یہ ملک عجیب ہے کہ یہاں جرا ئم اور خطا تو ہوتی رہتی ہے مگر سزا کسی کو نہیں ملتی۔۔۔

aaj-ki-bat-logo

ترقی یافتہ جمہوری معاشروں کی ایک بڑی پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ وہاں اگر حکومت کے کسی ذمہ دار فرد کے زیرِ اختیارو انتظام چلنے والے کسی شعبے میں کوئی بڑا نقصان ہوجائے تو وہ فوری طور پر مستعفی ہوجایا کرتا ہے یا کم ازکم استعفیٰ دینے کی پیشکش ضرور کردیتا ہے۔ وہ اگر براہ راست اس نقصان کا ذمہ دار نہ بھی ہو تو بھی وہ اس بات کو اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ خود کو احتسابکے لئے پیش کردے۔ اور احتساب کے عمل کو حرکت میں لانے کے لئے وہ ضروری سمجھتا ہے کہ جب تک اس کی بے قصوری مکمل طور پر ثابت نہ ہوجائے وہ اپنی گزشتہ ذمہ داریوں اور اختیارات سے دور رہے۔
پاکستان بدقسمتی سے ایک ایسا ملک ہے جس میں بڑے سے بڑے قومی نقصان کی ذمہ داری بھی کوئی شخص قبول نہیں کرتا۔ مجھے میڈیا میں کام کرتے 54برس ہوگئے ہیں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی وزیر نے کسی بھی وجہ سے استعفیٰ دیا ہو۔ بڑے بڑے سیکنڈل ہوتے رہے ہیں۔ قومی خزانے کو لرزا دینے والے نقصانات پہنچتے رہے ہیں۔ ایسے ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جن میں جانوں تک کا اتلاف ہوا لیکن ذمہ داری قبول کرنے کے لئے کوئی ” وزیر باتدبیر“سامنے نہیں آیا۔
نندی پور پاور پراجیکٹ نے قومی خزانے کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے ٹیکس دہندگان کو یہ نقصان بہت بڑے پیمانے پر برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس بات پر تو اختلاف ہوسکتا ہے کہ نقصان کا حجم دس ارب ہے ، بیس ارب ہے تیس ارب ہے یا چالیس پچاس اور ساٹھ ارب ہے۔ لیکن اس حقیقت کو سب ہی مان چکے ہیں کہ نقصان ہواہے۔
اگرچہ زبانی طور پر خواجہ آصف نے اس نقصان کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن ذمہ داری کو صرف بیانات کی حد تک قبول کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔؟خواجہ آصف نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نقصان تو ا±س وقت ہی ہوچکاتھا جب پیپلزپارٹی کی حکومت جاتے وقت نالائقی اور کرپشن کی ایک داستان چھوڑ گئی تھی۔
لیکن الزام یہ بھی ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی جو فیصلے کئے وہ مزید قومی سرمائے کے ڈوبنے کا باعث بنے۔
اگر خواجہ آصف چاہیں تو شفافیت کی ایک شاندار مثال قائم کرسکتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ اس وزارت سے استعفیٰ دے دیں جس کے انتظام میں یہ پراجیکٹ تھا۔ استعفیٰ دینے کے بعد وہ وزیراعظم سے مطالبہ کریں کہ ایک مکمل طور پر غیر جانبدار تحقیقاتی کمیشن بنے جو فیصلہ کرے کہ اتنے بڑے قومی نقصان کی حقیقی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
یہ ملک عجیب ہے کہ یہاں جرا ئم اور خطا تو ہوتی رہتی ہے مگر سزا کسی کو نہیں ملتی۔۔۔
(یہ کالم پہلے بھی 18-11-2015کو شائع ہو چکا ہے)

Scroll To Top