عارف حمیدبھٹی کا نوحہ ” میڈیا آزاد کہاں ہے ` مجھے بھی ہدایات ہی ملتی ہیں !“

سیاست کا رخ متعین کرنے میں میڈیا جو کردار ادا کررہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ میڈیا کی فیصلہ کن اہمیت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے سیاست کی ایک بنیادی حقیقت کو سمجھا جائے ۔ سیاست کی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ اس میں ” سچ “ کو اتنی فوری اہمیت حاصل نہیں ہوسکتی جتنی فوری اہمیت ” تاثر“ کو ہوتی ہے۔
سچ ایک ایسی چیزہے جسے سامنے لانے میں وقت لگتا ہے۔ مثال کے طور پر میاں نوازشریف ببانگ دہل یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ انہوں نے ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈال دیاہے۔یہ دعویٰ سچ ہے یا نہیں اس کا صحیح فیصلہ تب ہوگا جب میاں صاحب کے منصوبے حقیقت کا روپ دھاریں گے اور ملک پر لادا جانے والا قرضوں کا بوجھ اپنے نتائج سامنے لائے گا۔
لیکن میاں صاحب نے اربوں کی مالیت کی اشتہار بازی کے ذریعے یہ ” تاثر“ بہرحال اپنے حامیوں کی صفوں میں پیدا کردیا ہے کہ ترقی نہ صرف یہ کہ ہورہی ہے بلکہ زور و شور سے ہورہی ہے۔
اور ” اشتہار بازی “ اور ” میڈیا“ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
جو شخص بھی میڈیا کی ڈائنامکس (Dynamics) )یعنی فکر و عمل کے اصول و ضوابط (کو سمجھتا ہے وہ یہ بات ضرور جانتا ہوگا کہ جس طرح سے گاڑی ایندھن کے بغیرنہیں چل سکتی ` اسی طرح میڈیا اشتہارات سے ہونے والی آمدنی کے بغیر نہیں چل سکتا۔ میڈیا بہرحال ایک کاروبار ہے۔ اگر کاروبار نہ بھی تو بھی وہ ” آمدنی“ کے بغیر نہیں چل سکتا۔۔۔ اور آمدنی کا بنیادی ذریعہ بہرحال اشتہارات ہوتے ہیں۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ مختلف چینلز کے لب ولہجے باقاعدگی سے تبدیلی ہوتے رہتے ہیں۔ اگر اس تبدیلی کو سمجھنا چاہتے ہوں تو متعلقہ چینل پر چلنے والے اشتہارات پر نظر رکھیں۔ ویسے درپردہ بھی معاملات طے پاتے رہتے ہیں جن کا علم صرف ان اصحاب کو ہوتا ہے جو یہ ”معاملات“ طے کرتے ہیں۔
آپ کو بس ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ دورِ حاضر میں میرشکیل الرحمان ` سلطان لاکھانی ` سلمان اقبال ` میاں عامر محمود اور اسی صف میں شامل ہونے والے دوچار نئے نام ایک حد تک ” بادشاہ گری“ کا دعویٰ ضرور کرسکتے ہیں ۔ وہ اس لئے کہ بادشاہ کا دربار ان پر کھلا رہتا ہے۔۔۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ انہیں خود دربار میں جاکر حاضر ی دینی پڑے۔۔۔ بادشاہ کا میڈیا سیل خود چل کر ان کے پاس پہنچ جاتاہے۔
بادشاہ کا میڈیا سیل اینکر پرسنز اور تجزیہ کاروں کے پاس بھی پہنچتا ہے۔اس ضمن میں سرل المیڈا نامی رپورٹر/کالم نگار کا یہ انکشاف بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جس خبر نے ملکی سیاست میں بھونچال سا بپا کیا ہواہے وہ خود اس کی جھولی میں آکر گری تھی۔۔۔ انہیں خبر کے پیچھے نہیں جانا پڑا تھا۔۔۔
سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خبر نے سرل المیڈا کی ہی جھولی کیوں منتخب کی۔۔۔
اور سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جس ہاتھ نے نشانہ باندھ کر خبر ان کی جھولی میں پھینکی وہ ہاتھ کس کا تھا۔۔۔
جس کا بھی تھا۔۔۔ بڑا ” طاقتور“ ہاتھ ہوگا ۔
ڈان جیسے اخبار میں صفحہ اول پر اس قدر نمایاں انداز میں ایسی خبر چھپوانا کسی ” کمزور “ شخص کے بس کی بات نہیں۔
بہرحال بات میڈیا کی اہمیت کی کررہا تھا میڈیا یقینا ” بادشاہ گری “ کا دعویٰ کرسکتاہے۔۔۔ جواب میں بادشاہ بھی ” میڈیا گری “ کرتاہے۔۔۔ مجھے یہاں اے آر وائی کے عارف حمید بھٹی کا یہ ” رونا “ یاد آرہا ہے۔۔۔ ” میڈیا آزاد کہاں ہے ؟ مجھے بھی ہدایات ہی ملتی ہیں۔۔۔“

Scroll To Top