بہت بہت بہت ہوگیا ! 16-6-2012

kal-ki-baat

فیشن ماڈلز اورپیشہ ور نوسربازوں نے جب سے ٹی وی چینلز پر قبضہ جمایا ہے ’ ملک میں صحافت کا معیار روز افزوں برق رفتاری کے ساتھ گرتا چلا گیا ہے۔ میں جب بھی وطن ِ عزیز کے سیاسی رہنماﺅں کو ان ” دو نمبر کے “ دس نمبری صحافیوں کے سامنے دست بستہ ’ سوالوں کے انتظار میں بیٹھا دیکھتا ہوں تو ایک طرف مجھے اُن پر ترس آتا ہے اور دوسری طرف اس عظیم پیشے کی بے حرمتی پر میرا خون کھولنے لگتا ہے جس کی پہچان کبھی محمد علی جوہر ’ ظفر علی خان ’ الطاف حسین)ڈان( ‘ نسیم حجازی اور نظامی برادران جیسے ناموں کے ذریعے ہوا کرتی تھی۔
الیکٹرونک میڈیا پر جاکر صحافت شو بزنس نہیں بن جایا کرتی ’ صحافت ہی رہتی ہے۔ مگر عملی طور پر ایسی صورتحال نہیں۔ جب سے ثنابچہ ’ مہر بخاری ’ مبشر لقمان اور کامران شاہد جیسے نام ابھر کر سامنے آئے ہیں ’ صحافت نے شوبز نس اور تھیٹر کا رنگ اختیار کرلیا ہے۔ اس افسوسناک رحجان کے پیچھے ” ریٹنگ“ بڑھانے کی خواہش تو ہے ہی مگر ساتھ ہی صحافت کو کاروبار کا ذریعہ بنانے کا تصور بھی ہے۔ میں جناب ریاض حسین ملک کے ساتھ مہر بخاری اور مبشر لقمان کے مشترکہ انٹرویو کو اسی زاویہ ءنگاہ سے دیکھتا ہوں۔ کاروبار کا مطلب سودا خریدنا اور بیچنا ہے۔ متذکرہ انٹرویو میں جناب ریاض حسین ملک کی صورت میں ایک مستند خریدار موجود تھا۔ سودا کیا تھا ؟ آپ سمجھ سکتے ہیں۔ بیچنے والے کون تھے؟ انہیں آپ نے دیکھ لیا۔ ایک بیچنے والے کو آپ دیکھ نہیں سکے۔ صرف اس کا نام سنا۔ یہ نام پہلے پنجاب کی ” تعلیمی صنعت “ کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔ اب یہ میڈیا کی دنیا میں بھی اپنی ” ساکھ“ بنا رہا ہے۔
مگر یہ کیسی ساکھ ہے کہ طلعت حسین ڈان نیوز میں اپنے پروگرام کے دوران یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ مجھے اپنے آپ سے شرم آرہی ہے !
شرم اگر نہیں آئی تو مہر بخاری کو نہیں آئی جو اپنے” کارنامے “کادفاع بڑی خوداعتمادی کے ساتھ کرتی نظر آئی۔
یوں تو طوائفیں بھی اپنے پیشے کا دفاع یہ کہہ کر لیتی ہیں کہ ” یہ میرا بزنس ہے۔ میرا ذریعہ معاش ہے !“
لکھنے کے لئے میرے پاس بہت کچھ ہے مگر اس کالم کی پہچان ” اختصار “ ہے۔ آخر میں میں صرف اس ڈانٹ کا ذکر کروں گا جو جسٹس (ر)وجیہہ الدین نے ایکسپریس نیوز کے اینکر پرسن کامران شاہد کو پلائی۔
کامران شاہد نے یہ سوال کیا تھا کہ ” کیا ان سارے الزامات کے دباﺅ میں چیف جسٹس اپنے فرائض دیانتداری کے ساتھ انجام دے سکیں گے۔“
سید وجیہہ الدین صاحب کا جواب تھا۔
” تمہیں جرا¿ت کیسے ہوئی کہ اتنے بڑے مرتبے کے آدمی کے بارے میں ایسا تحقیر آمیز سوال کرو۔ میں جانتا ہوں کہ تمہارے منہ میں اور تم جیسے دوسرے لوگوں کے منہ میں زبان کون ڈال رہا ہے ۔“
جسٹس وجیہہ الدین کا غصہ مجھے بڑا اچھا لگا۔ کل اس قسم کے شو بوائز اگر قائداعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کی بصیرت کے بارے میں سوالات پوچھنے لگے تو ہم کیا کریں گے ؟ کدھر جائیں گے۔ ؟
Enough is Enough
(بہت بہت بہت ہوگیا)

Scroll To Top