مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر……

jhoot
مصنف غلام اکبر
20-11-2017
..قسط 16..


اس صورت میں پاکستان کو کم از کم یہ فائدہ تو پہنچ سکتا تھا کہ آئندہ سوویت یونین اپنی بھارت نوازی میں ایک محتاط حد سے آگے بڑھنے سے گریز کرنے پر مجبور ہو جاتا۔
اگر ایوب خان کو امریکہ کی حمایت کی امید ہوتی تو وہ شاید اپنے اصل موقف پر قائم رہتے، لیکن اب جو صورت حال تھی اس میں سخت رویہ اختیار کرنے کا مطلب دونوں بڑی طاتوں کی مشترکہ ناراضگی کا خطرہ مول لینا تھا۔ چنانچہ ایوب خان نے سوویت وزیراعظم سے درخواست کی کہ انہیں اپنے وفد کے باقی ارکان سے مشورہ کرنے کی مہلت دی جائے۔
پاکستانی وفد کے ارکان میں بھٹو بھی تھا۔ وہ پاکستان کا وزیرخارجہ تھا۔ اس لئے یہ بات قرین قیاس نہیں کہ ایوب خان نے اس سے مشورہ نہیں کیا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ سوویت مسودے میں چند الفاظ یہ جملوں کے ردّ وبدل سے پاکستان نے جو آخری مسودہ تیار کیا وہ خود بھٹو کی اپنی تحریر میں تھا۔ یہ مسودہ آج بھی اس وفد میں شامل ایک ایسے شخص کے پاس محفوظ ہے جو بھٹو کے برسرِاقتدار آنے کے بعد کچھ عرصے تک تو زیرِعتاب رہا۔ لیکن اس کے بعد جس پر بڑی فیاضانہ نوازشیں ہوئیں۔
اس نظر ثانی شدہ مسودے کی نقل کو سیگن کے حوالے کر دی گئی سوویت وزیراعظم نے لال بہادر شاستری کے ساتھ ملاقات کی اور تھوڑی دیر بعد ایوب خان کو بھی اس ملاقات میں شامل کر لیا گیا۔ وہ سمجھوتہ طے پاچکا تھا جو ”اعلان تاشقند“ کے نام سے مشہور ہوا اور جسے بھٹو نے اپنے قومی امیج کی تشکیل اور ایوب خان کی قومی حیثیت کے قتل میں ایک انتہائی مﺅثر اور طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
یہ ایوب خان کی بدقسمتی تھی کہ سمجھوتے کے اعلان کے فوراً بعد لال بہادر شاستری کا انتقال ہوگیا۔ ایسی ہی بدقسمتی کا سامنا ایوب خان کو چندن برس قبل کرنا پڑا تھا جب پنڈت جو اہرلال نہرو تصفیہّ کشمیر کے سلسلے میں بعض عملی اقدامات کرنے کے بعد اچانک انتقال کر گئے تھے۔
شاستری کی موت بہر حال ایوب خان کے سیاسی زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
اعلانِ تاشقند پر دستخط کرنے سے پہلے ایوب خاں اور شاستری کے درمیان سمجھوتے پر عملدرآمد کے سلسلہ میں جو بھی باتیں طے ہوئی تھیں ان کا ایک بنیادی گواہ صفحہّ ہستی سے مٹ گیا تھا اور اب اعلانِ تاشقند کی حیثیت الفاظ اور جملوں سے زیادہ نہیں تھا۔ شاستری کی موت نے ان الفاظ اور جملوں کو بے جان بنا کر رکھ دیا تھا اور ایوب خان تنہا ان میں جان نہیں ڈال سکتے تھے۔
یوں لگتا ہے جیسے قدرت خود بھٹو کے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے راستہ ہموار کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ قدرت نے ایوب خان سے یکے بعد دیگرے کئی ایسی غلطیاں کرائیں جن سے بھٹو نے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔
ایوب خان کی پہلی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے یکم ستمبر۵۶۹۱ءکی رات کو قوم سے خود خطاب کرنے کی بجائے یہ موقع بھٹو کو دیا۔
ایوب خان کی دوسری غلطی یہ تھی کہ انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے بھٹو کو بھیجا جس نے اپنا ”قومی امیج“ بنانے کی مہم اس وقت تک کھل کر شروع کر دی تھی۔
یہ دو غلطیاں ایوب خان نے اس اعتماد کی وجہ سے کیں جو انہیں بھٹو کی ذات پر تھا۔
لیکن ایوب خان نے جو تیسری غلطی کی اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔
اور وہ غلطی یہ تھی کہ اُدھر ایوب خان تاشقند میں لال بہادر شاستری کی ارتھی کو کندھا دے رہے تھے اور اِدھر بھٹو پاکستان پہنچ کر یہ اعلان کر رہا تھا کہ روسی سرزمین پر پاکستانی مفادات کا سودا کر کے صدر پاکستان نے قوم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ بھٹو باقی وفد سے پہلے پاکستان پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوا؟۔یہ بڑے ہی اہم سوالات ہیں۔
O O

Scroll To Top