انتقام! پاکستان کے عوام اپنی کھیتی کا پھل کاٹ رہے ہیں ! 23-6-2012

kal-ki-baat

محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک موت کے بعد اس جملے نے بے پناہ مقبولیت اور شہرت حاصل کی تھی کہ ” جمہوریت بہترین انتقام ہے۔“ محترمہ کے صاحبزادے بلاول بھٹو “نے اس جملے کو اس کثرت کے ساتھ استعمال کیا کہ اسے ضرب المثل کی حیثیت حاصل ہوگئی۔

اس سٹیٹمنٹ کا اصل مفہوم لوگوں کی سمجھ میں اب پوری طرح آچکا ہے۔ پاکستان اور اس کے عوام سے اِس سے بہتر انداز میں انتقام نہیں لیا جاسکتا تھا کہ اس پر وہ ٹولہ حکومت کرے جس نے گزشتہ سوا چار سال کے دوران ملک کو تباہی و بربادی کی راہ پر اس قدر آگے بڑھا دیا ہے کہ اصلاح احوال کے لئے ایک بڑے معجزے یا پھر ایک معجزاتی قیادت کی ضرورت پڑے گی۔شاید یہ انتقام مکمل نہ ہوتا اگر آج قوم کو سید یوسف رضا گیلانی کے ممکنہ جانشینوں کے نام پڑھنے کے صدمے سے دوچار نہ ہونا پڑتا !
جس وقت میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں پارلیمنٹ نے اگلا وزیراعظم منتخب نہیں کیا۔ لیکن یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ نصیب راجہ پرویز اشرف کے جاگنے والے ہیں۔
میں نہیں جانتا کہ عالم ارواح میں جناب زیڈ اے بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی روحوں پر کیا بیتے گی جب انہیں کوئی فرشتہ آکر بتائے گا کہ جس کرسی پر آپ براجمان ہوا کرتے تھے ¾ اب اس پر راجہ پرویز اشرف رونق افروز ہوںگے۔ اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ مسلم لیگ کے مرحوم قائدین کی روحوں کو کیسے کرب سے گزرنا پڑے گا جب انہیں بتایا جائے گا کہ وزارت عظمیٰ کے لئے مسلم لیگ کو مہتاب خان عباسی سے بہتر امیدوار نہیں مل سکا۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ مولانا فضل الرحمان کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار پا کر قائداعظمؒ اور علامہ اقبال ؒ کی روحوں کا کیا حال ہوا ہوگا ` مگر یہ بات میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان سے انتقام لینے کا اس سے بہتر طریقہ اس کے بدترین دشمنوں کی سمجھ میں بھی نہیں آئے گا۔
پاکستان کے عوام اپنی کھیتی کا پھل کاٹ رہے ہیں !

Scroll To Top