مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر……

jhoot

مصنف غلام اکبر
23-11-2017
..قسط 19…..

یہ تمام امکانات اپنی جگہ بڑے اہم ہیں لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ جو معاہدہ بالآخر طے پایا وہ بھٹو کی منشا اور مفادات کے عین مطابق تھا۔ اعلانِ تاشقند کا آخری مسودہ تیار کرتے وقت ایسے یقینا یہ اطمینان ہوگا کہ اس معاہدے کو بڑی کامیابی کے ساتھ ایوب خان کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایوب خان کو وہ یہی مشورہ دیتا رہا تھا کہ اگر پاکستان اپنے مطالبات نہ بھی منوا سکے تو بھی سوویت یونین کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرانا ضروری ہے۔
اعلان تاشقند کے فوراً بعد شاستری کی موت نے بھٹو کے کام کو بہت آسان بنا دیا۔ اسے اس بات کا اندازہ تو ہو چکا تھا کہ ایوب خان کے ذہن میں اس کے متعلق شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں گویا ایوب خان کو الوداع کہنے کی گھڑی آن پہنچی تھی۔ وہ خود اس معاملے میں پہل نہ کرتا تو بھی اسے ایوب خان کے عتاب کا نشانہ بن کر حکومت سے الگ ہونا پڑتا اور پہل کرنے میں بڑے فائدے تھے پہل کر کے ایوب خان پر بڑا بھرپور وار کیا جاسکتا تھا۔ ایسا وار کہ ایوب خان کو بھٹو کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی بجائے خود اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہونا پڑتا۔
پہل کرنے کا موقع اگر ایوب خان کو دے دیا جاتا تو بھٹو اعلان تاشقند کے ہتھیار کو موثر طور پر استعمال کرنے کی پوزیشن میں نہ رہتا۔ عوام ایوب خان کی باتوں پر زیادہ اعتبار کرتے اور بھٹو کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو جاتا کہ وہ ” کھیسانی بلی کھمبا نوچے“ کے مترادف اپنا جرم ایوب خان کے سرپہ تھوپ رہا تھا۔
چنانچہ بھٹو کسی نہ کسی طرح ایوب خان اور باقی وفد سے پہلے پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اور یہاں آکر اس نے بڑے جذباتی انداز میں اعلان کیا کہ تاشقند سمجھوتے میں پاکستانی عوام کی امنگوں اور مفادات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
ایوب خان نے بھٹو کو سب سے پہلے وطن پہنچنے کی اجازت کیوں دی؟ بھٹو کو اپنی چال چلنے کا موقع کیو ں فراہم کیا گیا؟ ۔ جب بھٹو کی اصلیت ایوب خان پر کھل ہی چکی تھی تو انہیں یہ بھی سوچنا چاہیئے تھا کہ ان کا وزیرخارجہ باقی وفد سے پہلے تاشقند سے رخصت ہونے کے لئے کیوں بے چین ہے؟
معلوم ہوتا ہے کہ قدرت ایوب خان کے زوال اور بھٹو کے عروج کا فیصلہ کر چکی تھی اور ایوب خان بڑی سنگین غلطیوں کا ارتکاب کر کے خود ہی اپنے آپ پر زوال کے دروازے کھول رہے تھے۔
O O
تاشقند سے واپس لوٹنے کے بعد ایوب خان کو فوراً احساس ہوگیا کہ بھٹو بڑی خطرناک چال چل گیا ہے۔ عام حالات میں بھی اعلان تاشقند کے خلاف عوامی ردِ عمل خاصا شدید ہوتا اور اب تو خود ایوب خان کے وزیر خارجہ نے کہہ دیا تھا کہ جو کچھ پاکستان نے میدانِ جنگ میں حاصل کیا تھا وہ اس معاہدے کے ذریعے ضائع کر دیا گیا ہے۔
شدید غم وغصے میں ایوب خان اپنے احسان فراموش ”منظورِ نظر“ کے خلاف بڑا سخت قدم اٹھانا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے مشیروں نے انہیں سوجھ بوجھ سے کام لینے کا مشورہ دیا۔ ان مشیروں کا نقطئہ نظر یہ تھا کہ اگر فوری طور پر بھٹو کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو عوامی جذبات مشتعل ہو جائیں گے اور بھٹو کا امیج ایسے قومی ہیرو کا بن جائے گا جس نے ملک وملت کی سر بلندی کے لئے حکومت کے عتاب کو دعوت دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ وزیر اطلاعات خواجہ شہباالدین نے رائے دی کہ پہلے بھٹو کو مجبور کرنا چاہیئے کہ وہ اعلان تاشقند کے حق میں بیان دے کر اپنے پچھلے موقف کی تردید کرے اس طرح عوام کی نظروں میں بھٹو کی پوزیشن خراب ہو جائے گی اور کچھ وقفہ دینے کے بعد جب اسے سبکدوش کیا جائے گا تو وہ رائے عامہ کو حکومت کے خلاف اتنی کامیابی کے ساتھ نہیں بھڑکا سکے گا جتنی کامیابی کے ساتھ اب بھڑکا سکتا ہے۔
ایوب خان کو یہ تجویز پسند آگئی اور فوراً ہی بھٹو سے رابطہ قائم کیا گیا جو لاڑکانہ جا بیٹھا تھا اور وہاں حکومت کے رد عمل کا انتظار کر رہا تھا۔ بھٹو کا خیال تھا کہ ایوب خان اپنے آمرانہ مزاج کے مطابق کوئی سخت قدم اٹھائیں گے۔ چنانچہ وہ ایوب خان کے ہر متوقع اقدام کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنا لائحہ عمل تیار کر رہا تھا۔طلبا کی مختلف تنظیموں سے روابط اس نے پہلے ہی قائم کر رکھے تھے اور اسے پورا اعتماد تھا کہ نوجوان نسل میں اعلانِ تاشقند کے خلاف شدید نفرت پیدا کرنا اور پھر اس نفرت کو ایوب خان کے خلاف ایک ملک گیر ایجی ٹیشن کی شکل دینا اس کے لئے مشکل بات نہیں ہوگی۔
لیکن ایوب خان نے جو قدم اٹھایا وہ بھٹو کی توقعات کے خلاف تھا۔ ایوب خان نے یہ خواہش ظاہر کی کہ جو کچھ ہوا تھا اسے بھلا دیا جائے اور ملک کے وسیع تر مفاد کی خاطر بھٹو وزیر خارجہ کی حیثیت سے ایسا بیان جاری کرے جس سے اعلانِ تاشقند کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور ہو جائیں۔ ایوب خان نے بھٹو کو پیغام پہنچایا کہ اگر وہ مطلوبہ بیان جاری کر کے اپنی وفاداری ثابت کر دے تو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی ایک اور ذریعے سے بھٹو کو یہ دھمکی بھی دی گئی کہ اس نے مطلوبہ بیان جاری نہ کیا تو ایوب خان اسے سازشی قراردے کر اس کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔
ایجی ٹیشن کا منصوبہ بنانا اور عوامی انقلاب کی رہنمائی کو خواب دیکھنا ایک بات تھی اور عملاً ایک آمرِ مطلق کی بھرپور طاقت سے ٹکرانا دوسری بات تھی۔ بھٹو اچانک اپنے منصوبے کی کامیابی کے امکانات کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو گیا۔ ایوب خان کی دھمکی نے اسکے حوصلے پست کر دیئے۔ فطرتاً بزدل ہونے کی وجہ سے اس نے عافیت اسی بات میں سمجھی کہ فی الحال ایوب خان سے ٹکرانے سے گریز کیا جائے اورکچھ وقت اور حکومت میں رہ کر عوام کے ایسے طبقوں کے ساتھ روابط بڑھائے جائیں جن پر ہرایجی ٹیشن کی کامیابی کا انحصار ہوتا ہے۔
چنانچہ بھٹو نے مطلوبہ بیان جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی مگر ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی کہ ایوب خان کوئی ایسی بات منظرِ عام پر نہیں لائیں گے جس سے بھٹو کے امیج کو گزند پہنچنے کا خطرہ ہو۔ بھٹو کا اشارہ اس ملاقات کی طرف تھا جو اس نے تاشقند میں لال بہادر شاستری کے ساتھ کی تھی۔
(جاری ہے….)

Scroll To Top