ڈسلیکسیا آگاہی مہم

ڈاکٹر رابعہ نذیر

ڈاکٹر رابعہ نذیر


ڈسلیکیا کی اصلاح سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے، جن میں تعلیم یافتہ اور عبوری علم والے شامل ہیں۔ کچھ افرادDYSLEXIAسے بالکل ناواقف ہیں۔ جب کبھی عوام میں آگاہی مہم چلائی جاتی ہے تو ہمیں اس بات کا یقین کر لینا چاہیئے کہ جو لوگ اس مہم کے روح رواں ہیں وہ اس مہم کو نہایت ضروری سمجھتے ہیں۔ کسی بھی چیز کے بارے میں آگاہی مہم ہمیشہ فائدہ مند ہی ثابت ہوتی ہے۔ ہم اپنے طور پر Dyslexiaکو جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس امر کو جانتے ہوئے بھی کہ غالباً اس سے واسطہ نہ بھی پڑا ہو۔ ہماری مہم کا ذریعہ اخبارات ہیں۔ مہم کی تفصیلات کو سادہ اور مرحلہ وار حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اس طرح عام لوگ بھی آسانی سے اس کو سمجھ سکتے ہیں۔
ہمیں Dyslexiaکے بارے میں جاننا کیوں ضروری ہے۔؟
Dyslexiaکی تشخیص علامات اور اسکریننگ کے بارے میں بتانے سے پہلے میں آپ کو انسانی دماغ کے بارے میں بتانا چاہوں گی کہ بعض اوقات ہمارا کوئی قریبی دوست ہمارے ساتھ کچھ بُرا کر دیتا ہے اور ہمیں مشکل میں ڈال دیتا ہے۔
اس حقیقت سے قطع نظر کہ آپ اپنے دوست سے کیا سلوک روا رکھتے ہیںاندرونی طور پر ایک جنگ کا آغاز ہو جاتاہے۔دل کہتا ہے دوستی کا بھرم رکھا جائے اور معاف کر دیا جائے اور دماغ کہتا ہے بدلہ لو اس امر کو عام طور پر دل اور دماغ سے تعبیر کیا جاتاہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ دل انسان کے نرم گوشے کا اظہار کرتاہے۔اور دماغ ظالم، خود غرض اور شیطانی عوامل کا اظہار کرتا ہے۔
جب ہم ایساسوچتے ہیں تو ہمارے اندربہت سی خواہشات جنم لیتی ہیںجن کے سدباب کیلئے ہم اپنی اخطراع کا سہارالیتے ہیں۔حقیقتاً ہم ان خدشات اور سوالات کا سامنا نہیںکرنا چاہتے۔یہاں مقصدان خدشات اور سوالات پربحث کرنا نہیںبلکہ کچھ اور ہے۔چاہے وہ Neuroanatomyکی تاریخ ہو یا وہ علم حکمت ہوجو ہمیں اپنے بزرگوں سے ملا ہے۔ان کی تفصیل میںجانے سے پہلے آپ کوان حقائق کے بارے میں بتانا چاہوں گی۔ جن کا کھوج اب تک سائنس نے لگایا ہے۔
۱۔ انسانی دماغ کاسب سے بڑا حصہ سری برم (Cerebrum)کو دو ہےمسفیرس (Hemisphere ) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔دایاں Hemisphere اور بایاں Hemisphere۔
۲© Cerebrum کا بنیادی کام دماغی عمل ہے جس میں سوچنا، غور کرنا ،تخمینے لگانا ، فیصلے کرنا اور مسائل کا حل نکالنا ہے۔
۳۔ دایاں دماغی Hemisphere بائیں Hemisphereسے مختلف سوچتا ہے۔
۴۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ایک خاص موقع کے متعلق متضاد فیصلے جنم لیتے ہیں۔
۵ مزید تفصیل میں جانے سے پہلے ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دماغ کا دایاں دماغی Hemisphere معاف کرنے کو کہتا ہے، بایاں دماغی Hemisphere ہمیں انتقام لینے پر اکساتا ہے۔
اردو ترجمہ بشکریہ: حسن اشرف

Scroll To Top