کیا ہم بھارت کو دشمن سمجھتے ہیں ؟

zaheer-babar-logo
برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانہ کے بھرپور احتجاج کے بعد لندن کے ٹرانسپورٹ کے ادارے نے شہر کی ڈبل ڈیکر بسوں پر نمودار ہونے والے پاکستان مخالف اشتہارات کو ہٹانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ ادھر پاکستان میں موجود برطانیہ کے ہائی کمشنر تھامس ڈریو کا کہنا ہے کہ پاکستان مخالف اشتہارات کے سلسلے میں جذبات کی سنگینی کو باخوبی سمجھتے ہیں، برطانوی ہائی کشمنر کے بعقول برطانوی حکومت پاکستان کی جغرافیائی سالمیت اور خودمختاری کا پوری طرح احترام کرتی ہے جس کا بلوچستان لازمی حصہ ہے اور رہیگا۔“
زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب بھارتی وزیر اعظم نریندری مودی نے بلوچستان کو مقبوضہ وادی کے ساتھ جس طرح نتھی کرنی کی کوشش ہے وہ عالمی سطح پر نمایاں ہوا ۔ دراصل بھارتیہ جتنا پارٹی میں ایسے عناصر کی کمی نہیںجو سمجھتے ہیںکہ کشمیر میں جاری مظالم پر سے پردہ ڈالنے کے لیے بلوچستان کی دہائی دینا ہوگی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس کھیل میں انھیں بلوچستان کے بعض ایسے عناصر کی حمایت حاصل ہے جو خود ساختہ جلاوطنی میں پاکستان کے دشمن قوتوں کا آلہ کار بنتے ہوئے ہرگز ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کررہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ قوم پرستی کے نام پر اہل بلوچستان کے ساتھ ظلم و زیادتی کا کھیل اب مذید نہیں چلنے والا۔ رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے باسی باخوبی جان چکے کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق تھما کر انھیں اپنی ہی لوگوں کے ساتھ لڑانے والے ہرگز مخلص نہیں لہذا اپنے انفرادی اور گروہی مفادات کی تکمیل کے لیے دیار غیر میں پرتعیش زندگی گزارنے والوں کی حمایت میں تیزی کے ساتھ کمی واقعہ ہوچکی معاملے کا المناک پہلو یہ ہے کہ صوبے کے نام نہاد قوم پرست رہنما خود احتسابی کرنے کی بجائے مسلسل دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔
ماضی میںجو ہوا سو ہوا مگر اب یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ سیکورٹی اداروں سمیت سیاسی قائدین بھی بلوچستان کی اہمیت سے باخوبی آگاہ ہیں۔ قیام امن کے لیے صوبے بھر میں سالوں سے اقدمات اٹھائے جارہے جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہتری کی مختلف صورتیں نمودار ہورہیں، یقینا مکمل کامیابی کا حصول تاحال ممکن نہیں ہوسکا مگر حالات گزرے ماہ وسال کی نسبت تیزی سے تبدیل ہورہے۔ اس میں دوآراءنہیں ماضی میںبلوچستان کے لیے زبانی جمع خرچ سے کام لیا جاتا رہا یعنی صوبے کی قابل زکر سیاسی ومذہبی قیادت بھی حالات کو جوں کا توں رکھنے میں مگن رہی مگر اب ایسا نہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی بلوچستان کے پشتونوں اور بلوچوں میں نظر آئی جو اب دشمن کی چالوںکو ناکام بنانے کے لیے پیش پیش ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ بلوچستان میں کبھی بھی پاکستان مخالف اکثریت میں نہ تھے مگر طے شدہ منصوبہ کے تحت منفی کرداروں کی آواز بلند کی جاتی رہی۔
پاک چین اقتصادی راہدای منصوبہ بجا طور پر بلوچستان کے لیے امن اور خوشحالی کا باعث بن سکتا ہے۔ صوبہ کا محل وقوع اس حقیقت کو خود بیان کررہا کہ اگر اہل اقتدار نے حقیقی منعوں میں علاقے کے حالات بدلنے کی کوشش کی گی تو ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے میں تاخیر نہ ہوگی۔سی پیک کے آغاز پر ایک طرف بلوچستان میں امید کا چراغ روشن ہوا تو دوسری جانب پاکستان اور بلوچستان کے دشمن بھی پوری قوت سے حملہ آور ہوچکے۔ بھارتی وزیر اعظم اور ان کے قریبی رفقاء اعلانیہ کہہ چکے کہ وہ کسی طور پر سی پیک کو کامیاب نہیں ہونے دینگے، بلاشبہ روایتی دشمن کی دھمکیوں کو کسی طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بھارتی نیوی کے آفیسر اور را کے جاسوس کلبھوشن کی بلوچستان سے گرفتاری ثبوت ہے کہ انتہاپسند ہندووں اپنے ناکام عزائم پر مسلسل عمل درآمد کررہا۔
درست کہا جاتا ہے کہ عزم وحوصلہ کی حامل اقوام شر میں سے بھی خیر کا پہلو تلاش کرتے دیر نہیںلگاتیں۔ تقسیم ہند سے لے کر اب تک بھارتی دشمن کے نتیجے میں ہمیں زیادہ مضبوط اور خوشحال ہونا چاہے تھا جو باجوہ نہ ہوسکے۔ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا واقعی ہمارے حکمران طبقات بھارت کو دشمن سمجھتے بھی ہیںکہ نہیں، بظاہر زمینی حقائق ایسے نہیں جو اس کا جواب اثبات میں دے سکیں۔ مثلا پاکستانی دریاوں میں آنے والے پانی کا بڑا حصہ مقبوضہ کشمیر سے آتا ہے مگر ”رہنما“ اس مسلہ کی نزاکتوں کا احساس کرنے کو تیار نہیں۔ بھارت تیزی سے وادی میں ڈیمز بنانے کی حکمت عملی پر عمل کررہا مگر ہمارے ہاں کئی دہائیوں سے پانی ذخیرہ کرنے کا ایسا منصوبہ نہیں بنایا جاسکا جو مسقبل میں ہماری ضروریات کو پورا کرسکے۔ دوسری جانب بلوچستان کا محل وقوع پاکستان کے لیے کسی طور پر نعمت سے کم نہیں مگر حکمرانوں نے اس صوبے کے ساتھ جو سلوک روا رکھا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
گذرے ماہ وسال میں جو ہوا سو ہوا مگر اب بلوچستان کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں، اسے حالات کا جبر کہہ لیں کہ آج وفاق میں براجمان ہر جماعت ملک کے سب سے بڑے صوبے پر توجہ دینے پر مجبور ہے۔ حالیہ سالوں میں عسکری قیادت جس طرح بلوچستان عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے میدان عمل میں آئی وہ بھی باعث اطمنیان ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں بلوچ نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا وہ اب بھی تیزی سے جاری وساری ہے۔ پاک فوج ایک طرف صوبے میں امن وامان کو برقرا رکھنے کے لیے بھرپور کردار ادا کررہی تو دوسری جانب صوبے بھر میں تعلیم اورصحت کے شعبے میں بھی عوام کی ضروریات پوری کرنے کے منصوبوں پر برق رفتاری سے عمل درآمد کیا جارہا ۔

Scroll To Top