دھرنے والوں کا عدالتی حکم ماننے سے انکار

zaheer-babar-logo

اسلام آباد و روالپنڈی کے سنگم پر احتجاج کرنے والوں نے اس جوڈشیل حکم کو ماننے سے انکار کردیا ہے جس میں ان سے دھرنا ختم کرنے کا کہا گیا تھا۔ ان کے بعقول پہلے حکومت وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو اپنے عہدے سے برطرف کرے اس کے بعد مذاکرت کیے جائیں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سیاسی ودینی جماعت تحریک لبیک یا رسول ﷺ کی جانب سے دائر کی گی درخواست کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیکی کا کام اگر غلط انداز میں کیا جائے تو یہ بھی غلط ہوگا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں آچکا ہے اس لیے احتجاج ختم کریں“
تحریک لبیک کے دھرنے کو کم وبیش بارہ روز ہوچکے ۔ جڑواں اہم شاہراہ پر دھرنے کے نتیجے میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگی حقیقی معنوں میں اجیرن ہوچکی ۔ یہ کہنا غلط نہیںہوگا کہ محض چند سو افراد نے ملک کے دواہم شہروں میں نظام زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا۔ حیرت انگیز طور پر اس ارباب اختیار معنی خیز خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حکومتی زمہ داروں کا دعوی ہے کہ وہ دھرنے کو مذاکرت کے زریعہ حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں ان کے بعقول وہ کسی طور پر ایک اور سانحہ ماڈل ٹاون ہونے کے حق میں نہیں۔ “ اس پر پوچھا جاسکتا کہ حکومت کے پاس طاقت کے استمال کے علاوہ کیوں کوئی آپشن نہیںبچا۔ مسلم لیگ ن کے لیے یقینا فکر مندی کا مقام ہے کہ بارہ روز سے جاری رھرنے کو وہ اب تک ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
پاکستان پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ ن دونوں جماعتوں کے بارے میں یہ تاثر بڑی حد تک ابھر کر سامنے آیا کہ وہ اپنے دور حکومت میں گورنس کے لحاظ سے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئیں۔ معاملہ ایک دھرنے کا ہی نہیں بلکہ آج بشیتر سرکاری محکمے عوام کی مشکلات حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ تعلیم اورصحت کا شعبہ وفاقی اور صوبائی دونوں سطح پر کسمپرسی کا شکار ہے۔ رشوت اور سفارش سے ہٹ کر کسی بھی شہری کی داد رسی نہیںہورہی۔عام آدمی کی مشکلات سے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ ووٹ کی طاقت سے برسر اقتدار آنے والے ووٹ دینے والوں کی مشکلات کم کرنے کو تیار نہیں۔ دوہزار تیرہ کے عام انتخاب سے قبل مسلم لیگ ن بارے تاثر یہی تھا کہ وہ ملکی سیاست میں سب سے تجربہ کار جماعت ہے، کہا گیا کہ چونکہ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف دو مرتبہ وزارت عظمی اور دو مرتبہ وزیر اعلی پنجاب کے منصب پر فائز رہے لہذا ملک کو درپیش مسائل ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ میاں نوازشریف بھی جلسے جلوسوں میں دعوی کرتے رہے کہ ان کے پاس ماہرین کی پوری ٹیم موجود ہے لہذا وہ برسر اقتدار آکر تیزی سے مسائل حل کریں گے۔ مگر افسوس ایسا نہ ہوا۔آج ایک طرف اسلام آباد مسائل کی آمجگاہ ہے تودوسری جانب آبادی کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑے صوبے کو انواع واقسام کے مسائل درپیش ہیں ۔ پانچ دریاوں کی سرزمین میں شائد ہی کوئی ایسا شہر ہو جس کو پینے کا صاف پانی تک دستیاب ہو۔ صوبائی درالحکومت کے ہسپتالوں کی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ حاملہ خواتین کو سڑک یا فرش پر ڈلیوری پر مجبور کیا جارہا ۔ حال ہی میں سموگ یا سموک کے نتیجے میں صوبے میں درجنوں افراد زندگی کی بازی ہار گے ۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میںکیا جاچکا جہاںموسیماتی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہیں مگر حکام ہیں کہ ٹس سے مس ہونے کا تیار نہیں۔
مسلم لیگ ن کے ان دنوں سب سے بڑا مسلہ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی عدالت عظمی سے نااہلی کے بعد انھیں ”مظلوم یا بے گناہ “ ثابت کرنا ہے۔ بادی النظر میں پی ایم ایل این حکومت میں ہونے کے باوجود اپوزیشن کا کردار ادا کررہی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کئی بار کہہ چکے کہ ان کے وزیر اعظم نوازشریف ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ملک کی نمایاں کاروباری شخصیت سمجھے جانے والے شاہد خاقان عباسی بطور وزیر اعظم محض دن گزار رہے۔ آئینی طور پر دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کو زیادہ دن نہیں رہ گے مگر حکمران جماعت کے پاس سوائے مظلومیت کچھ نہیں۔ میاں نوازشریف خاندان عدالتوںمیںپیش پیش ہونے کے باوجود ججز کو تنقید کا نشانہ بنا رہا تو حدیبہ پیپر ملز کی شکل میں ایسا مقدمہ بھی عدالت عظمی میں زیر سماعت ہے جس میں شہباز شریف اور ان کے خاندان کے لوگ واضح طور پر ملوث پائے جاتے ہیں۔
حکمران جماعت بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہے کہ جڑواں شہروں کے سنگم پر دھرنا دینے والوں کو کسی کی آشیرباد حاصل ہے۔ حکمران جماعت اس عمل کو اپنے خلاف سازش سے تعبیر کررہی تاکہ پی ایم ایل این کی حکومت کا خاتمہ کیا جاسکے۔ اندیشوں اور وسوسوں میںگھری ن لیگ کی قیادت موجودہ بحرانوں سے کیسے نکلے گی تاحال واضح نہیں۔ آج میاں نوازشریف بار بار قومی اداروں کو نشانہ بنا رہے۔ کم وبیش 35سالوں سے قومی سیاست میں رہنے والے سابق وزیر اعظم یہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں کہ بدعنوانی کے مقدمہ میں نااہل ہونے کسی اہم ادارے کا عمل دخل نہیں۔ درست کہا جارہا کہ تحریک لبیک کے دھرنے کو وسیع پس منظر میںدیکھنا ہوگا۔ دراصل یہ مسلم لیگ ن کے لیے دیگر کئی چیلنجز میں سے ایک چیلنج ہے جس پر کامیابی سے قابو پانے کے امکانات روشن نظر نہیںآتے۔

Scroll To Top