قوم کو آج ویسے ہی معجزے کی ضرورت ہے جیسا معجزہ قدرت نے فرعون کو غرق کر کے دکھایا تھا!

aaj-ki-bat-logo

تقریباً ایک عشرے کی غیر حاضری کے بعد مجھے اپنے قارئین سے کلام کرتے بے حد خوشی محسوس ہورہی ہے ۔آپ میں سے بہت سارے ایسے ہیں جو مجھے پسند کرتے ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں میرے بعض یا اکثر خیالات ناگوار گزرتے ہیں ۔ میری سوچ سے مکمل اتفاق کرنا یا معقول حد تک اتفاق کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ اور ایسے بھی ضرور ہوں گے جو مجھ سے شدید اختلاف کرنے اور مجھے سخت ناپسند کرنے کے باوجود میری تحریریں پڑھتے ہیں ۔ میں اپنے تمام قارئین کو اپنا فکری خاندان تصور کرتاہوں ۔ بہت سارے قارئین ایسے بھی ہیں جن کے ساتھ میرا ”رشتہءقلم“ بہت پرانا ہے۔ ایسے پرانے کرم فرماﺅں میں سے کچھ کے ساتھ میری بالمشاقہ ملاقات عمرے کی ادائیگی کے دوران ہوئی۔ ایک صاحب ائیر پورٹ کے لاﺅنج میں کافی دیر تک غورسے مجھے دیکھتے رہے۔ پھر اٹھ کر میرے پاس آئے اور بولے :آپ شکل صورت سے حیرت انگیز حد تک میرے پسندیدہ قلمکار غلام اکبر کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں ۔ انہیں میں فیس بک پر روزانہ پڑھتا ہوں۔“
”اتفاق سے میرا نام بھی غلام اکبر ہے۔“ میں نے مسکرا کر کہا۔
ان صاحب کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا بڑی گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ کرنے کے بعد بولے” یقین نہیں آرہا کہ میں آپ کے ساتھ ملاقات کر رہا ہوں ۔ ماضی میں میں آپ کے اخبار کا قاری تھا پھر میں سعودی عرب چلا آیا ۔ اب میں آپ کو سوشل میڈیا پر پڑھتاہوں۔ آپ کے اندر آپ کے ماموں نسیم حجازی کی بہت ساری خصوصیات ہیں ۔ “
”وہ بہت بڑے رائٹر تھے۔ اورمیں نے اپنے آپ کو کبھی رائٹر سمجھا ہی نہیں بس اپنے خیالات کے اظہار کا شوق ہے۔“
”آپ کے اس شوق سے میرا رشتہ بہت پرانا ہے۔خداآپ کی عمر دراز کرے اورآپ اسی بے خوفی سے حق اور سچ کا پرچم بلند کرتے رہیں ۔“ وہ بولے” جھوٹ کا پےغمبر پڑھنے کی خواہش ایک عرصے سے تھی جو آپ نے اسے قسط وار شائع کر کے پوری کر دی ہے ۔آپ نے اُس عہد کا پوسٹ مارٹم نہایت سفاّکی کے ساتھ کیا ہے ویسی ہی سفاّکی کا مظاہرہ اب آپ نوازشریف کے معاملے میں کر رہے ہیں ۔“
میں لفظ سفاّکی کے استعمال پر مسکرایا تو وہ بولے” کیا قوم واقعی ان معاشی واخلاقی بھیڑیوں اور مگر مچھوں سے نجات پانے والی ہے۔؟“
”اگر اللہ تعالیٰ کو اس قوم پر رحم یا ترس آگیا “میں نے جواب دیا۔
اتفاق کی بات ہے کہ ایسے ہی ایک قاری سے میری ملاقات ایسے ہی حالات میں چند روز بعد ہوئی ۔اس قاری کا سوال بھی یہی تھا کہ ”کیا میاں نواز شریف اور اُن کے خاندان سے واقعی پاکستان کی جان چھوٹ جائے گی؟“
اس قسم کے سوال کا جواب نہ تو میرے پاس ہے اورنہ ہی کسی اورایسے شخص کے پاس جس کی حیثیت قومی منظر نامے کے ایک بے بس ناظر سے زیادہ نہیں ۔ جس طرح قوم کی نظریں عدلیہ پر جمی ہوئی ہیں اس امید کے ساتھ کہ وہ میاں نواز شریف اور اُن کے خاندان کے دباﺅ میں نہیں آئے گی اور ان تمام ہتھکنڈوں کو ناکام بنائے گی جو میاں صاحب آزما رہے ہیں ،اسی طرح شریف خاندان بھی اپنی امیدیں قانون کی باریکیوں اور الجھا دینے والی بھول بھلیوں سے جوڑے ہوئے ہے۔ دوسرے الفاظ میں جیت کی ٹرافی قوم کو ملے گی یا شریف خاندان کو اس بات کا فیصلہ کرنے کااختیار عدلیہ کے ہاتھوں میں ہے۔
اگر عدلیہ اس بات سے بے نیاز رہی کہ قاتل نے گولی بائیں ہاتھ سے چلائی یا دائیں ہاتھ سے اور اپنی ساری توجہ صرف اس حقیقت پر مرکوز رکھی کہ قتل ہوا ہے اور ہوا بھی بڑی سفاّکی کے ساتھ ہے ، تو فیصلہ قوم کے حق میں آئے گا۔
اور اگر ایسا نہ ہوا تو قوم سمجھے گی کہ دولت جیت گئی ،اور انصاف ہار گیا۔
حرم شریف میں میری دعاﺅں میں سب سے رقتّ آمیز دعایہی تھی کہ ”اے محمد، اس کی امت، اور تمام جہانوں کے ربّ پاکستان کو آج ویسے ہی معجزے کی ضرورت ہے جیسا معجزہ تم نے فرعون کو غرق کرکے دکھایا تھا۔ “
قارئین کرام یہ نظام خود ”فرعون“ ہے اوراس کی کوکھ سے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری جیسے لوگ ہی پیدا ہوتے ہیں ۔

Scroll To Top