مسلم لیگ (ن) تقسیم، اپوزیشن نے حکومت کا ساتھ دیا

  • قومی اسمبلی میں حلقہ بندی، انتخابات ترمیمی بل2017ءمتفقہ طور پر منظور، ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ اصل شکل میں بحال
    حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے تقریباً60ارکان اسمبلی اجلاس میں نہیں آئے‘تمام پارلیمانی جماعتوں کی ختم نبوت کے حلف نامے سے متعلق بل کی متفقہ منظوری پر مبارکباد
  • ہمارا آج بھی مطالبہ دوبارہ مردم شماری کا ہے‘ فاروق ستار، ختم نبوت کے ترمیمی بل میں قادیانی غیر مسلم برقرار رہیں گے، قادیانیوں کی علیحدہ ووٹر لسٹ ہوگی ،وزیر قانون کی ایوان کو بریفنگ
  • ہم صفائیاں دینے کے پابند نہیں، وزیر قانون کے استعفے کا مطالبہ قبول نہیں ،وزیر داخلہ کے بیان پر شیخ رشید کی کڑی تنقید، تحفظات کے باوجود حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم کی حمایت کر رہے ہیں ،قریشی

قومی اسمبلی

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی نے ختم نبوت کی قانونی شقوں کو اصل حالت میں بحال کرنے کےلئے انتخابات ترمیمی بل 2017 کثرت رائے سے منظور کرلیا ، ختم نبوت کے ترمیمی بل میں قادیانی غیر مسلم برقرار رہیں گے، قادیانیوں کی علیحدہ ووٹر لسٹ ہوگی جبکہ 7 سی کے مطابق قادیانی مسلمانوں کے ساتھ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہوں گی۔۔ جمعرات کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون زاہد حامد نے الیکشن ترمیمی بل 2017 پیش کیا۔زاہد حامد نے کہاکہ ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد انتخابات ایکٹ 2017ءمیں ترمیم کرنے کا بل انتخابات (ترمیمی) بل 2017ءقومی اسمبلی میں پیش کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لایا جائے۔ ایوان سے منظوری کے بعد وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے بتایا کہ 2002ءکے عام انتخابات  سے قبل حکومت نے انتخابی آرڈر 2002ءنافذ کیا جس میں اسمبلیوں میں نشستوں کا اضافہ کیا گیا۔ جوائنٹ الیکٹورل کا بھی فیصلہ ہوا ،اس میں سیون بی اور سیون سی کی شق شامل کی گئی جس کے تحت احمدی‘ مرزئی‘ لاہوری گروپ‘ قادیانی غیر مسلم ہیں ،سیون سی 10 دن کے لئے بھی بحال کرنے کی میں نے تجویز دی تھی کہ 10 دن کی شق ختم کرکے اس کو آپریشنلائز کیا جائے تاہم اس پر اتفاق نہ ہوسکا۔ آئینی (ترمیمی) بل میں اس کو بحال کیا جاچکا ہے۔ جماعت اسلامی نے اسی وقت یہ ترمیم لانے کا کہا تھا ،سینیٹ میں پی ٹی آئی کے سینیٹر کی طرف سے الگ بل بھی لایا گیا ہے۔ اس کو کابینہ سے منظور کرایا گیا اب اس کی پارلیمانی رہنماﺅں کے اجلاس میں بھی منظوری ہوگئی ہے۔ اس کو اب مین بل میں لا رہے ہیں۔ انگریزی اور اردو کے دونوں حلف نامے بھی اس میں آگئے ہیں۔ انہوں نے اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے سپیکر کے کردار کو سراہا اور تمام پارلیمانی لیڈروں کا شکریہ ادا کیا۔ زاہد حامد نے کہا کہ مجھ پر بے بنیاد الزامات اور غلط نام استعمال کیا گیا۔ اس میں کوئی سازش یا بد نیتی نہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ مجھ سے کوئی ایسی بات منسوب ہو جس سے نبیﷺ کی شان میں نعوذ باللہ کوئی حرف آئے۔ میں نے دو حج کئے ہیں میں سچا عاشق رسولﷺ ہوں۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے کسی سے اپنے ایمان کا سرٹیفکیٹ نہیں لینا ،ہم سب مسلمان ہیں، ہمارا اتنا ہی ختم نبوت پر ایمان ہے جتنا کسی اور کا ہے۔ زاہد حامد کو یہ وضاحتیں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،ہم ہر کسی کو صفائی دینے کے پابند نہیں ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ زاہد حامد نے ذاتی وضاحت کی ہے ہم نے یہ مطالبہ نہیں کیا۔ سپیکر نے ایوان سے بل کی شق وار منظوری لی جس کے بعد بل ایوان میں منظوری کے لئے پیش کیا گیا جسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔وزیر زاہد حامد نے کہا کہ ختم نبوت کے ترمیمی بل میں قادیانی غیر مسلم برقرار رہیں گے، قادیانیوں کی علیحدہ ووٹر لسٹ ہوگی، جبکہ 7 سی کے مطابق قادیانی مسلمانوں کے ساتھ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہوں گی۔بعد ازاں نکتہ اعتراض پر تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایوان سے ختم نبوت کے بل کی متفقہ منظوری پر پورا ایوان مبارکباد کا مستحق ہے۔ ایجنڈے پر نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے ترمیمی بل بھی ہے۔ پارلیمانی جماعتوں میں اس بات پر اتفاق تھا کہ انتخابات وقت پر ہوں اور حلقہ بندیوں کا کام بھی ہو۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان نے اسے مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانے کا کہا۔ ہم نے اس بل پر مکمل تعاون کیا ہے اس بل کو متعارف کرایا جائے۔ ہم وقت پر انتخابات‘ جمہوریت کے تسلسل کے خواہاں ہیں‘ حکومت یہ بل منظور کرائے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ سی سی آئی میں ایک فیصد بلاکس کی دوبارہ تصدیق کا فیصلہ ہوا ہے۔ ہم نے اپنے تحفظات کو ایک طرف رکھ کر اس بل کی منظوری پر حمایت کا فیصلہ کیا۔ بغیر تاخیر کے اس عمل کو مکمل کیا جائے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوگی کہ کراچی اور اندرون سندھ کا بڑا مسئلہ مردم شماری کے نتائج بن گیا ہے۔ ہمارا آج بھی مطالبہ دوبارہ مردم شماری کا ہے تاہم خوشی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے ہمارے تحفظات دور کرنے کی بات کی۔ مولانا امیر زمان نے کہا کہ ختم نبوت کے حلف نامہ کی بحالی پر تمام ایوان کو مبارکباد دیتے ہیں۔ ہم انتخابات بروقت چاہتے ہیں۔ ہماری تجویز ہے کہ بلوچستان کے ہر ضلع کے لئے ایک قومی اسمبلی میں نشست مختص کی جائے۔ انتخابات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ حلقہ بندیوں کا معاملہ صرف پیپلز پارٹی‘ ایم کیو ایم یا پی ٹی آئی کا نہیں تھا تمام سیاسی جماعتوں کا تھا‘ سپیکر چیمبر میں تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں کو اعتماد میں لیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے حلف نامے کے قانون میں نئی ترمیم خوش آئند بات ہے۔ اسلام آباد اس وجہ سے آج بند ہے۔ لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کچھ لوگوں نے وفاقی دارالحکومت کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ان سے مذاکرات کرکے مسئلہ حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے معاملے پر ہمارے بھی تحفظات ہیں۔ قبائلی علاقوں کی آبادی کم ظاہر کی گئی ہے۔ قبائلی علاقوں میں پانچ فیصد کی مردم شماری کی جانی چاہیے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت پنجاب کی پانچ سیٹیں کم ہوگئی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سیٹوں پر اضافہ ہوا ہے۔ ہم آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں۔ ہم اداروں کا استحکام چاہتے ہیں۔ ریٹائرڈ افسران کنٹریکٹ پر دوبارہ بھرتی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ آفتاب شیرپاﺅ نے کہا کہ حلقہ بندیوں کا معاملہ بہت پہلے حل ہو جانا چاہیے تھا۔ ہم نہیں چاہتے کہ الیکشن میں تاخیر ہو۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کی بنیاد پر اگر قومی اسمبلی کی نشستیں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بڑھ رہی ہیں تو صوبائی اسمبلی کی نشستیںبھی اسی تناسب سے بڑھائی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بیورو برائے شماریات میں ہر صوبے کا ایک ایک نمائندہ ہونا چاہیے۔ حاجی شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ فاٹا کے مکینوں کے ساتھ 2017ءکی مردم شماری میں بہت زیادتی ہوئی ہے۔ امید ہے کہ پانچ فیصد کے آڈٹ کا ہمیں بھی فائدہ ہوگا۔صاحبزادہ طارق اللہ کے نکتہ اعتراض کے جواب میں وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ اسلام آباد میں دھرنے دینے والوں کے ساتھ پانچ چھ روز سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ،ان کے مطالبات ایسے ہیں جو پورے نہیں کئے جاسکتے۔ وزیر قانون کے استعفے کا مطالبہ قبول نہیں۔ ایسا ہوگیا تو پھر کوئی بھی دو تین ہزار افراد آکر دھرنا دے کر کسی کے بھی استعفے کا مطالبہ شروع کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حب رسول اور ختم نبوت کا دعویٰ کرنے والے شہریوں کے حقوق کا خیال کریں ،حضور اکرمﷺ نے تو لوگوں کےلئے آسانیاں پیدا کیں۔ ان لوگوں نے لوگوں کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔ ایک بچہ جاں بحق ہوچکا ہے‘ حکومت کے پاس دو راستے ہیں کہ ایک تو مذاکرات کریں اور دوسرا کوئی کارروائی کرے۔ ان میں ایسے سازشی لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن جیسا واقعہ ہو اور یہاں تشدد ہو اور ملک میں افراتفری پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا دینے والے اسلام آباد میں خلل نہ ڈالیں جس سے ملک کے مفاد کو نقصان پہنچے۔ اگر دھرنا دینا ہے تو اس کے لئے اسلام آباد کا پریڈ گراﺅنڈ حاضر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والا مسلمان نہیں ہو سکتا۔ انسان کسی کے جتنی اور جہنمی ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ کلمہ پڑھنے والا ہر شخص ختم نبوت کا داعی ہے۔ حکومت ختم نبوت کی داعی ہے‘ اگر ختم نبوت پر حرف آیا تو حکومت اور پوری پارلیمنٹ مل کر اس کا دفاع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی مذہبی جماعتیں جرگہ لے کر دھرنا دینے والوں کے پاس جائیں اور انہیں کہیں کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ان کے وہاں بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی میں کمیشن آرڈیننس 1979ءمیں مزید ترمیم کرنے کے بل 2017ءپر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی۔ چیئرمین چوہدری محمود بشیر ورک نے کمیشن آرڈیننس 1979ءمیں مزید ترمیم کے بل 2017ءپر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی میں سٹیٹ بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی پاکستان کی معیشت بارے سالانہ رپورٹ 2016-17ءپیش کردی گئی۔ ارلیمانی سیکرٹری رانا محمد افضل نے سٹیٹ بنک آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی پاکستان کی معیشت کے بارے میں سالانہ رپورٹ برائے سال 2016-17ءقومی اسمبلی میں پیش کی۔

Scroll To Top