بیکٹیریا میں مختصر ترین ٹیپ ریکارڈر بنانے کا کامیاب تجربہ

tقدرتی ریکارڈ سے مریض کی بیماری پر گہری نظر رکھی جاسکے گی۔ فوٹو: فائل

نیویارک: ماہرین نے ایک بیکٹیریئم کے اندر امونیائی نظام کو ہیک کرکے اس میں سالماتی ٹیپ ریکارڈر رکھا ہے جو اطراف کی تبدیلیوں کو نوٹ کرتے ہوئے ان میں وقت کی مہر ’ٹائم اسٹیمپنگ‘ کرتا ہے۔ ان تبدیلیوں کو ٹیپ ریکارڈر ڈی این اے پر ثبت کرتا ہے۔ اس طرح سے صحت کی بروقت مانیٹرنگ اور کسی حیاتیاتی ماحول میں آلودگی کا اسی لمحے جائزہ لیا جاسکے گا۔

امریکہ میں کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے ماہرین نے سی آر آئی اس پی آر۔ سی اے ایس نظام کے ذریعے ایک بیکٹیریئم ایشریکیا کولائی کے جین تبدیل کیے ہیں۔ یہ بیکٹیریئم وائرس کی جینیاتی معلومات یاد رکھنے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پر کام کرنے والے سینیئر حیاتی طبیعیات داں کہتے ہیں کہ  سی آر آئی اس پی آ ۔ سی اے ایس سسٹم یادداشت رکھنے والا ایک قدرتی آلہ ہے اور اس میں معلومات جمع کی جاسکتی ہیں۔ اسے ایک انقلابی ٹیکنالوجی کا نام دیا گیا ہے اور اب یہ جینیاتی انجینیئرنگ کا ایک اہم ٹول بن چکا ہے۔  بیکٹیریا وائرس کا حملہ یاد رکھتا ہے اور اگلے حملے پر اس کے خلاف نبرد آزما ہوتا ہے۔

ماہرین سی آر آئی اس پی آ ۔ سی اے ایس ٹیکنالوجی سے جین ایڈیٹنگ کا کام بھی لے رہے ہیں اور اس سے دنیا بھر میں ایچ آئی وی اور کینسر کے علاج پر کام ہورہا ہے۔

ای کولائی بیکٹیریا کے ذریعے ماہرین نے پہلے ڈی این اے کے چھوٹے ٹکڑے یعنی پلازمڈز تبدیل کرنے کا کام لیا اور ان سے دو مختلف کام لیے۔ ایک پلازمڈ کو وقت معلوم کرنے کے لیے بطور ٹائم کیپر استعمال کیا گیا۔ جس نے بیکٹیریا جینوم میں وقفوں کو نوٹ کیا کیا اور کاپی کیا۔ جبکہ دوسرے پلازمڈ کو تھوڑا بدل کر اسے بیرونی سگنلوں کی شناخت کے قابل بنایا گیا ۔ اس طرح بیکٹیریا کے وقفوں کے سسلسلوں کو دیکھتے ہوئے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ یہ آخر کس وقت کوئی بیرونی سگنل موصول ہوا ہے۔

اس طرح تبدیل شدہ بیکٹیریا کسی مریض کی جسم میں سرگرمی مثلاً وائرس کے حملے اور دیگر سرگرمیوں کو نوٹ کرسکتا ہے اور یہ کسی ریکارڈر کی طرح کام کرسکتا ہے۔

ایسے بیکٹیریا کسی مریض کے جسم کے اندر داخل ہوکر ہاضماتی نالی کو ریکارڈ کرسکیں گے اور یوں مریض کا علاج کرنا ممکن ہوگا۔

Scroll To Top