ملک کی ملکیت کے لئے دو حریف پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کے درمیان معاہدہ 18-11-2009

جس ” خفیہ“ ہاتھ پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ سیاست دانوں کی کردار کشی کرتی رہتی ہے وہ اتنا بھی خفیہ نہیں کہ لوگوں کو معلوم نہ ہو یا سمجھ میں نہ آئے۔
میرا خیال ہے کہ سیاست دان خصوصی اس ” خفیہ“ ہاتھ کی کردار کشی کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔
آج کل ملک کی دو سب سے بڑی سیاسی ” قیادتوں“ میں جو ”خفیہ “ بھائی چارہ دکھائی دے رہا ہے اس کی وجہ ایک تو مشترکہ مفاد ہے ` اور دوسری وجہ اس ” خفیہ ہاتھ“ سے ” ممکنہ “ خطرہ ہے جو دونوں سیاسی حریفوں کو مشترکہ طور پر محسوس ہوتا ہے۔ میں موجودہ سیاسی صورتحال کو سامنے رکھ کر سوچوں تو لگتا ہے کہ لندن میں طے پانے والا وہ سیاسی معاہدہ اسی ” خفیہ ہاتھ“ سے نمٹنے کا مشترکہ عہدنامہ تھا جسے ” میثاق جمہوریت“ کہا جاتا ہے۔
بظاہر ” میثاق جمہوریت“ ایک نہایت پرکشش دستاویز ہے۔ اور میں خود اس کی ” دلکشی“ پر بہت کچھ لکھ چکا ہوں۔ لیکن جو حالات ہمارے سامنے ہیں ان سے یہ بھرپور تاثر ابھرے بغیر نہیںرہتا کہ میثاق جمہوریت کے پیچھے بڑا مقصد پاکستان کو ایک تعمیری سیاسی انقلاب سے ہمکنار کرنا نہیں ` بلکہ ایک مشترکہ حریف کا راستہ روکنے کا عہد صمیم کرنا تھا۔ حالانکہ میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کی بات بڑے زور و شور سے کی جاتی ہے ` اصل حقیقت یہ تھی کہ جو درپردہ جو حقیقی مقصد تھا وہ پورا کرنے میں دونوں کیمپ آج بھی ایک دوسرے سے مخلص ہیں۔
دونوں پارٹیوں کی قیادتوں کے درمیان رقابت یقینا موجود ہے اور رہے گی لیکن ” مشترکہ حریف “ کے مقابلے میں دونوں متحد ہیں۔
اس ضمن میں میاں نوازشریف کئی مرتبہ واضح بیانات بھی دے چکے ہیں۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ لانگ مارچ کے دوران موجودہ حکومت کو میاں صاحب دنیا کی سب سے کرپٹ مافیا قرار دے رہے تھے۔ مگر پھر فوراً ہی انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ وہ موجودہ نظام کو عدم استحکام کا شکار بننے نہیں دیں گے ` اور کسی ایسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے جس کا مقصد موجودہ حکومت کو ” غیر آئینی “ طریقے سے گرانا ہو۔آج کل وہ یہ بات زیادہ زور و شور سے کہہ رہے ہیں۔ سازشوں کی بات حکومتی کیمپ بھی کررہا ہے۔ اور سازشوں کا ذکر میاں صاحب کے کیمپ سے بھی ہوتا رہتا ہے۔
ظاہر ہے کہ اگر سازشیں ہورہی ہیں تو کوئی نہ کوئی کر بھی رہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی مدنظر رکھی جانی چاہئے کہ جب ” موجودہ نظام“ کی بات ہوتی ہے تو مطلب ” شراکت اقتدار “ کا وہ فارمولا ہے جو دونوں حریفوں نے اپنے مشترکہ حریف کو دیوار سے لگائے رکھنے کے لئے طے کر رکھا ہے۔
کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ دونوں بڑی پارٹیاں دو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں ہیں جنہوں نے ایک مخصوص عرصے کے لئے ” مفادات کی تقسیم “ کا غیر رسمی معاہدہ کررکھا ہے۔
اس ضمن میں جو سوال ذہن میں ابھرے بغیر نہیں رہتا وہ یہ ہے کہ کیا یہ ملک ان دو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں اور ان کی ذیلی حلیف کمپنیوں کی مشترکہ پراپرٹی ہے۔؟
اپنے آئندہ کالموں میں میں ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کروں گا۔

Scroll To Top