سٹاف نے مثبت کردار ادا کیا اور انھوں نے مظاہرین پر تشدد کی مخالفت کی جس کی وجہ سے معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ کے مثبت کردار کی وجہ سے بحران حل ہو سکا اور ان کے مشورے پر عمل کر کے ہی حکومت اور دھرنے کے شرکا پ±رامن حل پر پہنچ سکے ، اس موقع پر ہائی کورٹ بار کے وکلا نے کھڑے ہو کر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا۔یاد رہے کہ حکومت اور دھرنا قائدین کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں خصوصی طورپر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ثالثی کی کاوشوں کا ذکر کیا گیا ہے اورکہا گیا ہے کہ قوم اس کے لئے ان کی ممنون ہے اور رہے گی۔

حکومت دھرنا قیادت کے مابین6نکاتی معاہدہ کی تفصیلات

حکومت دھرنا قیادت کے مابین6نکاتی معاہدہ کی تفصیلات

Scroll To Top