قصہ ہر درد کے خاتمے کا 17-11-2009

جب میں وطن عزیز کی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ایک پرانا قصہ یادآتا ہے۔ شاید یہ قصہ مثنوی مولوی مولانا روم کا ہو۔ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا۔
قصہ ایک ایسے شخص کا ہے جسے شدید در د رہتا تھا۔ وہ ایک مشہور حکیم سے علاج کرا رہا تھا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا تو اس نے زچ ہو کر حکیم سے کہا۔
” اگر آپ کے پاس کوئی علاج نہیں تو میرا وقت کیوں برباد کررہے ہیں۔؟“
” علاج تو میرے پاس ہے ` “ حکیم نے جواب دیا۔ ” مگر ڈرتاہوں کہ اس علاج سے سردرد تو غائب ہوجائے گا پر پیٹ میں درد کا اٹھنا نہیں رک پائے گا۔“
” پرواہ نہیں حکیم صاحب۔ پیٹ کا درد تو برداشت ہوسکتا ہے ` سر کا درد نہیں۔“ اس شخص نے جواب دیا۔
” سوچ لو۔ پیٹ کا درد بھی قابل برداشت نہیں ہوا کرتا۔ “ حکیم نے کہا۔
” کوئی پرواہ نہیں ۔ آپ سر کادرد تو دور کریں۔“ اس شخص نے جواب دیا۔
حیکم نے ایسی دوا دی جس سے سرکا درد واقعی غائب ہوگیا مگر پیٹ درد کرنے لگا۔ جب یہ درد بڑھا تو وہ شخص حکیم سے یہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔
” پیٹ کا درد بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ کچھ اس کا علاج بھی کریں۔“
” اس کا علاج بھی ہوسکتا ہے لیکن پھر درد گردوں میں منتقل ہوجائے گا۔ “ حکیم نے جواب دیا۔
” کوئی پرواہ نہیں۔ گردوں کا درد برداشت کرلوں گا۔“ مریض بولا۔
یوں پیٹ کے درد کی جگہ گردوں کے درد نے لے لی۔ پھر گردوں کے درد کی جگہ جگر کے درد نے لی۔ پھر واپس درد سر میں آگیا تو مریض چیخ پڑا۔
” حکیم صاحب خدا را کچھ کریں۔ کوئی بھی درد برداشت نہیں ہوتا۔“
” علاج ہے اس کا میرے پاس۔ یہ گولیاں لو ۔ سارے درد غائب ہوجائیں گے۔“ حکیم بولا۔
” وہ کیسے۔؟ پہلے یہ گولیاںکیوںنہ دیں آپ نے مجھے۔“ مریض نے غصے سے کہا۔
” وہ اس لئے کہ میں چاہتا تھا کہ جتنا جی سکتے ہو جی لو۔“
خدانخواستہ ۔ ہم یہ گولیاں نہیں کھائیں گے۔ مگر کوئی نہ کوئی درد تو ہمیں قبول کرنا ہی پڑے گا!

Scroll To Top