پاکستان کے باغیوں کے لئے نرم جذبات رکھنا بھی میرے نزدیک غداری کے زمرے میں آتا ہے 22-6-2012

kal-ki-baat

گزشتہ دنوں بلوچستان میں طلباءکی بس کو جس بربریت کے ساتھ نشانہ بنایا گیا وہ ان ” حقوق پسندوں “ اور ” بلوچ محرومیت “ پر آنس بہا نے والوں کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہونی چاہئے جو پاکستان کے خلاف جاری خوفناک بین الاقوامی سازش سے نظریں چرائے رکھنا چاہتے ہیں۔

جہاں تک محرومیت کا تعلق ہے یہ صرف غریب بلوچ عوام کا معاملہ نہیں پورے ملک کے ان عام آدمیوں کا معاملہ ہے جنہیں کبھی اصلاحات کا پرچم بلند کرکے مسند اقتدار تک پہنچنے والے ” آمر“ استحصال کا نشانہ بناتے ہیں تو کبھی جمہوریت کی سربلندی کے نعروں کی گونج میں ایوان ہائے اختیار تک پہنچنے والے ” عوامی نمائندے“ اپنی حرص و ہوس زر کا نوالہ بناتے ہیں۔
عوام کے حقوق کی جنگ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ مگر جن وحشیوں اور درندوں نے بلوچستان میں معصوم طلباءکو اپنی سفاکی اور خون آشامی کا نشانہ بنایا ہے وہ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہیں تلاش کرنا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانا ہر اس محب ِ وطن کا فرض ہے جس کی رگوں میں حُب رسول سے حرارت پانے والا خون دوڑتا ہے۔
پاکستان کے باغیوں کے لئے نرم جذبات رکھنا بھی میرے نزدیک غداری کے زمرے میں آتا ہے

Scroll To Top