مردم شماری پر ہماری تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا ،وزیراعلیٰ سندھ

  • نتائج کو یکسر مسترد نہیں کرتے ،ہم نہیں چاہتے سارا عمل ( اسکریپ ) ہو جائے ‘ مراد علی شاہ

مراد علی شاہ

کراچی (این این آئی )وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مردم شماری پر ہماری تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا اور ہمارے تحفظات دو نہیں کےے گئے ۔ اس کے باوجود ہم چھٹی مردم و خانہ شماری کو اس لےے یکسر مسترد نہیں کرتے کہ ہم 1998 ءمیں واپس چلے جائیں گے ۔ ہم نہیں چاہتے کہ مردم شماری کا سارا عمل ( اسکریپ ) ہو جائے لیکن ادارہ شماریات کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو مطمئن کرے ۔ وہ جمعرات کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں مردم و خانہ شماری کے حوالے سے مسلم لیگ (فنکشنل ) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کی تحریک التواءپر اظہار خیال کر رہے تھے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ مردم شماری کے آغاز پر میں نے متعلقہ اداروں سے کہا تھا کہ اگر درست مردم شماری نہ ہو ئی تو لوگ ناراض ہوں گے ۔ اس لےے مردم و خانہ شماری کو جتنا شفاف بنایا جا سکتا ہے ، بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ تجویز دی تھی کہ ”فارم 2 “کی ایک کاپی سندھ حکومت کو دی جائے اور ” آر ای این 2 “ فارم مکمل کرکے ادارہ شماریات کی ویب سائٹ اور متعلقہ دفتر کے بورڈز پر لگایا جائے ۔ ہماری ان تجاویز کو نہیں مانا گیا ۔ اس لےے شکوک و شبہات پیدا ہوئے حالانکہ یہ تجاویز ماننے میں کوئی قانونی یا آئینی رکاوٹ نہیں تھی ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں جواب یہ دیا گیا کہ فوج مردم شماری کر رہی ہے ، اس لےے شفاف ہو گی ۔ یہ شفافیت کا کوئی معیار تو نہیں ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مردم و خانہ شماری کے نتائج درست ہیں یا غلط لیکن لوگوں کو مطمئن کرنا ہو گا ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اب گھر گھر گنتی کا زمانہ چلا گیا ہے ۔ نادرا کو ہدایت کی جائے کہ وہ سب لوگوں کے شناختی کارڈ بنوائے اور بچوں کی رجسٹریشن کا بھی نظام وضع کرے ۔ نادرا کے نظام کو بہتر بنانے کے لےے جتنا خرچہ ہو ، وہ کر لیا جائے ۔ 10 سال بعد جب ہم دوبارہ مردم شماری کریں گے تو ایک بٹن پر رزلٹ سامنے آ جائے گا ۔ شناختی کارڈ کے پتوں پر لوگوں کو خطوط لکھے جائیں کہ ان کے ووٹ فلاں جگہ درج ہیں ، اگر وہ اس سے مطمئن ہیں تو ٹھیک اور اگروہ کسی دوسری جگہ ووٹ درج کرانا چاہتے ہیں تو بتائیں ۔ ہم جدید دور میں رہتے ہیں ۔ گھر گھر گنتی سے جو غلطیاں ہوتی ہیں ، وہ جدید نظام میں نہیں ہوں گی ۔ انہوں نے ارکان سندھ اسمبلی سے کہا کہ وہ اپنے حلقوں میں مختلف سینسس بلاکس میں خود دوبارہ سروے کرائیں اور ثبوت کے ساتھ ادارہ شماریات کو مردم شماری کی غلطیوں سے آگاہ کریں ۔

Scroll To Top