مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر……

jhoot
مصنف غلام اکبر
22-11-2017
..قسط 18…..

مگر بھٹو بے وقوف نہیں تھا اس کی سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ اس کا پول کھل چکا ہے اور ایوب خان کے ذہن میں اس کے متعلق شکو ک وشبہات پیدا ہو چکے ہیں اسکے سامنے واحد راستہ اب یہ تھا کہ ایوب خان کے عتاب کا انتظار کرنے کی بجائے فوری طور پر ایسا اقدام کرے جس سے وہ خود تو قوم کی نظروں میں سرخرو ہو جائے اور ایوب خان کے خلاف غم و غصہ کی آگ بھڑک اٹھے۔
سی آئی اے کی طرف سے بھٹو کو یقینا یہی ذمہ داری سونپی گئی ہوگی کہ وہ تاشقند مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کرے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کے دوران اس نے متعدد مرتبہ سوویت وزیراعظم کی منشا اور مزاج کے خلاف رویہ اختیار کیا اور ایک مرتبہ تو ایسی صورت حال پیدا کردی کہ مذاکرات تعطل کاشکار ہوگئے۔
لیکن بھٹو نے سی آئی اے کے مفادات کے لئے ہی کام نہیں کر رہا تھا خود اس کے اپنے مفادات بھی تھے جن کا تقاضہ یہ تھا کہ مذاکرات ناکام نہ ہوں اور کسی نہ کسی طرح ایسا سمجھوتہ طے پاجائے جو پاکستانی عوام کی امنگوں کے خلاف ہوتا کہ ایوب خان کے خلاف پائی جانے والی بے چینی کو ایسی قومی تحریک میں ڈھالا جا سکے جس کی قیادت بھٹو کے اپنے ہاتھوں میں ہو۔ بھٹو کے بارے میں یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ وہ سی آئی اے کا ایجنٹ تھا۔ بھٹوہمیشہ صرف اپنے مفادات کا ایجنٹ اور اپنی خواہشات کا غلام رہا ہے۔ اس نے زندگی میں جو کچھ بھی کیا صرف اپنے مقاصد کے حصول، اپنے عزائم کی تکمیل اوراپنے جذبہ خود پرستی کی تسکین کے لئے کیا۔ بھٹو جیسے لوگ کبھی کسی کے وفادار اور کبھی کسی کے دوست نہیں ہوتے۔ وہ اپنے اندھے مجنونانہ مفادات پر ہر رشتے، ہر اصول ، ہر دوستی اور ہر وفاداری کو قربان کر دیتے ہیں ۔ اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے وہ قوموں کی تقدیر سے بھی کھیل جانے سے گریز نہیں کرتے (جب بھٹو کو یقین ہوگیا کہ مشرقی پاکستان کی موجودگی میں وہ مسنداقتدار تک نہیں پہنچ سکتا تو اس نے بڑی بے رحمی سے پاکستان کا وہ بازو کاٹ کر پھینک دیا۔)
بھٹو ان معنوں میں سی آئی اے کا ایجنٹ ہرگز نہیں تھا جن معنوں میں یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے اس نے سی آئی اے سے روابط ضرور قائم کئے تھے مگر اس کا مقصد روابط کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا تھا۔ سی آئی اے ایوب خان سے نجات حاصل کرنا چاہتی تھی اور بھٹو ایوب خان کی جگہ لینا چاہتا تھا۔ اس لئے بھٹو نے سی آئی اے کے لئے کام کرنے میں کوئی باک تصور نہ کیا۔ مگر تاشقند مذاکرات کے معاملے میں امریکہ کے مفادات اور بھٹو کے مفادات میں واضح تضاد تھا امریکہ اپنے حریف سوویت یونین کی اس سفارتی پیش قدمی کو ناکام دیکھنا چاہتا تھا اور بھٹو یہ چاہتا تھا کہ سوویت کوششوں کے نتیجہ میں ایسا معاہدہ طے پاجائے جسے ایوب خان کی کردار کشی کے لئے استعمال کیا جاسکے۔
امریکی مفادات اور بھٹو کے مفادات کے درمیان پائے جانے والے اس تضاد سے ان متضاد رویوں کی وضاحت ہو جاتی ہے جو بھٹو نے مذاکرات کے دوران اختیار کئے۔ امریکہ کو یہ تاثر دینا ضروری تھا کہ بھٹو مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے، لیکن زیادہ ضروری بھٹو کے اپنے مفادات تھے۔
بھٹو نے لال بہادر شاستری سے ملاقات کیوں کی؟
اس کا قطعی جواب بھٹو خود ہی دے سکتا ہے ۔ ممکن ہے کہ اس نے شاستری سے ملاقات صرف یہ جاننے کے لئے کی ہو کہ بھارتی حکومت ایوب خان کے دباو¿ کا مقابلہ کس حد تک کر سکتی ہے اور کہیں اس بات کا امکان تو نہیں کہ ایوب خان مذاکرات میں کوئی ایسی” رعایت“ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو ان کے وقار میں اضافے کا باعث ہو۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ بھٹو نے شاستری کو زیادہ سے زیادہ سخت رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہو۔ اس نے ہندو لیڈر کو یہ سمجھایا ہو اکہ ایوب خان مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کر کے سوویت حکومت کی ناراضگی کا خطرہ مول لینے کی پوزیشن میں نہیں اس لئے بھارتی وزیراعظم کو ایوب خان کا دباو¿ قبول کرنے کی بجائے خود ایوب خان پر دباو¿ ڈالنا چاہیے۔
یہاں اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ شاستری نے کوسیگن کو اس ملاقات کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہو جو بھٹو نے ان کے ساتھ کی تھی اور سوویت وزیراعظم نے سوچا کہ” یہ شخص ایک طرف تو بھارتی وزیراعظم کے ساتھ خفیہ ملاقات کر کے اسے سخت رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دے چکا ہے اور دوسری طرف خود مذاکرات میں پاکستان کے رویے کو زیادہ سے زیادہ سخت بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا مقصد کانفرنس کو ناکام بنانا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کا تعلق سی آئی اے سے ہے۔“
(جاری ہے)

Scroll To Top