مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر……

jhoot

مصنف غلام اکبر

25-11-2017 .

.قسط 21….


اس تڑپ کی عظمت کی خاطر میں نے وقتی بزدلی کے اس مظاہرے کو فراموش کر دیا جو بھٹو نے اعلانِ تاشقند کے حق میں بیان دے کر کیا تھا۔ اور مجھ جیسے جذبات رکھنے والے لاکھوں عوام بھی بھول گئے کہ بھٹو نے ایسا کوئی بیان دیا تھا۔
آہستہ آہستہ باخبر حلقوں میں یہ خبر گشت کرنے لگی کہ بھٹو حکومت سے الگ ہو رہا ہے۔ ان ہی دنوں نواب آف کالا باغ کے ساتھ بھی ایوب خان کے اختلافات پیدا ہو چکے تھے اور ایوبی آمریت کا یہ طاقتور ستون بھی اپنی جگہ سے ہٹنے والا تھا۔ وہ واحد شخص جو ایوب خان پر بھٹو کے ہر وار کو ڈھال بن کر روکنے کی قوت اور صلاحیت رکھتا تھا اس نے بھی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسے ایوب خان کی بد قسمتی ہی قرار دیا جاسکتا ہے کہ انہیں یہ احساس نہ ہو سکا کہ بھٹو ان کے لئے کتنا بڑا چیلنج بننے والا ہے اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے انہیں نواب آف کالا باغ جیسی آہنی شخصیت رکھنے والے رفیق کی کتنی ضرورت ہے۔
بہر حال تاریخ کا فیصلہ پوری قوت کے ساتھ نافذہونے والا تھا اور اس فیصلے کو بدلنا ایوب خان کے بس کی بات نہیں تھی۔
اس تڑپ کی عظمت کی خاطر میں نے وقتی بزدلی کے اس مظاہرے کو فراموش کر دیا جو بھٹو نے اعلانِ تاشقند کے حق میں بیان دے کر کیا تھا۔ اور مجھ جیسے جذبات رکھنے والے لاکھوں عوام بھی بھول گئے کہ بھٹو نے ایسا کوئی بیان دیا تھا۔
آہستہ آہستہ باخبر حلقوں میں یہ خبر گشت کرنے لگی کہ بھٹو حکومت سے الگ ہو رہا ہے۔ ان ہی دنوں نواب آف کالا باغ کے ساتھ بھی ایوب خان کے اختلافات پیدا ہو چکے تھے اور ایوبی آمریت کا یہ طاقتور ستون بھی اپنی جگہ سے ہٹنے والا تھا۔ وہ واحد شخص جو ایوب خان پر بھٹو کے ہر وار کو ڈھال بن کر روکنے کی قوت اور صلاحیت رکھتا تھا اس نے بھی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسے ایوب خان کی بد قسمتی ہی قرار دیا جاسکتا ہے کہ انہیں یہ احساس نہ ہو سکا کہ بھٹو ان کے لئے کتنا بڑا چیلنج بننے والا ہے اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے انہیں نواب آف کالا باغ جیسی آہنی شخصیت رکھنے والے رفیق کی کتنی ضرورت ہے۔
بہر حال تاریخ کا فیصلہ پوری قوت کے ساتھ نافذہونے والا تھا اور اس فیصلے کو بدلنا ایوب خان کے بس کی بات نہیں تھی۔
تین عظیم جھوٹ
بھٹو کامنہ بند تھا۔ لیکن آنکھیں بول رہی تھیں اور ان آنکھوں میں آنسو تھے۔ اپنی بے پناہ اداکارانہ صلاحیتوں کی بدولت اس نے خاموش رہ کر وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو اسے بے شمار دھواں دار اور جوشیلی تقریر وں سے بھی حاصل نہ ہوتا۔
وہ دن بالآخر آن پہنچاجب پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے بھٹو آخری سفر کرنے والا تھا۔ یہ خبر آچکی تھی کہ بھٹو کو سبکدوش کر دیا گیا ہے اور سبکدوشی سے پہلے وہ آرام کے لئے ملک سے باہر رخصت پر چلا جائے گا۔ یہ سبکدوشی ایک سمجھوتے کے تحت عمل میں آئی تھی۔ اس سمجھوتے کے مطابق بھٹو کو خاموشی اختیار کرنا تھی کوئی ایسا تبصرہ نہیں کرنا تھا جس سے حکومت کا وقار مجروح ہو سکتا ہو اور کسی ایسی سرگرمی میں حصہ نہیں لینا تھا جس سے حکومت کے مفادات کو زک پہنچنے کا احتمال ہو۔ ان پابندیوں کو قبول کرنے کی صورت میں بھٹو کو یہ ضمانت دی گئی تھی کہ ایوانِ اقتدار سے اسے باعزت طور پر رخصت کیا جائے گا اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
جن عزائم کی تکمیل کے لئے بھٹو نے وزارت کا قلمدان ٹھکرایا تھا ان کا تقاضہ ہرگز یہ نہیں تھا کہ وہ اس سمجھوتے پر عمل کرے مگر عارضی طور پر خاموش رہ کر منصوبہ بندی کرنے اور اپنے اردگرد عوامی طاقت کے حصارقائم کرنے میں کوئی ہرج نہیں تھا اور پھر خاموش رہ کر بھی وہ سب کچھ کہہ جانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا تھا۔
اس خدا داد صلاحیت کا اظہار بھٹو نے اس روز بڑے ہی بھرپور انداز میں کیا جب سبکدوشی کے سمجھوتے کے بعد وہ اسلام آباد سے بذریعہ ریل لاہور پہنچا۔
بھٹو نے ریل سے سفر کرنے کا پروگرام بغیر مقصد کے نہیں بنایا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایوب خان کی سیاسی بصیرت انہیں یہ بھی نہ بتا سکی کہ بھٹو نے فضائی سفر پرریل کے سفر کو کیوں ترجیح دی ہے۔
وہ دوپہر آج بھی میرے ذہن میں نقش ہے جب اہل لاہور اپنی قومی امنگوں کے ”بے باک نقیب“ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور اس کا فقیدالمثال استقبال کرنے کے لئے ریلوے سٹیشن پر قابض ہو چکے تھے۔ اوپر نیچے دائیں بائیں ہر طرف انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آرہا تھا۔ قومی امنگوں کی سربلندی کی خاطر وزارت خارجہ کا عظیم منصب ٹھکرانے والے بھٹو کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے پورا شہر سٹیشن پر امڈ آیا تھا۔ بھارت کے ساتھ ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کا عزم رکھنے والے بھٹو کے ساتھ اپنی جذباتی فکری اور عملی وابستگی کا بھرپور اظہار کرنے کے لئے میں بھی سٹیشن پر موجود تھا۔ میرے ساتھ فوٹو گرافر کے علاوہ روزنامہ کوہستان کے میگزین ایڈیٹر خالد محمود بھی تھے۔
جب ٹرین آکر رکی تو پورا سٹیشن بھٹو کی حمایت اور ایوب خان کی مخالفت میں بلند ہونے والے نعروں سے گونج اٹھا۔ لوگ پر دانہ وار اس بوگی کی طرف دوڑے جس میں بھٹو سفر کر رہا تھا۔ اتفاق سے میں خالد محمود اور فوٹو گرافر کے ساتھ جس جگہ کھڑا تھا بھٹو کی بوگی اس کے بالکل سامنے آکر رکی۔ بھٹو جس کمپارٹمنٹ میں تھا اس کا دروازہ فوراً ہی کھلا اور وہ چہرہ لاکھوں آنکھوں کے سامنے آگیا جس پر بے بسی کا غلاف بھی چڑھا ہوا تھا اور جس سے عزم کی روشنی بھی پھوٹ رہی تھی۔ بھٹو کا منہ بند تھا لیکن آنکھیں بول رہی تھیں۔ کپکپاتے ہونٹ کچھ کہنا چاہتے تھے مگر کہہ نہیں سکتے تھے۔ لرزتی ہوئی پلکوں کے سائے میں آنسوو¿ں کا طوفان اٹھ رہا تھا، لیکن اس طوفان کو آنکھوں کی قید سے باہر نہیں لایا جا سکتاتھا۔ بھٹو ایوب خان سے کئے جانے والے سمجھوتہ پر پوری طرح عمل کر رہا تھا۔ مگر کچھ نہ کہنے کے باوجود وہ سب کچھ اتنے تاثر انگیز انداز میں کہہ رہا تھا کہ ان چند لمحات کے دوران وہ اپنے مداحوں کے دلوں کی گہرائیوں میں اتر گیا۔
یہ بھٹو کی تیسری بڑی پرفارمنس تھی۔ اپنی بے پناہ اداکارانہ صلاحتیوں سے کام لے کر اس نے خاموش رہ کر وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو اسے بے شمار جوشیلی اور دھواں دھار تقریروں سے بھی حاصل نہ ہوتا۔ اتنی عظیم پرفارمنس شاید دلیپ کمار بھی نہ دے سکتا میں نے اور لاہور کے دوسرے ہزاروں لاکھوں شہریوں نے اس شاندار پر فارمنس کا تاثر اندھی عقیدت کے ساتھ قبول کرتے وقت یہ نہ سوچا ۔۔۔(جاری ہے)

Scroll To Top