مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر……

jhootمصنف غلام اکبر
18-11-2017.
..قسط 14


چنانچہ سلامتی کونسل میں بھٹو نے ایک ایسی جوشیلی تقریر کی جس کا ایک ایک لفظ اہلِ پاکستان کے دلی جذبات کی عکاسی کرتاتھا۔ اس جذباتی تقریر میں بھٹو نے تمام سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ کر ”بھارتی کتے“ جیسے الفاظ استعمال کرنے سے بھی گریز نہ کیا اس تقریر کا آخر تک لب و لہجہ ایسا تھا جیسے پاکستان کسی بھی قیمت پر جنگ بندی قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ مگر پھر بھٹو نے اچانک ایک کاغذ اٹھایا اور بڑے ڈرامائی انداز اور رندھی ہوئی افسردہ آواز میں اعلان کیا کہ اسے ابھی ابھی جنگ بندی قبول کر لینے کی ہدایت ملی ہے۔
یہ محض ڈرامہ تھا۔ بھٹو کو دو روزقبل ہی جنگ بندی کے فیصلے کا علم ہو چکا تھا بلکہ وہ خود اس فیصلے کا ایک مرکزی کردار تھا۔ مگر سلامتی کونسل میں اس فیصلے کا اعلان کرنے سے پہلے اس نے جان بوجھ کر یہ تاثر دیاکہ وہ جنگ بندی کے خلاف ہے۔ اس ڈرامے کا مقصد اہل پاکستان پر یہ ظاہر کرنا تھاکہ ایوب خاں نے جنگ بندی کا فیصلہ بھٹو کو اعتماد میں لئے بغیر کیا تھا اور جہاں تک بھٹو کا تعلق تھا وہ ہر قیمت پر ” بھارتی کتوں“ کے خلاف جنگ جاری رکھنا چاہتا تھا۔
بھٹو کی یہ پرفارمنس یکم ستمبر والی پرفارمنس سے بھی زیادہ شاندار تھی اور مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ میں بھی ان لاکھوں قوم پرستوں میں شامل تھا جو بھٹو کی اس زبردست پرفارمنس کی وجہ سے اس کے شیدائی بن گئے تھے۔
ایوب خان کو بھٹو کے بارے میں کچھ شکوک وشہبات پیدا ہو چکے تھے۔ اسی لئے انہوں نے ایس ایم ظفر کو بھی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے بھیجا تھا۔ مگراس کے باوجود بھٹو اپنی چال بڑی کامیابی کے ساتھ چل گیا۔ جب بعد میں اسے ایوب خاں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے بڑی ریاکاری سے کام لے کر اپنے آقا کو یہ یقین دلا دیا کہ اس نے یہ ڈرامہ کسی بری نیت سے نہیں بلکہ دنیا کو صرف یہ بتانے کے لئے کھیلاتھا کہ پاکستان اپنی خوشی سے نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے غیر منصفانہ دباو¿ کے تحت جنگ بندی قبول کرنے پر آمادہ ہوا ہے۔ بھٹو کی قوتِ استدلال نے ایوب خان کو بڑی حد تک مطمئن کر دیا۔
جنگ بندی کے سلسلہ میں سلامتی کونسل نے جو قرار داد منظور کی تھی اس کی رو سے فوجوں کی واپسی اور دوسرے امور پر تصفیہ کے لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہونے تھے۔ جنگ میں پاکستان نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے کافی بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔مقابلتاً پاکستان کا بہت کم علاقہ بھارت کے قبضے میں گیا تھا بھارتی فوجیوں کو بھی بڑی کافی تعداد میں پاکستان نے جنگی قیدی بنا لیا تھا۔ ظاہر ہے کہ مجوزہ مذاکرات میں پاکستان ایک طاقتور فریق کی حیثیت سے شامل ہو رہا تھا اور پوری قوم بجا طور پر یہ تمنا رکھتی تھی کہ پاکستان اپنی اس حیثیت سے پورا پورا فائدہ اٹھا کر بھارت کو مسئلہ کشمیر کے تصفیے پر مجبور کر ے۔
مذاکرات میں مصالحتی کردار ادا کرنے کے لئے سویت یونین نے جب اپنی خدمات پیش کیں تو ایوب خان نے انہیں فوراً قبول کر لیا۔ سویت یونین بھارت کا صرف دوست ہی نہیں باقاعدہ حلیف اور سرپرست بھی تھا۔ پھر بھی ایوب خان نے اس کی مصالحتی پیشکش کو ٹھکرانا مناسب نہ سمجھا۔ کیونکہ پاکستان کو امریکہ سے جو مایوسی ہوئی تھی اس کے پیشِ نظر سوویت یونین کے ساتھ بہتر روابط پیدا کرنے کے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھانا مناسب نہیں تھا۔ امریکہ نے جنگ کے دوران پاکستان کو اسلحہ اور فاضل پرزہ جات کی فراہمی روک کر عملاًواضح کر دیا تھا کہ سیٹو اور سنٹو جیسے معاہدے صرف امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے ہیں دوسری طرف سوویت یونین بھارت کو دھڑا دھڑ اسلحہ فراہم کررہا تھا۔ ایوب خان نے سوچا کہ امریکہ جیسے دوست پر تو بھروسہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ پھر کیوں نہ سوویت یونین کی بھارت نوازی کو اعتدال پر لانے کے لئے سوویت لیڈروں کی ”نیک نیتی“ پر اعتماد کا اظہار کیاجائے۔ چنانچہ ایوب خان بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کے ساتھ مذاکرات کے لئے تاشقند گئے اور اپنے ساتھ جو وفد لے گئے اس میں بھٹو بھی شامل تھا ۔
(جاری ہے)

Scroll To Top