مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر……

jhoot

مصنف غلام اکبر
24-11-2017
..قسط 20…..


ایوب خان نے اپنے وزیر خارجہ کی یہ شرط منظور کر لی اور یوں بھٹو نے وہ بیان جاری کیا جس میں اعلان تاشقند کو حکومت کی ایک عظیم سفارتی کامیابی قرار دیا گیا تھا اس بیان میں بھٹو نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس کے ساتھ غلط باتیں منسوب کی گئی ہیں ورنہ وہ ایک ایسے معاہدے پر نکتہ چینی کیسے کر سکتا ہے ۔ جس کو عملی شکل دینے کے عمل میں اس نے خود وزیر خارجہ کی حیثیت سے بھرپور شرکت کی تھی۔ بھٹو نے یہ بھی واضح کیا کہ اعلانِ تاشقند میں کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز نہیں کیا گیا اور بھارت بات چیت کے ذریعے اس تنازعہ کا تصفیہ کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
مجھے وہ رات اچھی طرح یاد ہے ۔ جب بھٹو کا یہ بیان جاری ہوا۔ اس زمانے میں بھی میں روزنامہ کوہستان کا ایگزیکٹو ایڈیٹر تھا۔ میں اپنے کمرے میں اخبار کے نیوز ایڈیٹر محبوب علی خان کے ساتھ دن کی اہم خبروں کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہا تھا کہ ایک سب ایڈیٹر نے آکر بتایا کہ کریڈ پر وزیرخارجہ کا نہایت اہم بیان آرہا ہے۔
میں نے نیوز روم میں جا کر یہ بیان پڑھا تو ایک دم سناٹے میں آگیا۔ مجھے بھٹو سے یہ امید نہیں تھی۔ میں اسے اپنی تمام تر ملی امنگوں کا نقیب اور مستقبل کے عظیم تر پاکستان کا معمار بنا چکا تھا۔ میرے نزدیک ایوب خان نے جنگ بندی قبول کر کے اہل پاکستان کو اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والے برہمنوں پر اپنی فیصلہ کن برتری ثابت کرنے کے سنہری موقع سے محروم کر دیا تھا۔ ایوب خان کی شخصیت میری نظروں میں کمزوری بزدلی اور بے غیرتی کی علامت بن چکی تھی اور یہ بات میرا جزو ایمان بن چکی تھی کہ پاکستان کو ایک کمزور، بزدل اور بے غیرت آمر کی ضرورت نہیں تھی جس نے تاشقند جا کر شکست خوردہ بھارت کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ پاکستان کو ضرورت تھی ایک ایسے غیور جرا¿تمند اور جوشیلے رہنما کی جو ستاروں پر کمندیں ڈال سکے اور جو بلاخوف و خطر ہر قسم کے دباو¿ سے آزاد ہو ببانگ دہل دنیا کو بتا سکے کہ پاکستان کے کروڑوں مسلمان اپنے نظریہ حیات کی سر بلندی کے لئے ایک ہزار سال تک بھارت کے ساتھ جنگ لڑنے کے لئے تیار ہیں۔
یہ صرف میرے ہی جذبات نہیں تھے اپنی تاریخ پر فخر کرنے والے ہر نوجوان کے جذبات تھے۔ ستمبر۵۶۹۱ءکی جنگ نے ان جذبات کو دہکتے ہوئے الاو¿ کی سی حدت اور شدت عطا کردی تھی۔ میں یہاں ان جذبات کا ذکر کرنا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ بھٹو کی ہوسِ اقتدار ایک ایسے انجن کی مانند تھی جسے ایندھن کی ضرورت ہو اور میرے اور وطنِ عزیز کے دوسرے لاکھوں جوشیلے نوجوانوں کے ان ہی جذبات نے بھٹو کو مطلوبہ ایندھن فراہم کیا۔
لیکن وہ بیان یقینا اس بھٹو کا نہیں تھا جس سے مجھ جیسے لاکھوں جذباتی قوم پرست اپنی تمام تر امیدیں وابستہ کر چکے تھے۔ میں نے دوہی روز قبل ایک طویل مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا ”اعلان میونخ“ یہ مضمون آنے والے سنڈے ایڈیشن میں نمایاں طور پر شائع ہونے والا تھا۔ اس مضمون میں بھٹو کو میں نے پاکستان کا چرچل قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جس طرح چیمبر لین نے میونخ میں ہٹلر کے سامنے ہتھیار ڈال کر برطانوی مفادات کو دفن کر دیا تھا اسی طرح ایوب خان نے تاشقند میں شاستری کے سامنے ہتھیار ڈال کر اپنی قوم کی امنگوں کے ساتھ غداری کی تھی اور جس طرح چیمبرلین کو ہٹاکر برطانوی قوم نے چرچل کی قیادت میں اپنے وقار کی بحالی کی جنگ لڑی تھی اسی طرح پاکستانی قوم بھی ایوب خان سے نجات حاصل کرکے بھٹو کی قیادت میں بھارتی سامراج کے خلاف اپنی عظمت اور برتری کی جنگ فیصلہ کن فتح تک لڑ سکتی تھی ۔
اپنے اس مضمون میں میں نے جو کچھ لکھا تھا۔ بھٹو کا بیان اس کی نفی کر رہا تھا۔ واقعات کے اتار چڑھاو¿ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرنا تو مشکل نہیں تھا کہ یہ بیان بھٹو نے حکومت کے زبردست دباو¿ کے تحت دیا ہے۔ مگر میرے لئے پریشان کن سوال یہ تھا کہ جس شخص کو میں نے اپنا لیڈر بنایا تھا کیا وہ اصولوں کی خاطر دباو¿ کا مقابلہ کرنے کی قوت اور صلاحیت نہیں رکھتا؟ آنے والے ایام میں یہ سوال بار ہا میرے ذہن میں ابھرتا رہا اور ہر بار میں نے اپنے آپ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ طوفانوں سے ٹکرانے والوں کو بعض اوقات مصلحتوں سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ایوب خان کی پوری پروپیگنڈہ مشینری یہ ثابت کرنے کے لئے حرکت میں آچکی تھی کہ جس طرح رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے دور رس اور وسیع تر مفاد کے لئے کفارِ مکہ کے ساتھ صلح حدیبیہ پر دستخط کئے تھے اسی طرح ایوب خان نے بھی اہل پاکستان کے دور رس اور وسیع تر مفاد کے لئے بھارت کے ساتھ تاشقند کا معاہدہ کیا تھا۔ پیغمبر اسلام اور انسانی تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب کے بانی قائد اور معمار کے ساتھ ایک ہی ضمن میں ایک کمزور اور بزدل آمر کا نام لینا میری اور مجھ جیسے لاکھوں مسلم قوم پرستوں کی ملی غیرت کو للکارنے کے مترادف تھا۔ اگر ایوب خان کے نمک خوار بار بار اعلانِ تاشقند کی حمایت میں بیانات دے کر اور مقالے لکھ کر قوم کے زخموں پر نمک پاشی نہ کرتے تو شاید مجھ جیسے جو شیلے نوجوانوں کے جذبات وقت گزرنے کے ساتھ سرد پڑجاتے مگر قدرت کو بہر حال یہ منظور تھا کہ ہماری ملی تاریخ ایک نئی کروٹ لے۔
اعلانِ تاشقند کی حمایت میں ایک بیان دے کر بھٹو خاموش ہوگیا تھا اوراس کی خاموشی واضح طور پر اس امر کا اعلان تھی کہ وہ بیان اس نے ایوبی آمریت کے زبردست دباو¿ کے تحت دے تو دیا تھا ، لیکن اس کا دل قوم کے ساتھ تھا۔ جو تڑپ عوام کے دلوں میں تھی وہ تڑپ بھٹو کے دل میں بھی تھی۔

(جاری ہے….)

Scroll To Top