”ہرسال 30ہزار پاکستانی ٹریفک حادثات میں جاں بحق “

zaheer-babar-logo

وطن عزیز کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہے جہاں ٹریفک حادثات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہرسال اوسطا 30 ہزار کے لگ بھگ افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں جبکہ ایک اور سروے میں یہ تعداد 17 ہزار بتائی گی ، اسی طرح ٹریفک حادثات میں ایک سال میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میںہے۔
تازہ حادثہ سندھ کے ضلع خیر پور میں پیش آیا جہاں تیز رفتار ٹرک مسافر وین سے ٹکر ا گیا جس کے نتیجے میں 21مسافر جان بحق اور متعدد زخمی ہوگے۔ وطن عزیز میں ٹریفک حادثات کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ سال دوہزار چودہ میں محض پنجاب میں 1 لاکھ 67 ہزار حادثات میں 11 ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 9 ہزار کے قریب لوگ معذور ہوئے۔ حکام کی لاپرواہی اور بے حسی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اکثر وبیشرر حادثات کی وجوہات یکساں نظر آئیں ، افسوس کہ آئے روز درجنوں پاکستانیوں کی جان جانے کے باوجود تاحال حکومتی سطح پر کوئی خاطر خواہ انتظامات دیکھنے میں نہیں آرہے۔
زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ وفاق المدارس نے ٹریفک قوانین سے آگہی کے متعلق ایک مضمون شائع کیا جو مولانا محمد تقی عثمانی کا تحریر کردہ تھا ۔ اس تحریر میں قرآن وسنت کی روشنی میں بتایا گیا کہ ٹریفک قوانین کو دین سے الگ کوئی چیز سمجھنا اور انکی پاسداری نہ کرنا غلط سوچ ہے،(ڈیک) ٹریفک قوانین انسانی مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں اور اس اعتبار سے انکی پابندی شرعا واجب ہے۔ مضمون نگار کے مطابق ٹریفک قوانین کی پابندی نہ کرنے والا اسلامی نقطہ نظر سے قانون شکنی، وعدہ خلافی، ایذارسانی اور سڑک کے ناجائز استعمال جیسے چار بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے جو فساد فی الارض کی تعریف میں آتی ہے “
ملک میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کے بعد ماہرین کی جانب سے چند تجاویز سامنے آئی ہیں جن میں یہ کہ ڈرائیور حضرات کو ٹریفک قوانین کی پابندی پر سختی سے مجبور کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے کو ہر قیمت پر سزا دی جائے، جب بھی کوئی گاڑی سڑک پر آئے تو وہ فنی طور پر فٹ ہونی چاہئے۔ ناقص، سست رفتار اور خستہ حال گاڑیوں کو سڑکوں پر آنے سے روکا جائے۔
ڈرائیور کا لائسنس یافتہ اور تجربہ کار ہونا ضروری ہے، کم سن بچوں کا گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چلانے کی حوصلہ شنکی کی جائے۔ ہمارے ہاں سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کے دوران گاڑیوں کا ایک دوسری کو غلط طور پر کراس کرنے کا وطیرہ عام ہے جو دراصل بدترین جو حادثات کا باعث بنتا ہے۔ دوران ڈرائیونگ راستہ نہ دینے اور غلط طرف سے دوسری گاڑی کو کراس کرنے والے دونوں ہی جرم ہیں لہذا اس رجحان کو سختی سے ختم کرنا ہوگا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے عملے کو بہتر ٹریننگ اور جدید طریقہ کار اپنا کر ان کی صلاحیتوں کا بہتر استعمال کرے۔
پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرکوں وغیرہ کے ڈرائیور نہایت تیز رفتار اور بے ہنگم انداز میں ڈرائیونگ کرتے ہیں اس طبقہ کی خاص طور مانیٹرنگ کرنا ضروری ہیں۔ اگرچہ حکومت نے نئی سڑکیں تعمیر کررہی مگر پہلے سے تعمیر شدہ سڑکوں کی مرمت پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ، مذکورہ سڑکوں کو شکست و ریخت کے ساتھ ہی فوری مرمت کی جائے تو نہ صرف حادثات اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ سے بچا جا سکتا ہے بلکہ سڑکوں کی عمر بڑھا کر کثیر سرمایہ بچایا جاسکتا ہے۔ ٹریفک پولیس کے اہلکارں کی تربیت اس انداز میں کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ عوام سے اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔یاد رکھنا چاہے کہ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جہاں حکومت کو آگے بڑھنا ہوگا وہی شہریوں کو بھی اپنی زمہ دایوںکا احساس کرنا چاہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کے مہذب اور غیر مہذب ہونے کا فیصلہ دراصل اس کی ٹریفک کا نظام دیکھ کر کیا جاتا ہے اگر عام شہری ٹریفک قوانین کا پاس رکھنے میں پیش پیش ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس قوم کو زمہ دارنہ طرزعمل کی حامل نہ قرار دیا جائے۔اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ وطن عزیز میں عام وخواص کا فرق شدید ہے۔ حکمران طبقہ اپنے اور اپنے خاندان کی زندگی بچانے میں تو ہر اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہے مگر اسے کسی طور پر عام شہریوں کی زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس ضمن میں جمہوری وغیر جمہوری دونوں ادوار برابر دکھائی دیتے ہیں۔ مملکت خداداد پاکستان میں انسانی جان کی حرمت کا تصور تاحال راسخ نہیں ہوا ، شائد یہی وجہ ہے کہ ہر سال ٹریفک حادثات میں ہزاروں لوگوںکے جان بحق یا عمر بھر کے لیے معذور ہورہے مگر حکام بالا کو اس کی پرواہ نہیں۔دراصل ہمیں مغربی ملکوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ لادین کہلائے جانے والے ان معاشروں میں اپنے عوام کی زندگی کا جو تحفظ دیکھنے میں آتا ہے ہمارے ہاں اس کا تصور تک نہیں ۔ٹریفک قوانین سے آگہی کے لیے حکومت اور شہریوں کے علاوہ میڈیا کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی تربیت کرے۔ اس سلسلے میں حکومت پر دباو بڑھایا جاسکتا ہے کہ وہ ٹریکف قوانین پر عمل درآمد کرنے کے لیے اپنا آئینی ، قانونی اور اخلاقی کردارپوری زمہ اری سے ادا کرے۔یاد رکھاجائے کہ ہم اس دین کے پیروکار ہیں جو کہتا ہے کہ ایک انسان کی زندگی بچانا ایساہی ہے گویا پوری انسانیت کی زندگی بچانا ہو۔ “

Scroll To Top