نا اہل شخص کو پارٹی قیادت سے روکنے کا بل مسترد

  • (قومی اسمبلی نے آئین کی پشت میں خنجر گھونپ دیا)
    حکمران جماعت اور اتحادیوں کے 41 اراکین بشمول رضا حیات ہراج ، سرزمین خان اور نااہل وزیر اعظم کے دست راست مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی،مسلم لیگ ض کے اعجاز الحق بھی غیر حاضر، سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما میر ظفر اللہ جمالی نے بھی بل کی حمایت میں ووٹ دیا
  • بل کے حق میں 98اور مخالفت میں 163ووٹ آئے ، اسمبلی اجلاس شروع ہوتے ہی حکمران جماعت کے اراکین نے شور شرابے اور آوازے کسنے کی ابتدا کرکے اجلاس کو ہائی جیک کرنیکی کوششیں شروع کر دیں اور سپیکر کے احکامات کو بھی مسلسل نظر انداز کرتے رہے
نا اہل شخص کو پارٹی قیادت سے روکنے کا بل مسترد

نا اہل شخص کو پارٹی قیادت سے روکنے کا بل مسترد

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی میںپوزیشن کے شدید احتجاج اور شور شرابے کے باوجود نااہل شخص کو کسی بھی سیاسی جماعت کی سربراہی سے روکنے کےلئے پیش کردہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بل کو حکمران اتحاد نے اکثریتی بنیاد پر مسترد کر دیاجس کے بعد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سربراہ رہیں گے ، بل کے حق میں 98اور بل کی مخالفت میں 163ووٹ آئے ۔ منگل کوقومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے الیکشن ایکٹ 2017 کے آرٹیکل 203 میں ترمیم کا بل پیش کیا جس کے تحت نااہل شخص کسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ حکمران جماعت اور اتحادیوں کے 41 اراکین بشمول نااہل وزیر اعظم کے دست راست مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی اور مسلم لیگ ض کے اعجاز الحق بھی غیر حاضر، سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما میر ظفر اللہ جمالی نے بھی بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوید قمر نے بل پیش کیا جس میں کہا گیا کہ ایک شخص جب تک پارٹی کا سربراہ نہیں ہوسکتا جب تک وہ خود ممبر اسمبلی بننے کا اہل نہ ہو، نا اہل شخص باہربیٹھ کر سربراہ کے طور پر پالیسی ڈکٹیٹ کرے مناسب نہیں۔سید نوید قمر نے کہا کہ انتخابات ایکٹ بل میں مزید ترامیم بھی ہوئی ہیں ،جب ایک شخص کو فائدہ دینے کے لیے لاتے ہیں تو پورے ملک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے، کوئی شخص پارٹی سربراہ بننے کا اہل کیسے ہے جب تک رکن بننے کا اہل نہ ہو؟انہوں نے کہا کہ آج جو حاضری نظر آرہی ہے کاش یہ حاضری گزشتہ ساڑھے چار میں ہوتی تو آج یہ قانون سازی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس ایوان کی عزت کرانا سب سے پہلے قائد ایوان کا کام ہوتا ہے، ایوان کی موجودگی ہی ایوان کا وقار بلند کرتی ہے، یہ ایوان صرف ہاتھ کھڑا کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ اگر یہ بل پاس نہیں ہوتا تو ابھی ایک مرحلہ اور بھی ہے، بل مشترکہ اجلاس میں بھی جاسکتا ہے، پھر وہی نمبر گیم نظر آئےگا جو آج نظر آیا۔انہوںنے کہاکہ ارکان پر مشتمل ایوان کوئی فیصلہ کرتا ہے اور باہر بیٹھا شخص اسے تبدیل کر دے تو یہ غیر آئینی ہے اور بدقسمتی سے ایک فرد کو فائدہ دینے کےلئے ایک ترمیم منظور کرائی گئی۔ سینیٹ میں ہمارے اس بل کو اکثریت سے منظور کرلیا گیا اور امید ہے کہ قومی اسمبلی میں بھی اسے منظور کرلیا جائےگا۔ قومی اسمبلی سے بل پاس نہ ہوا تو مشترکہ اجلاس میں جائے گا۔ ہماری کوشش ہے کہ اس ترمیم کو آج ہی منظور کرلیا جائے تاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی ضرورت نہ پڑے۔نوید قمر کے اظہار خیال کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان فقرے بازی شروع ہوئی تاہم اسپیکر کی جانب سے بار ہا ہدایات ملنے کے باوجود ارکان کی فقرے بازی ختم نہ ہوئی۔وزیر قانون زاہد حامد نے بل کی شدید مخالفت کی، وزیر قانون زاہد حامد نے بھی بات کرنے کی کوشش کی جس پر شاہ محمود بار بار بیچ میں بولتے رہے۔ وزیر قانون زاہد حامد نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو ذوالفقار بھٹو نے 1975 متعارف کرایا تھا لیکن پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو پارٹی کی سربراہی سے دور رکھنے کے لیے اس قانون کو ختم کردیا۔انہوںنے کہاکہ 17 نومبر 2014 میں اس قانون کے حوالے سے پارلیمنٹ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں اسی قانون کو پیش کیا گیا تھا اس وقت پاناما پیپرز نہیں آئے تھے جو ڈیڑھ سال بعد اپریل 2016 میں سامنے آئے تھے۔وزیرقانون نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے یہ کہنا صرف ایک شخص کے لیے بل لایا جارہا صحیح نہیں کیونکہ اس بل کے حوالے سے پہلے ہی اتفاق تھا۔بعد ازاں اسپیکر ایاز صادق نے بل پڑھ کر سنایا جس کے بعد مسترد کیا گیا تاہم نوید قمر نے کہا کہ ڈویژن ہے جس کے بعد رائے شماری کی گئی۔رائے شماری کے مطابق 98 ووٹ بل کے حق میں آئے اور 163 اراکین نے اس بل کی مخالفت کردی جبکہ سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن میر ظفراللہ جمالی نے بل کی مخالفت نہیں کی۔اسپیکر ایاز صادق نے گنتی کا حکم دیا جس کے بعد بل کی مخالفت اور حمایت کرنے والے اراکین کو کھڑے ہو کر گنتی کی گئی۔میڈیار پورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے 167 ارکان کے علاوہ اس کی اتحادی جماعت جے یو آئی (ف) کے 13، فنکشنل لیگ کے 5 اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 3 ارکان شریک تھے۔ دوسری جانب اپوزیشن میں شامل پیپلز پارٹی کے 45، تحریک انصاف کے 33، ایم کیو ایم کے 24، جماعت اسلامی کے 4 جبکہ مسلم لیگ (ق) اور اے این پی کے 2،2 ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دور ان ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی نے بولنے کی کوشش کی جس پر اسپیکر نے ان پر برہمی کا اظہار کیا اور بیٹھنے کی تاکید کی۔قبل ازیں سید نوید قمر کی جانب سے بل پیش کیے جانے کے بعد شاہ محمود قریشی نے بات کرنے کی کوشش کی جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے انہیں بار بار روکا تاہم اجازت ملنے پر شاہ محمود قریشی نے بات کرتے ہوئے وزیر قانون زاہد حامد کی مخالفت پر کہا کہ وزیر قانون کو حق ہے کہ بل مسترد کردیں یہ اپوزیشن کا مشترکہ بل ہے لیکن حکومت گھبرا کیوں رہی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قانون میں شرط تھی کہ نااہل شخص سیاسی جماعت کاسربراہ نہیں بن سکتا، اس شرط کو الیکشن ایکٹ کے ذریعے ختم کردیا گیا۔بل پیش کیے جانے کے بعد ایوان میں شوروغل شروع ہوگیا اور ارکان شور شرابا کرنے لگے ،شاہ محمود قریشی نے حکومتی ارکان کے شور شرابے پر کہا کہ وزرا ایوان کا ماحول خراب کررہے ہیں۔وزیر قانون کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کا دفاع کرنے والا آج نواز شریف کا دفاع کررہا ہے۔

Scroll To Top