ہر دور کی کہانی یہی ہے 17-6-2012

kal-ki-baat

ڈاکٹر ارسلان افتخار پہلا بیٹا نہیںجس نے اپنے باپ کی قائم کردہ روایات پر خود کش حملہ کیا ہو ۔ اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پہلے باپ نہیںجو اپنے بیٹے کی ” دوسری زندگی “ سے لاعلم رہے ہوں۔ جہاں تک ملک ریاض حسین کا تعلق ہے وہ پہلے ” خدائے زر “ نہیں جس نے اپنے اردگرد کی تمام قوتوں کو خریدنے کی تمنا سے اپنی ” دنیائے دل و دماغ “ کو آباد کیا ہو اور جو اس نتیجے پر پہنچا ہو کہ بادشاہت کرنے سے بادشاہ گری کرنا بدر جہا بہتر ہے۔
اِ س دُنیا نے صدیوں سے ایسی کہانیوں کو جنم لیتے دیکھا ہے۔
ایک بیٹا حضرت نوح ؑ کا بھی تھا جس نے کشتی پر سوار ہونے سے انکار کردیا تھا اور جس کے مقدر میں عذابِ خداوندی کی موجوں میں غرق ہوجانا لکھا تھا۔ ایک باپ ابوالحسن بھی تھاجس کوکئی برس تک یہ پتہ نہ چل سکا کہ جس غرناطہ کے دفاع کے لئے وہ جان کی بازی لگانے کا عہد ِصمیم کرچکا ہے ` اس کا سودا کرنے کی سازش کا سرغنہ کوئی اور نہیں اس کا اپنا بیٹا ابوعبداللہ ہے۔ وہ ابو عبداللہ جو غرناطہ کا آخری حکمران ثابت ہوا۔ اور ایک زر پرست قارون بھی تھا جس کی ہوسِ مال نے اسے بالآخر بادشاہ گری کے منصب سے اٹھا کرقعرِ مذّلت میں پھینک دیا۔
اس نوعیت کی کہانیاں تاریخ میں بے حد افراط کے ساتھ بکھری پڑی ہیں۔ کہانیوں کے واقعات ایک دوسرے سے مختلف ضرور تھے لیکن ان کے کرداروں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔
انسان صدیوں سے قوت اور اقتدار کے پیچھے بھاگتا رہا۔ قوت و اقتدار کی طلب نے ہی اسے دولت کا پجاری بنایا۔ خدائے واحد اور بزرگ و برتر نے اسے زر پرستی کے شیطانی عمل سے بچانے اور دور رکھنے کے لئے پیغمبر بھیجے اور یہ پیغام بار بار انسانی بستیوں اور معاشروں تک پہنچایا کہ حقیقی خوشی اللہ کی اطاعت کرنے ¾اللہ کے عطا کردہ رزق پر قناعت کرنے اور اللہ کے بندوں کے ساتھ انصاف کرنے سے ہی حاصل ہوتی ہے ¾ مگر یہ بات بھی تو منشائے الٰہی میں شامل تھی کہ یہ زمین جس پر آدم ؑ کو اتارا گیا تھا تاقیامت حق و باطل اور خیر وشر کے درمیان معرکہ آرائی کا میدان بنی رہے۔
آپ یقینا سوچ رہے ہوں گے کہ ” اگر معرکہ آرائی حق و باطل کے درمیان ہی ہے تو پھر جس جنگ کا میدان ہمارا وطنِ عزیز بنا ہوا ہے اس میں ” حق “ کہاں مورچہ بند ہے ۔؟“
میں اس سوال کا جواب دیئے بغیر اس واقعے کی طرف بڑھنا چاہتا ہوں جو امریکہ کے آنجہانی صدر ابراہم لنکن کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جناب ملک ریاض حسین کے اردگرد گھومنے والے حالیہ ڈرامے کا تجزیہ کرتے وقت میں متذکرہ واقعے کی طرف اپنا ذہن لے جائے بغیر نہیں رہ سکتا۔
میں نے یہ واقعہ زمانہ طالب علمی میں پڑھا تھا۔ واقعے کی تفصیلات میرے ذہن سے محو ہوگئی ہیںلیکن واقعے کے پیچھے چُھپاسبق میرے ذہن میں ہمیشہ زندہ رہا ہے۔
یہ اس زمانے کی بات ہے جب امریکہ میں ریلوے لائن بچھائی جارہی تھی۔ امریکہ کے صدر ابراہم لنکن تھے۔ ریلوے لائن بچھانے کے ٹھیکوں کے لئے ٹینڈر نوٹس جاری ہوئے تو ایک بہت بڑے صنعت کار نے وہائٹ ہاﺅس سے رابطہ کرکے صدر لنکن سے ملاقات کا ٹائم مانگا۔جہاںتک مجھے یاد پڑتا ہے اس صنعت کار کا نام ہر سٹ تھا جو پنے دور کا ” اخباری ٹائی کُون “بھی تھا۔اسے ملاقات کا وقت مل گیا۔
ملاقات کا آغاز خوش گوار قسم کی گفتگو سے ہوا۔بہت سارے سیاسی موضوعات سے گھوم پھر کر بات ریلوے لائنیں بچھانے کے منصوبے تک آپہنچی تو ہرسٹ نے اچانک کہا۔” اگر مجھے یہ سارا ٹھیکہ مل جائے تو میں آسانی کے ساتھ دس ہزا ر ڈالر کی خطیر رقم آپ کی منشاکے مطابق کسی بھی کھاتے میں خرچ کرسکتا ہوں۔“
” ٹھیکے تو تمام میرٹ پر ہی ملیں گے اور متعین کردہ طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔“ صدر لنکن نے جواب دیا۔
” رقم دس ہزار سے بڑھا کر بیس ہزار ڈالر تک کی جاسکتی ہے۔“ ہرسٹ نے کہا۔
” میں کہہ چکا ہوں کہ ٹھیکے میرٹ پر ہی دیئے جائیں گے۔ “ صدرلنکن بولے۔
” اگر رقم بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر تک کردی جائے تب بھی ؟“ ہرسٹ نے کہا۔
” آپ ایک ملین تک کردیں تب بھی۔۔۔“ صدر لنکن نے مسکرا کر کہا۔
” اور اگر رقم پانچ ملین تک کردی جائے۔؟ “ ہرسٹ نے کہا۔
اس موقع پر پہلی بار لنکن کی مسکراہٹ غائب ہوئی اور اس کے ماتھے پر تیوریاں نمودار ہوئیں۔
” میرے خیال میں ہماری ملاقات کا وقت ختم ہونے کو ہے ۔“ لنکن نے کہا۔
” میں دس ملین تک جانے کو تیار ہوں۔“ ہرسٹ بولا۔
اچانک لنکن کا رنگ سرخ ہوگیا۔ وہ اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ اور غصے سے گارڈز کو آواز دی۔گارڈز اندر آئے تو لنکن نے ان سے کہا ۔ ” اس شخص کو باہر لے جاﺅ۔“ گارڈز نے ہرسٹ کو پکڑا تو وہ بولا۔” جناب صدر۔ میں چلا جاتا ہوں۔ مگر جانے سے پہلے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ گارڈز کو باہر جانے کا حکم دیں۔“
کچھ سوچ کر لنکن نے گارڈز کو باہر بھیج دیا اور ہرسٹ سے کہا۔” کیا سوال ہے ۔؟“
” آپ اتنی دیر تک میری باتیں خوش مزاجی کے ساتھ مسکر امسکرا کر سنتے رہے۔ اچانک طیش میںکیوں آگئے ؟“ ہرسٹ نے پوچھا۔ لنکن نے قدرے توقف کے بعد جواب دیا۔” دنیا میں کوئی شخص ایسا پیدا نہیںہوا جس کی کوئی قیمت نہ ہو۔ میری بھی ایک قیمت ہے۔ اور تم میری قیمت کے قریب پہنچتے چلے جارہے تھے۔ میں نے اچانک فیصلہ کرلیا کہ تمہیں اپنی قیمت تک پہنچنے نہیں دوں گا۔ اب تم جاسکتے ہو۔“
تاریخ جانتی ہے کہ ہرسٹ صدر لنکن کو نہیں خرید سکا تھا۔ ریلوے لائن بچھانے کے ٹھیکے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق دیئے گئے۔
مگر کیا وطن ِ عزیز میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ابراہم لنکن جیسی مثالیں قائم کرسکتے ہیں؟ اگر ہیں تو وہ ایوا ن ِصدر میں براجمان نہیں۔ اور نہ ہی پرائم منسٹر ہاﺅس میں بیٹھے ہیں۔ قوم کی نظریں گھوم پھر کر سپریم کورٹ کی طرف ہی جاتی ہیں۔ان نظروں میں امیدوں کی جو چمک 9مارچ 2007ءکو پیدا ہوئی تھی وہ ماند پڑنا نہیں چاہتی۔یہ درست ہے کہ ملک ریاض حسین کے پاس ویسی ہی طاقت ہے جو ہرسٹ کے پاس تھی۔ اور اس بات کا اقرار وہ خود اپنی زبان سے کرچکے ہیں کہ وہ ایک ایسے خریدار ہیں جس کی شاپنگ لسٹ بڑی طویل ہے۔ اس بات کا اعتراف تو وزیراعظم گیلانی نے بھی کیا ہے کہ ” ہم سب ملک ریاض حسین کے دوست ہیں۔ ملک میں کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جس کے ساتھ ملک ریاض حسین کے مراسم نہ ہوں۔“
وزیراعظم صاحب یہ بات یقینا اپنے تجربے کی بنیاد پر کہتے ہوں گے۔
ملک ریاض حسین کے ساتھ ’ ’ مراسم “ کی بنیاد لازمی طور پر نظریات اور دانش پر قائم نہیں ہوگی۔ اگرچہ وہ اپنی کالم نگاری کاذکر بھی اکثر کرتے رہتے ہیں لیکن جو شخص ملک کے ” مایہ ناز “ دانشوروں پر نوازشات کی بارش کرسکتا ہو ` وہ کسی بھی قلمکار کی خدمات اپنی کالم نگاری کے لئے کیوں حاصل نہیں کرسکتا۔؟ میں ایک ایسے بڑے قلمکار کو جانتا ہوں جس نے میرے سامنے یہ اعتراف کیا تھاکہ وہ جتنا مال اپنے نام سے لکھ کر بناتا ہے اس سے کئی گنا مال ملک صاحب کو کالم نگار بنا کر بناتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ملک ریاض حسین اپنے آپ کو پیدائشی قلم کار ثابت کرنے کے لئے قرآن شریف نہیں اٹھائیںگے۔قرآن شریف کا ذکر ہوا ہے تو میں اسے پوری قوم کی بدبختی قرار دوں گا کہ ہمارے اندر اپنے مفادات کی خاطر کلامِ الٰہی کو ایک گواہ کے طور پر استعمال کرنے کا مذموم رحجان زور پکڑگیا ہے۔ گزشتہ برس ڈاکٹر ذوالفقار مرزا قرآن مجید کو ایک گواہ بنا کر کیمروں کے سامنے لائے تھے۔ پھر یہ افسوسناک عمل جناب الطاف حسین نے دہرایا۔ اب یہ ڈرامہ ملک ریاض حسین نے پیش کیا ہے۔کیا یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ فرزندان و دختران ِ توحید ورسالت کا ایمان اُس کتاب ِمقدس پر کمزور پڑ جائے جس کے ایک ایک لفظ کی حرمت کے لئے وہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے چلے آئے ہیں۔؟ میں یہاںیہ مشہور مقولہ دہراﺅں گا کہ دولت کے ہر بڑے انبار کے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے۔ او ر ملک ریاض حسین دولت کے جتنے بڑے انباروں پر کھڑے عدلیہ کو للکار رہے ہیں وہ کوئی سربستہ راز نہیں۔ اگر وہ قرآن حکیم کو ہی گواہ بناناچاہتے ہیں تو انہیں پہلے حضرت عمرفاروق ؓ کے اس حکم کو سمجھنا ہوگا جو انہوں نے حضرت عمرو العاص ؓ کو دیا تھا۔” عاص کے بیٹے۔۔۔ میرا دل نہیں مانتا کہ کوئی سچا مسلمان اپنے پاس اتنی دولت جمع کرسکتا ہے۔ اگر تم مصر کی گورنری اپنے پاس رکھناچاہتے ہو تو یہ سارا مال بیت المال میںجمع کرا دو۔۔۔“

Scroll To Top