اپنے عوام کیخلاف طاقت کا استعمال کیسے کر سکتے ہیں، آرمی چیف

  • عوام پاک فوج سے محبت کرتے ہیں
    سیاسی و عسکری قیادت اجلاس:آرمی چیف کا دھرنا قائدین سے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے پر زور ، شرکاء کا تجویز سے اتفاق ،دھرنا ختم کرانے کے لئے وفاقی حکومت کا علماء سے رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ
  • حکومت راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ اوپن کرے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے،ملک میں بدامنی اور انتشار کی صورت حال ٹھیک نہیں ،ریاست کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں فوج کو طلب کیا جانا چاہیےسربراہ پاک فوج
اسلام آباد، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے اتوار کے روز ملاقات کی

اسلام آباد، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے اتوار کے روز ملاقات کی

اسلام آباد (آن لائن) پاک فوج نے فیض آباد دھرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے سے انکار کردیا ہے اورآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کردیا ہے کہ قوم فوج سے پیار کرتی ہے اور اپنے لوگوں کے خلاف طاقت استعمال نہیں کی جا سکتی۔حکومت راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ اوپن کرے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ذرائع کے مطابق اتوار کو چھٹی کے باوجود عسکری اور سیاسی قیادت کا اجلاس ہوا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل،قمر جاوید باجوہ کے درمیان ون ان ون ملاقات بھی ہوئی جبکہ شہبازشریف اور چوہدری نثار بھی آرمی چیف سے الگ سے ملے ۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت دھرنے کی صورتحال سے متعلق اجلاس میں وزیر داخلہ احسن اقبال اور اعلی حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف بھی خصوصی طور پر لاہور سے آئے اجلاس میں دھرنا ختم کرنے کے لئے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا فوج کو سرکاری املاک کے تحفظ اور گشت تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم۔دھرنے والوں کے خلاف فوج استعمال نہیں ہوگی ۔آرمی چیف نے دھرنے والوں سے مذاکرات کے زریعے معاملہ حل کرنے پر زور دیا جس سے شرکاء نے اتفاق کیادھرنا ختم کرانے کے لئے وفاقی حکومت کا علماء سے رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔اجلاس میں دھرنے والوں کے مطالبات پر بھی غور کیا گیا راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ اوپن کرنے کا فیصلہ بھی ہوا ہے ۔عسکری قیادت نے ایک بار پھر معاملے کا پرامن حل تلاش کرنے کا مشورہ دیا عسکری قیادت نے واضح کیا کہ ملک کے کسی بھی حصہ میں امن بحال کرنے کے لیے فوج آئینی کردار مثبت طریقہ سے ادا کرے گی ۔آرٹیکل 245 کے تحت فوج سرکاری تنصیبات کی حفاظت کے لیے موجود رہے گی ،مظاہرین کو منتشر کرنے کی ذمہ داری پولیس اور سول سیکورٹی اداروں کی ہے ،رینجرز کو فرنٹ فورس کا کردار ادا کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف اور چوہدری نثار کی بھی آرمی چیف سے اہم ملاقات، ہوئی ہے ۔تینوں کی ملاقات میں موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ملاقات میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے عدم استعمال کی پالیسی پر تینوں کا اتفاق کیا گیا ۔شرکاء کا کہنا تھا کہ معا ملے کو درست انداز میں ڈیل نہ کیا گیا۔ حالات کو بگاڑ کی بجائے بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات ہونگے،یہ بھی فیصلہ ہوا کہ دھرنا قیادت سے مذاکرات میں بھی مقتدر ادارے کردار ادا کرینگے ۔۔۔دریں اثناءایک نجی ٹی وی اجلاس میں آرمی چیف نے وزیراعظم کو تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے عوام کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرسکتے، پاکستانی عوام فوج سے محبت اور اس پر اعتماد کرتے ہیں اور معمولی فوائد کے بدلے اس اعتماد کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا، ختم نبوت ترمیم کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرکے انہیں سزا دی جانی چاہیے، ملک میں بدامنی اور انتشار کی صورت حال ٹھیک نہیں کیونکہ اس سے دنیا میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہوگی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہمیں متحد رہنا ہے، پاک فوج حکومت کے ماتحت ہے اور سونپی گئی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن تمام آپشنز کو بروئے کار لانے کے بعد فوج آخری آپشن ہونا چاہیے، ریاست کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں فوج کو طلب کیا جانا چاہیے، جبکہ اسلام آباد میں اضافی نفری تعینات نہیں کی جائے گی اور صرف پہلے سے موجود جوانوں کو سرکاری عمارتوں کی حفاظت پر مامور کیا جاسکتا ہے۔آرمی چیف نے یہ بھی تجویز دی کہ الیکٹرانک میڈیا پر پابندی ختم کی جائے اور صرف مخصوص حالات میں مختصر مدت کے لئے پابندی لگائی جائے۔ آرمی چیف کی تمام تجاویز کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے منظور کرکے ان پر عمل درآمد کا حکم دے دیا ہے۔

Scroll To Top