شاید ہم میں سے کوئی دُعاگو ایسا ہو جس کی پکار رب ِکعبہ سن لے 21-6-2012

kal-ki-baat

ان دنوں پنجاب کے شہروں میں توڑ پھوڑ گھیراﺅ جلاﺅ مار دھاڑ اور وحشت و دیوانگی کے جو مناظر دیکھے جارہے ہیں وہ بانسری بجائے جانے والے کسی بھی نیرو کو یہ پیغام دینے کے لئے کافی ہے کہ اس کا انجام اب زیادہ دور نہیں۔

بجلی کے بحران نے لوگوں کی نیندیں حرام کردی ہیں ان کا سکھ چین چھین لیا ہے ` اور انہیںدماغی مریض بنا دیا ہے۔ صورتحال کس قدر خوفناک ہوچکی ہے اس کا اندازہ جناب مجیب الرحمان شامی کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے اپنے پروگرام ” نقطہءنظر “ کے دوران دیا ہے۔
” میں نے گزشتہ دن جس عذاب میں گزارا ہے اس میں کئی بار میرا جی چاہا کہ میں بھی پتھر اٹھا کر باہر نکل جاﺅں اور جو چیز نظر آئے اسے نشانہ بنا ڈالوں۔ اگر کچھ نہ ملے تو خود اپنا سر پھوڑ دوں۔“
کچھ ایسی ہی بات جناب نجم سیٹھی نے رات کو اپنے پروگرام میں کہی۔ انہوں نے وزیراعظم گیلانی صاحب کو ہاتھ جوڑ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ” اب آپ ہمارے حال پر رحم کرکے چلے ہی جائیں۔ آپ کی حکومت کا عذاب اس سے زیادہ اس ملک کے عوام نہیں جھیل سکتے۔“
میں نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کو مزید کتنی سزا دینا چاہتا ہے لیکن اگر عوام کا غصہ توڑ پھوڑ گھیراﺅ جلاﺅ ماردھاڑ اور وحشت و دیوانگی میں ڈھلتا چلا گیا تو وہ لوگ بھی ہوش و حواس کھو بیٹھیں گے جن کا حالتِ خرد میں رہنا اس ملک کی بقاءکے لئے ضروری ہے۔
معراج شریف ہمیں اس عذابِ عظیم سے رہائی دلائے بغیر گزر گئی جس نے اپنے خونیں پنجے ہمارے وجود میں گاڑ رکھے ہیں لیکن دعاﺅں کا وقت نہیں گیا ۔
شاید ہم میں سے کوئی دُعا گو ایسا ہو جس کی پکار رب ِکعبہ سن لے۔۔۔

Scroll To Top