مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر……

jhoot

مصنف غلام اکبر
17-11-2017…قسط 13


جوسکرین پلے بھٹو نے تیار کیا تھا اگر وہ اس طرح کا تھا تو اسے زبردست مایوسی کا سامان کرنا پڑا۔
لاہور کے محاذ پر بالخصوص اور دوسرے محاذوں پر بالعموم فرزندانِ اسلام نے اپنے خون سے جرا¿ت و شجاعت کی ایسی ناقابل فراموش داستانیں لکھیں کہ بدر و حنین، یرموک و قادسیہ اور قسطنطنیہ و یروشلم کے غازیوں اور شہیدوں کی یاد تازہ ہوگئی۔میجر عزیز بھٹی، میجر شفقت بلوچ، میجر خادم حسین، بریگیڈئیر شامی، میجر عباسی اور دوسرے ان گنت پاسبان ِ ملک وملّت نے سرحدوں پر خون کی ایسی لکیر کھینچ دی جسے عبور کرنا پتھروں کو پوجنے والے سورماو¿ں کے بس کی بات نہیں تھی۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے معمولی درجے کے طیاروں کی مدد سے فضائی جنگوں میں ایسے ایسے کارنامے انجام دیئے کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ بھارتی فضائیہ کی بیشتر قوت کو چند ہی دنوں میں تباہ کر دیا گیا۔ بھارتی بحریہ کی کمر بھی چند ہی لڑائیوں میں توڑ دی گئی بھارت کی فوجی قوت کا شیرازہ کچھ اتنی تیزی کے ساتھ بکھر گیا کہ اگر جنگ کچھ عرصہ اور جاری رہتی تو برصغیر کا وہ نقشہ نہ ہوتا جو آج ہے۔
یہ صورت حال امریکہ کے لئے بے حد تشویشناک تھی اور روس تو بھارت کا حلیف تھا۔ چنانچہ حسب توقع سلامتی کونسل کے ذریعے دونوں بڑی طاقتیں بھارت کو ایک شرمناک شکست سے بچانے کے لئے حرکت میں آگئیں۔ بھارت کی شکست کا مطلب قطعی طور پر یہ ہوتا کہ اس خطے میں طاقت کا توازن ” پاک چین اتحاد“ کے حق میں ہو جاتا جس سے روس اور امریکہ دونوں کے مفادات کو زک پہنچتی۔ بھٹو کے لئے بھی بھارت کی شکست تباہ کن ہوتی۔ کیونکہ اس طرح ایوب خاں کو قومی ہیرو کی حیثیت حاصل ہو جاتی اور عوام کو اپنے پیچھے لگانے کا جو خواب بھٹو دیکھ رہا تھا وہ شرمندہ تعبیر ہونے سے رہ جاتا۔
چنانچہ ایوب خان پر بڑی طاقتوں کی طرف سے زبردست دباو¿ پڑا۔ ۸۱ ستمبر۵۶ءکو صبح دس بجے امریکی سفیر نے ایوب خان سے ملاقات کی۔ یہ وہ دن تھا جب پاکستان دفاعی جنگ جیتنے کے بعد بہت بڑے پیمانے پر جوابی حملہ کرنے والا تھا۔
اس سے پہلے ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خاں جنگ پھیلنے کی صورت میں چینی حمایت کی یقین دہانی حاصل کرنے کے پیکنگ گئے تھے۔ ان ہی دنوں چین نے بھارتی فوجیوں پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ چینی علاقے میں داخل ہو کر بھیڑیں چرالے گئے ہیں۔ اس الزام کا مقصد چین بھارت سرحد پر کشیدگی پیدا کرنا تھا تاکہ بھارت وہاں سے اپنی فوجیں ہٹاکر پاکستان کے محاذ پر نہ لے جا سکے۔
بقول اصغر خان چینی لیڈروں نے ان سے کہا۔ ”کیا آپ کو یقین ہے کہ ایوب خان واقعی جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں؟“
” اگر یہ یقین نہ ہوتا تو میں یہاں کیوں آتا۔ ہمیں جو برتری حاصل ہوچکی ہے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے گا۔“ اصغرخاں نے جواب دیا۔
” ہم یہ بات خود ایوب خان کے منہ سے سننا چاہتے ہیں۔ پھر بھی ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان ہماری دوستی حمایت اور امداد پر پورا پورا بھروسہ کر سکتا ہے۔“ چینی لیڈروں نے کہا۔
یہ یقین دہانی حاصل کرنے کے بعد اصغر خان پیکنگ سے واپس آگئے۔
۷۱ءستمبر کی رات کو انہیں ایک باخبر شخصیت نے فون پر آگاہ کیا کہ جنگ بندی کا فیصلہ ہوچکا ہے اور صبح دس بجے امریکی سفیر ایوب خان سے ملاقات کر رہا ہے۔
اصغر خان کہتے ہیں:
” مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ کامیابی سے اس قدر قریب پہنچ کر ایوب خان واپس جانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ اگلی صبح میں ایوب خان سے ملاقات کرنے کے لئے پہنچ گیا ملٹری سیکرٹری نے مجھے بتایا کہ اس وقت ملاقات ممکن نہیں کیونکہ دس بجے امریکی سفیر آنے والا ہے۔ میں نے اصرار کیا کہ امریکی سفیر سے پہلے ایوب خان کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ ملٹری سیکرٹری نے ایوب خاں سے رابطہ قائم کیا اور مجھے مختصر ملاقات کی اجازت مل گئی۔ میں نے چھوٹتے ہی ایوب خان سے سوال کیا کہ کیا واقعی جنگ بندی کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور امریکی سفیر اسی سلسلہ میں ملاقات کرنے آرہا ہے۔ ایوب خان نے جھینپتے ہوئے جواب دیا کہ فیصلے کا اختیار پاکستان کے پاس نہیں کیوں کہ بیرونی دباو¿ بہت بڑھ گیا ہے۔ میں نے ایوب خان کو بتایا کہ دباو¿ تو ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے اسے قبول کیا جائے تو وہ واقعی ہوتاہے اور اگر اسے قبول نہ کیا جائے تو وہ نہیں ہوتا۔ بھارت کو راہ راست پر لانے کا ایسا موقع قدرت شاید پھر کبھی ہمیں نہ دے۔ اس لئے اس موقع سے پورا پورا فائدہ نہ اٹھانا اپنی تاریخ کے ساتھ بے انصافی ہوگی۔ اس بات پر ایوب خان نے بے بسی کے ساتھ میری طرف دیکھا اور کہا کہ ہم اتنے زبردست دباو¿ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔“
پاکستان کے مردِ آہن ایوب خان درحقیقت بڑے کمزور آدمی تھے حب الوطنی کا شدید جذبہ رکھنے کے باوجود وہ ایسے آہنی فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم تھے جو قوموں کی تقدیر بدلا کرتے ہیں۔ اپنے لا محدود اختیارات کو جمہوری لباس پہنانے کی کوشش میں انہوں نے کنونشن مسلم لیگ کے نام سے جو سیاسی پلیٹ فارم بنایا تھا اس پر نظر آنے والی شخصیتیں زیادہ تر ان بد عنوان طبقوں سے تعلق رکھتی تھی جن سے عوام کو نفرت تھی۔ ان بدعنوان شخصیتوں اور طبقوں کو ایوب خاں نے اپنی سیاسی طاقت کی بنیاد بنایا تھا اس پر نظر آنے والی شخصتیں زیادہ تر ان بد عنوان طبقوں سے تعلق رکھتی تھیں جن سے عوام کو نفرت تھی۔ ان بدعنوان شخصیتوں اور طبقوں کو ایوب خان نے اپنی سیاسی طاقت کی بنائی بنایا تھا اور ان کے مفادات کی خاطر ایوب خاں نے کچھ بنیادی اخلاقی اصولوں کی جو قربانی دی تھی اس کی وجہ سے ان کی اخلاقی جرا¿ت تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ جس رہنما میں اخلاقی جرا¿ت کی کمی ہو اس سے نہ تو آہنی فیصلوں کی توقع رکھی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس بات کی کہ وہ کسی زبردست دباو¿ کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
افواجِ پاکستان اس پوزیشن میں تھیں کہ بھارت کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں، لیکن پاکستان کے سربراہ نے امریکہ کے دباو کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ عسکری میدان میں جیتی ہوئی جنگ سیاسی میدان میں ہار دی گئی۔ قوم ابھی تک اس المناک صورت حال سے بے خبر تھی، لیکن بھٹو کو ہر بات کا علم تھا۔ جنگ کے عسکری نتائج اس کی توقعات کے بالکل برعکس برآمد ہوئے تھے مگر اس کا سیاسی کلائمکس بھٹو کے اندازوں اور مفادات کے عین مطابق تھا۔ اسے معلوم تھا کہ جنگ بندی کا فیصلہ عوام کی مرضی اور امنگوں کے بالکل خلاف تھا اور جنگ کے دوران ایوب خان کی قدر و منزلت میں جو اضافہ ہوا تھا وہ جنگ بندی کے بعد ختم ہو جائے گا۔ اب یہ کام بھٹو کا تھا کہ وہ ایسی پرفارمنس دے کہ ایوب خان کی شخصیت عوام کی نظروں میں بالکل گرجائے اور خود بھٹو کی اپنی شخصیت عوامی امنگوں کی ترجمان اور نقیب بن کر ابھرے۔
(جاری ہے)

Scroll To Top