مفاہمتی سیاست کو بالائے طاق رکھنا ہوگا

پاکستان پیپلپزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے سلام شہدا ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے چار مطالبات پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کے منظور نہ ہونے کی صورت میں لانگ مارچ کیا جائیگا۔مطالبہ نمبر ایک سابق صدر زرداری کے دور میں اقتصادی راہداری پر ہونے والی اے پی سی کی قرار دادوں پر عمل ہونا چاہے۔ نبمر دو پانامہ لیکس کے معاملے پر پیپلزپارٹی کے بل کو منظور ہونا چاہے۔نمبر تین فوری طور پر ملک میں مسقل وزیر خارجہ تعینات کیا جائے۔پارلمینٹ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کو ازسر نو تشکیل دیا جائے۔ “
یقینا بلاول بھٹو زردای کے مذکورہ چار مطالبات کی اہمیت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ مبصرین کراچی میں ہونے والی ریلی کو ایک طرف پی پی پی پارٹی چیرمین کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے طور دیکھتے ہوئے اسے مسلم لیگ ن کے خلاف عوامی غم وغصہ کا مظہر قرار دے رہے ہیں۔سیاسی پنڈتوں کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے نوجوان چیرمین اپوزیشن لیڈر بنے کی کوشیش تو کررہے ہ مگر ان کی جلد کامیابی کا امکان زیادہ روشن نہیں۔ ان کے بعقول بلاول بھٹو زرداری اگر آنے والے عام انتخابات میں نمایاں کامیابی چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے طرزسیاست سے فاصلہ رکھتے ہوئے جاری سیاسی پالیسی پر نظر ثانی کریں۔
بلاول زرداری کو کوئی یہ بھی بتانے کی جرات کرے کہ ماضی کے برعکس محض بھٹو کا نعرہ عام انتخاب میں کامیابی کا ضامن نہیں رہا۔ پاکستان کے بدلے ہوئے سیاسی منظر نامہ میں اسی سیاسی جماعت کا مسقبل اب روشن ہے جو عام آدمی کی مشکلات میں قابل زکر کمی لاسکے۔ ناقدین کے بعقول پی پی پی چیرمین پارٹی میں سابق صدر زرداری کی مداخلت کسی نہ کسی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہوئے مگر ابھی بھی انھیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ بادی النظر میں ایک مشکل یہ بھی ہے کہ پی پی پی تسلسل کے ساتھ کم وبیش ساڈھے آٹھ سال سے صوبہ میں حکومت کررہی مگر شائد ہی کوئی عوامی مسلہ ہو جسے پورے طور پر حل کیا جاسکا ۔ کراچی ہو یا اندرون سندھ مسائل کا ڈھیر بدستور موجود ہے اور پارٹی قیادت وعدوں اور دعووں کے کھیل سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ عوام کی اکثریت کارکردگی اور صرف کارکردگی کی متمنی ہے۔تعلیم ، صحت اور گورنس کے مسائل سندھ میں منہ کھولے ہوئے صوبائی حکومت کی توجہ کے منتظر ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے بغیر نہ تو سندھ کے عوام کی قابل زکر خدمت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی یہ رویہ اہل پنجاب کی مشکلات میں نمایان کمی لانے کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان میں دنیا کی انوکھی جمہوریت ہے جہاں برسر اقتدار طبقہ مقامی حکومتوں کو اختیار اور فنڈز دینے کو تیار نہیں۔ یہ بات تک درست ہے کہ روایتی سیاسی طبقہ کو اس سرزمین پرکسی صورت حقیقی جمہوریت نہیں چاہے ۔ نسل درنسل اقتدار کی خواہش کرتے ان خاندانوں کا محبوب مشغلہ صرف اور صرف پیسہ کمانا رہ گیا۔ بدقسمتی ہے کہ اربوں کھربوں کے مالک یہ طاقتور لوگ ملک کے اندار اپنی دولت رکھنے کو تیار نہیں۔ دوبئی ، لندن ، امریکہ اور اب پانامہ لیکس میں اپنا مال رکھنے والوں کو سیاست کے لیے پاکستان درکار ہے۔ امیر کا امیر تر اور غریب کا غریب تر ہونا رائج سٹم کی ناکامی کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد مذید کسی بھی وضاحت کی گنجائش باقی نہیںرہ جاتی۔
ایک ترقی پذیر ملک ہونے کی حثیثت سے پاکستان کو جس قدر مسائل کا سامنا ہے اس کی سیاسی ومذہبی قیادت اس قدر ہی لاپرواہ واقعہ ہوئی ۔ ذاتی اور گروہی مفادات کے حصول کے لیے سرگرداں اشرافیہ اپنی ناک سے آگے دیکھنے کو تیار نہیں۔ اس صورت حال کو دراصل ایسی غیر اعلانیہ جنگ قرار دیا جاسکتا ہے جو عوام اور اہل اقتدار کے درمیان جاری وساری ہے مگر چونکہ حکمران طبقہ تمام ریاستی وسائل پر قابض ہے لہذا بظاہر شکست عوام ہی کے مقدر میں نظر آتی ہے ۔
یقینا آج کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی تاریخ ان ہی مسائل سے پر رہی جو اس مملکت خداداد کو درپیش ہیں مگر پھر یوں ہوا کہ سیاسی طبقہ بدلا اور ایسے لوگوں نے عنان اقتدار سنھبالا جو ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر نظر آئے۔
پاکستان کا مستقبل یقینا روشن ہے۔ آج عام آدمی ایک طرف حکومتی امور میں دلچیسپی کا مظاہرہ کررہا ہے تودوسری جانب اس کی نظر ارباب سیاست کی اس لاٹ پر ہے جو کسی صورت عوامی مفاد کو مقدم نہیں سمجھتی ۔ اس پس منظر میں دوہزار تیرہ کے عام انتخاب میں پاکستان پیپلپزپارٹی کو جس سبکی کا سامنا کرنا پڑا اسے عوام کے اجتماعی غم وغصہ کا نام دیا جاسکتا ہے جو ہماری تاریخ میں کم ہی دیکھنے میں آیا۔
عام آدمی کی رائے کو جانچنے کا یقینا طریقہ انتخابات ہی ہیں مگر صرف اس صورت میں جب وہ منصفانہ اور غیر جانبدارنہ ہوں۔ الیکشن کمشین کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جس کی اہم وجہ یہ کہ روایتی سیاسی طبقہ اس ادارے کو اسی شکل وصورت میںجوں کا توں رکھنے کا خواہشمند ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری سے جمہوریت پسند حلقوں کی توقعات صرف اور صرف اسی صورت پوری ہوسکتی ہیں جب وہ بدلے ہوئے پاکستان کا ادراک کرتے ہوئے اپنی پالیسی ترتیب دیں ۔ نوجوان سیاست دان کو یقینا یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ ان کے والد کی مفاہمت کی سیاست کو عوام نے سختی مسترد کردیا چنانچہ حقیقی سیاسی کامیابی کے حصول کے لیے انھیں مصالحت کے بغیر موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

Scroll To Top