جھوٹ کا پیغمبر

front

2قسد نمبر


دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک عظمت کاپرچم بلند کرنے والی قوم کی تاریخ میں جہاں فتح و نصرت کی ناقابل یقین داستانیں لکھی گئی ہیں وہاں اسے ہزیمت پسپائی اور ذلت و رسوائی کی طویل اور تاریخ راتوں سے بھی گزرنا پڑا ہے۔وہ رات کتنی تاریک ہوگی۔ جب فرڈی ننڈ کا لشکر غرناطہ کی فصلیں توڑ کر الحمر ا کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس رات کی ظلمتیں کس قدر ہولناک ہوں گی جب بغداد کی حرمت تاتاریوں کے نیزوں پر اچھالی جا رہی تھی ہماری تاریخ کی پیشانی پر اندھیروں بھری اس رات کی سیاہی بھی لگی ہوئی ہے جب بیت المقدس کی فضاو¿ں میں ہلالی پرچم کی جگہ صلیب نے لے لی تھی۔ شاید ہی کسی قوم کی تاریخ میں اتنے عظیم تضادات ملیں گے۔ جتنے عظیم تضادات ہماری تاریخ میں ملتے ہیں۔ جس لشکر نے جبل الطارق پر اترنے کے بعد اپنی کشتیاں صرف اس لئے جلا ڈالی تھیں کہ پسپائی کا کوئی راستہ ہی نہ رہے وہ بھی اسی قوم کا لشکر تھا جو نصف دنیا پر حکومت کرنے کے بعد ہسپانیہ میں چند ہزار نصرانیوں اور خوارزم میں چند ہزار تاتاریوں کے ہاتھوں گاجر مولی کی طرح کاٹ دی گئی ۔ جس قوم کے چند ہزار سپاہیوں نے صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں یورپ کی تمام بڑی طاقتوں کی اجتماعی قوت کو کچل کر رکھ دیا تھا اسی قوم کے بارہ کروڑ عوام صرف تیس لاکھ یہودیوں کے ہاتھوں شکستوں پر شکستیںکھا رہے ہیں۔
ہماری تاریخ میں ایسے بیشمار المیے ملیں گے۔ جن پر مشرق سے مغرب تک جرا¿ت و شجاعت اور نصرت و کامرانی کی لازوال داستانیں رقم کرنے والی قوم خون کے آنسو بہا سکتی ہے۔ لیکن شاید ہی کوئی المیہ اتنا شرمناک اور کرب انگیز ہوگا۔ جتنے شرمناک اور کرب انگیز المیّے نے دسمبر۱۷۹۱ءمیں جنم لیا ہماری تاریخ کی شاید ہی کسی رات کے اندھیرے اس قدر ہولناک ہوں گے۔ جس قدر ہولناک اندھیروں سے ہمیں ان چند لمحات کے دوران گزرنا پڑا۔ جب آل انڈیا ریڈیو سے یہ اعلان ہورہا تھا کہ محمود غزنوی کے جانشینوں نے اندر ا گاندھی کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔
یہ المیہ کسی بھی غیور قوم پر سکتہ طاری کرنے کے لئے کافی تھا اور مجھے یقین ہے کہ ظلمت بھری اس رات کو قوم کے ہرایسے فرد پر سکتہ ضرور طاری ہوا ہوگا۔ جس کی رگوں میں دوڑنے والے خون کا رشتہ غزنویؒ، بابرؒ، عالمگیرؒ اور ٹیپوؒ کے خون سے نہیں ٹوٹا اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ جب یہ سکتہ ٹوٹا ہوگا، تو قومی غیرت رکھنے والے ہر شخص کے دل میں انتقام کی چنگاری ضرور پیدا ہوئی ہوگی قومی انا کا مطلب سمجھنے والے ہر فرد کی روح کی گہرائیوں سے یہ امنگ ضرور ابھری ہوگی کہ سقوطِ ڈھاکہ نے اہل پاکستان پر ذلتوں اور رسوائیوں کے جو داغ لگائے ہیں انہیں مٹانے کے لئے قوم اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کے سانچے میں ڈھل جائے۔ لیکن قائداعظم کے پاکستان کو سقوط ڈھاکہ کے المیّے کی طرف لے جانے والے قائد عوام کے عزائم کچھ اور تھے۔
بھٹو اور ان کے حواری اپنے ”کارناموں“ پر ”خراجِ تحسین“ حاصل کرنے کے لئے اکثر یہ کہتے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو اقتدار انتہائی نامساعد حالات میں مِلا تھا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے المیّے نے قوم کو بے جان کر کے رکھ دیا تھا۔قومی معیشت کا پہیہ رک گیا تھا ۔ قوم پر خود اعتمادی کے فقدان بے یقینی اور احساس بے چارگی کے منحوس سائے منڈلا رہے تھے۔ ملک کی کشتی ایک خطرناک بھنور میں پھنس چکی تھی۔ یہ صرف بھٹو کی ”ولولہ انگیز قیادت“اور ”بے مثال فہم و فراست“ کا کمال ہے کہ دنیا کے نقشے پر اب بھی پاکستان کا نام نظر آرہا ہے۔
اس قسم کے دلائل پیش کرنے کا مقصد ہماری قومی غیرت کا مذاق اڑانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ جن حالات میں بھٹو اور ان کے حواری برسرِاقتدار آئے ان حالات کے بغیر پیپلز پارٹی کو اقتدارمل بھی نہیں سکتا تھا۔ دوسرے الفاظ میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا المیہ بھٹو کے لئے اقتدار کا زینہ ثابت ہوا۔ یعنی اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لئے بھٹو کے لئے اقتدار کا زینہ ثابت ہوا۔ یعنی اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لئے بھٹو نے ایسے حالات پیدا کئے کہ سقوطِ مشرقی پاکستان ناگزیر ہوگیا۔ ابتدا میں جب بھٹو پر یہ سنگین الزام لگایا گیا تھا تو میرے دل نے اسے قبول نہیں کیا تھا۔ شاید اس لئے کہ بھٹو میرا ہیرو رہ چکا تھا۔ لیکن جب میں نے دماغ سے کام لینا شروع کیا تو تمام واقعاتی شہادتیں مجھے اسی نتیجے کی طرف لے گئیں کہ لاڑکانہ کے جاگیر دار نے اسلام آباد کے قصرِ صدارت میں داخل ہونے کے لئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈھاکہ کی قربانی دی تھی۔ بہر حال اس موضوع پر روشنی میں آگے چل کر ڈالوں گا۔ یہاں صرف یہ مﺅقف اختیار کرنا چاہتا ہوں کہ جن ” نامساعد“ حالات میں بھٹو نے ملک کی قیادت سنبھالی وہ قوم کو اوجِ ثریا تک لے جانے کے لئے انتہائی سازگار تھے ایسے حالات میں اقتدار حاصل کرنے کی خوش نصیبی بہت ہی کم لیڈروں کو حاصل ہوئی ہے۔
قوم کی رگ رگ میں انتقام کی چنگاری بھڑک رہی تھی۔ ذلت و رسوائی کا جو داغ سقوطِ ڈھاکہ نے قوم کی پیشانی پر لگایا تھا اُسے دھونے کے لئے ہر فرد بے چین تھا ۔ بڑی سے بڑی قربانی دے کر قومی وقار بحال کرنے کا جذبہ قوم میں جس قدر شدید۰۲ دسمبر۱۷۹۱ءکی رات کو تھا اس قدر شاید دوبارہ کبھی نہ ہو۔ صلاح الدین ایوبیؒ جیسے قائدین کو ایسے ہی حالات جنم دیتے ہیں۔
لیکن ۰۲ دسمبر۱۷۹۱ ءکی کوکھ سے جنم لینے والا قائد ایوبیؒ نہیںبھٹو تھا ۔ میں جانتا ہوں کہ ایوبیؒ اور بھٹو کا ایک ضمن میں ذکر کرنا یروشلم کے فاتح کی توہین ہے۔ بھٹو اور ایوبیؒ کے درمیان جتنا بڑا فاصلہ تاریخ کا ہے اس سے کہیں بڑا فاصلہ کردار کا ہے۔ یہاں میرا مقصد صرف یہ کہنا ہے کہ ۰۲ دسمبر ۱۷۹۱ءکی رات کو بھٹو کی بجائے ایوبی کاظہور بھی ہو سکتا تھا۔
اس کے باوجود مجھے اور میری قوم کو بھٹو سے کچھ توقعات تھیں، کچھ امیدیں تھیں، ایک خیال تھا کہ بھٹو سقوطِ مشرقی پاکستان کا چیلنج قبول کریگا اور پوری قوم کو عزم و عمل، اتحاد و تنظیم، ایمان و اخلاق کے ہتھیاروں سے مسلح کردیا جائے گا۔ ہم اپنے خون اور پسینے سے ایسی بجلیاں پیدا کریں گے جو دشمن پر قہر الہٰی بن کر گریں گی اور جن کی گرج پوری دنیا کو بتا دے گی کہ سقوطِ ڈھاکہ کو مسلم قوم کا مقدر سمجھنے والوں نے فاروق اعظمؒ کے جانشینوں کی غیرت کے بارے میں غلط انداز ے لگائے ہیں۔

 

Scroll To Top