زاہد حامد خود استعفیٰ دے کر اپنی مسلمانی کو برحق ثابت کر سکتے ہیں !

aaj-ki-bat-logo

اہل مغرب کے دل میں مسلمانوں کی حُب رسولﷺ کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آندھیوں اور طوفانوں میں بھی جس چیز نے چراغِ اسلام کو بجھنے نہیں دیا وہ ایک تو یقینی طور پر کلامِ الہیٰ یعنی قرآن مجید ہے اور اس کے علاوہ حُب رسول ﷺ یعنی عشقِ محمد ﷺ ہے۔ ایک سچے مسلمان اور آنحضرت ﷺ کے درمیان وہی رشتہ ہے جو ایک شفیق اور فیاض آقا اور ایک فرما ن بردار اور جاں نثار غلام کے درمیان ہوتاہے۔ یہ عبدالمطلب کے پوتے ، عبداللہ کے فرزند اور آمنہ کے جگر گوشے حضرت محمدﷺ کی گواہی ہی ہے جس کی وجہ سے ہم قرآن حکیم کو کلام ِ الہیٰ مانتے ہیں اور ہمارا ”رشتہ ءبندگی“ قادِر مطلق خالقِ کائنات اور معبود ِ واحدو حقیقی سے قائم ہوتا ہے۔
ہمارے نام نہاد لبرل اور معتدل مسلمان اگر عشقِ رسول ﷺ کو ” بے دلیل انتہا پسندی“ یا ”جاہلانہ کم علمی“ سمجھتے ہیں تو یہ بات اسلام کی حقیقی روح سے ان کی اپنی عدم آگہی کا ایک کھلا ثبوت ہے۔
اگر مسلمانوں کا عشقِ رسول ﷺ والہانہ اور توہین رسالت کے معالے میں ان کا رویہ بے لچک نہ ہوتا تو اسلام کا بھی وہی حشر ہوتا جو عیسائیت کا ہوا ہے۔
ختم ِنبوت اسلام کا ایک بنیادی ستون ہے۔ یہ ستون کمزور پڑجائے اور اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو اسلام کی پوری عمارت دھڑام سے نیچے آگرے گی۔ آنحضرت ﷺ کے بعد اسلام کے نام پر نبوت کے جو فتنہ انگیز دعوے ہوئے ہیں وہ اسلام کا چہرہ اس لئے مسخ نہیں کر سکے کہ ختمِ نبوت پر مسلمانوں کا اعتقاد و ایمان غیر متزلزل رہا ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ کا پہلا بڑا فتنہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے فوراً ہی بعد اٹھ کھڑا ہوا تھا جسے حضر ت ابوبکر ؓ نے پوری قوت کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر کچل دیا۔ اس کے بعد بڑا فتنہ حسن بن صباح کا تھا ۔ مسلمانانِ ہند کو ایسے ہی ایک فتنے کا سامنا انیسویں صدی کے اواخر میں کرنا پڑا جس کا کلائمیکس ختم ِنبوت کی تحریک اور بھٹو مرحوم کے دور میں قادیانیوں یا احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی صورت میں سامنے آیا۔
یہاں ایک بات ہمارے بنیادی عقائد پر اعتراض کرنے والوں کو سمجھنی چاہئے کہ مسلمان اپنے معاشرے میں غیر مسلموں کے حقوق کا پورا پورا احترام کرتے ہیں مگر ختم ِنبوت پر ایمان نہ رکھنے والوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں ۔
اِس وقت اسلام آباد کے دھرنے کے پیچھے جو عوامل ہیں اُن کی جڑیں ہمارے اسی موقف میں ہیں کہ ختمِ نبو ت کے معاملے میں ذرا سی لچک دکھانے کے نتائج مستقبل میں خطرناک ہو سکتے ہیں ۔
نون لیگی حکومت کا یہ موقف مبنی بردلیل یا حقائق نہیں کہ جس ترمیم نے اس بحرانی صورتحال کو جنم دیا وہ ایک نادانستہ غلطی تھی۔ حلف نامے میں جو تبدیلی کی گئی اس کا واحد مقصد غیر مسلموں کو مسلمانی کی چھتری میں آنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔راجہ ظفرالحق اعلانیہ طور پر کہہ چکے ہیں کہ یہ اقدام چالاکی اور ہوشیاری کے ساتھ کیا گیا۔یعنی مکمل طور پر دانستہ تھا۔
اگر اس ”دانستہ غلطی“کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دئے بغیر چھوڑ دیا گیا تو اس قسم کی غلطیاں کرنے کا راستہ کھل جائے گا۔
اگر زاہد حامد واقعی سچے مسلمان ہیں تو وہ وزارت سے چمٹے رہنے کی بجائے استعفیٰ دے کر ببانگ دہل اپنی مسلمانی ثابت کر سکتے ہیں۔ ا ِ س بات کا امکان موجود ہے کہ زاہد حامد کو قربانی کا بکرا بنانے والے لوگ ہی اصل مجر م ہیں۔ وہ کون ہیں اس سوال کا جواب فی الحال تو نہیں دیا جاسکتا لیکن اس حقیقت کو پورے یقین کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے کہ یہ جرم اہل مغرب کو یہ تاثر دینے کے لئے کیا گیا کہ میاں نواز شریف ”روشن خیال“ اورلبرل سیاست دان ہیں جس کی وجہ سے ”تنگ نظر“ طبقے انہیں سزا دے رہے ہیں ۔

Scroll To Top