میں کیا جواب دیتا ؟ 14-6-2012

kal-ki-baat

ایک کرم فرما نے فون پر بڑی معصومیت کے ساتھ مجھ سے ایک ایسا شکوہ کیا ہے جسے میں اپنے قارئین کے علم میں لائے بغیر نہیں رہ پا رہا۔
موصوف نے گفتگو کا آغاز ملک کی عمومی طور پر تشویش ناک صورتحال پر اظہار خیال کے ساتھ کیا۔ پھر اچانک پوچھا۔
” ایسا کیوں ہے کہ ایم کیو ایم کے چھوٹے بڑے تمام لیڈر خدا اور رسول کا نام اتنی مرتبہ نہیں لیتے جتنی مرتبہ الطاف بھائی کا لیتے ہیں۔؟“
” میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا۔ “ میں نے جواباً کہا۔
” اگر آپ ان کے بیانات پڑھیں تو ان کا کوئی جملہ الطاف بھائی کے ذکر کے بغیر شروع نہیں ہوتا۔ الطاف بھائی کی ہدایت ہے کہ کھانا ضرور کھایا کرو۔ الطاف بھائی کا کہنا ہے کہ ضرورت مندوں کے کام آنا چاہئے۔ الطاف بھائی نے حکم دیا ہے کہ اس مرتبہ تمام روزے رکھنا۔کیا یہ تمام لوگ کٹھ پتلیاں ہیں جن کی ڈور لندن میں بیٹھے الطاف بھائی کے ہاتھوں میں ہے ؟ “ موصوف نے ذرا تلخ لہجے میںکہا۔
” ایم کیو ایم ایک منظم جماعت ہے۔ “ میں نے رائے دی۔ ” اگر اس کے لیڈر اور کارکن اپنے قائد کو ہمہ وقت اپنی سو چ میں اور اپنی زبان پر رکھتے ہیں توہمیں ان سے سبق سیکھنا چاہئے۔“
” آپ کا مطلب ہے کہ ہم سب بھی روبوٹ بن جائیں جن کے منہ سے اٹھتے بیٹھتے خدا اور اس کے رسول کی بجائے اپنے قائد کا نام نکلے۔۔۔ ؟“ موصوف نے پوچھا۔ میں کیا جواب دیتا ؟

Scroll To Top