انسانی سمگلنگ پاکستان میں صنعت بن چکی ؟

zaheer-babar-logo


بلوچستان کے ضلع کیچ میں قتل ہونے والے پنجاب کے 15نوجوانوں بارے تفصیلات سامنے آنے کا سلسلہ بدستوری جاری ہے ۔ قتل کیے جانے والے خاندانوں کی آہ وبکا ایک طرف مگر امکان نہیں کہ اس واقعہ کے درپردہ کردار بے نقاب ہو کر سزا پاسکیں گے۔ معاملہ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ الیکڑانک کے علاوہ پرنٹ میڈیا نے بھی اس سانحہ کو اتینی اہمیت نہیں دی جس کی بجا طور پر ضرورت تھی۔ ادھر تلخ حقیقت یہ ہے کہ غیر قانونی طور پر اپنے اورگھروالوں کے روشن مسقبل کے لیے مغربی ملکوں میں جانے کے خواہش مند نوجوان بڑی حد تک اس پر خطر راستہ سے آگاہ ہوتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ تازہ سانحہ بھی ایسے نوجوانوں کو ان کے ارادوں سے بازر کھنے میں کامیاب نہیں ہورہا۔ ایک ایسے ہی نوجوان سے جب معروف غیر ملکی نشریاتی ادارے کے نمائندے نے سوال کیا تو اس کا کہنا تھا کہ ایک طرف غربت اور بے روزگاری ہے تو دوسری جانب موت کا خطرہ اس کے بعقول اگر وہ کسی نہ کسی طرح یورپ پہنچ گیا تو مسقبل سنور جانے کا امکان ہے۔ اسی گفتگو میں ایجنٹ کو لاکھوں روپے دینے والے ایک اور نوجوان کے بعقول کہ اس نے جب والدین سے اپنی زندگی کو درپیش خطرات کا زکر کیا تو ان کا موقف تھا کہ ایجنٹ اب لاکھوں روپے واپس نہیںکریگا۔ “
ملک کے بعض علاقوں میں بالخصوص پنجاب میں غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجوانے والے سالوں سے نہیں دہائیوں سے متحرک ہیں۔ درست کہا گیا کہ کہ پاکستان میں انسانی سمگنگ باقائد ہ صنعت بن چکی ۔ اس سلسلے میں محض ایجنٹ ہی زمہ دار نہیں بلکہ پورا نیٹ ورک ہے جس میں متعلقہ سرکاری محکموں کے لوگ بھی شامل ہیں۔یقینا اس حقیقت کو جھٹلانا مشکل ہے کہ حکومت کسی طور پر اس دھندے کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں۔ہر بڑے سانحے کے بعد حکومت ڈھنگ ٹپاو اقدمات کے زریعہ مسلہ حل کرنے کا تاثر ضرور دیتی ہے مگر عملا ایسا نہیں۔ تاحال کسی ایک واقعہ کے زمہ دار کو بھی ایسی سزا نہیں ملی جس کے نتیجے میں دوسرے عبرت حاصل کریں، حد تو یہ ہے کہ ایجنٹوں کی نشاندہی بھی ہوتی ہے وہ گرفتار ہوکر جیل بھی جاتے ہیںمگر ضمانت کروا کر دوبارہ وہی مکروہ کاروبار شروع کردیتے ہیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ معاشرے میں امیر وغریب کے درمیان فرق بہت بڑھ چکا۔مڈل کلاس اور غریب پاکستانی نوجوان یہ سمجھتا ہے کہ جلد امیر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مغربی ملک میں جا بسے تاکہ اسے اس کی محنت کا خاطر خواہ معاوضہ ملے ۔ سماج میںدیکھا دیکھی ایسی قدریں فروغ پاچکیں جنھیں ہرگز صحت مندانہ نہیں کہا جاسکتا۔ دراصل دولت کا حصول ہی ترجیح اول قرار پاچکا اس کے لیے حلال اور حرام کا امتیاز بھی تیزی سے ختم ہورہا۔ المیہ یہ ہے کہ اکثر وبشیتر ایسے رجحانات کے فروغ پانے میں ماں باپ خود پیش پیش ہوتے ہیں۔
معاشرے میں آنے والی اس منفی تبدیلی کی روک تھام کے لیے بہت کم کام ہورہا ہے۔ ملک میں الیکڑانک میڈیا تیزی سے اپنا اثر رسوخ پھیلا رہا مگر اہم قومی مسائل اجاگرکرنے یا ان کو حل کرنے کے اس کا کردار تاحال محدود ہے۔
سیاست دانوں سمیت مختلف طاقتور لوگوں کی کرپشن کی خبریں بھی پاکستانی نوجوانوںمیں مایوسی پیدا کررہی۔ ایک طرف ملکی میڈیا بااثر لوگوںکے کرتوتوں سے عام آدمی کو آگاہ کررہا تو دوسری جانب ملکی عدالتی نظام کسی بھی بڑی مچھلی کو نشان عبرت بنانے میں کامیاب نہیںہوسکا یعنی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے والے بہت سارے افراد دانستہ یا غیر دانستہ طور پر مایوسی پھیلانے کے مرتکب ہورہے ۔ یہ جملہ ہمارے ہاں عام ہے کہ یہاں کچھ نہیںبدلنے والا۔ یقینا حالیہ سالوں میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں مگر نہ تو ان کامیابیوں کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں پیش کیا گیا اورنہ ہی اس کے نتیجے میں ملکی معاشی صورت حال میں خاطر خواہ بہتری سامنے آئی۔ حزب اقتدارکے سیاست دان ہوں یا حزب اختلاف سب ہی ملک کے معروف کاروباری لوگ ہیں۔بظاہر ایک دوسرے سے سیاسی اختلاف کرنے والے اکثر وبیشتر ایک دوسرے کے کاروبار میں شریک کار کا کردار نبھا رہے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار کو لوگ یوں بھی یاد کرتے ہیںکہ ان دنوں ملکی معیشت بہتر دکھائی دیتی تھی۔ لوڈشیڈنگ کے اوقات کار بھی اس قدر زیادہ نہ تھے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کی جانب سے امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں سے تعاون کے نتیجے میں کئی شعبوں میںسرمایہ کاری سامنے آئی۔ ریئل اسٹیٹ کے شبعے میں جو ترقی ہوئی وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ اسے اہل پاکستان کی بدقسمتی ہی کہنا چاہے کہ تاحال جمہوریت کی دعویدارقیادت کسی طور پر اپنی زمہ دایاں پوری کرنے کو تیار نہیں۔ عوام کے ووٹوں سے برسر اقتدار آنے کے دعویدار ضرور ہیں مگر عوام سے بڑی حد تک لاتعلق نظر آتے ہیں۔
بلوچستان میںایک ہی دن پندرہ نوجوانوں کا قتل اور پھر پولیس آفیسر کی بیٹے اور پوتے سمیت ٹارگٹ کلنگ ایک طرف صوبہ میں امن وامان کی مخدوش صورت حال بیان کرگی تو دوسری جانب مملکت خداداد پاکستان میں انسانی جان کے ارزاں ہونے کا پھر ثبوت مل گیا ۔ سچ تو یہ ہے کہ دہشت گردی ہی نہیں آئے روز ہونے والے ٹریفک حادثات بھی ارباب اختیار کی سنگدلی اور بے حسی کا ثبوت ہیں۔ اب اس تاثر کو ختم کرنا ہوگا کہ پاکستان عام وخواص میں تقسیم ہوچکا۔ ایک طرف وہ بااثر طبقہ ہے جو کسی نہ کسی شکل میں حکومت کررہا تو دوسری جانب وہ کروڈوںپاکستانی ہیں جن کی زندگی اور عزت دونوں کی کوئی قدر قیمت نہیں ۔

Scroll To Top