امریکہ عرب دنیا میں دراصل کیا کرنا چاہتا ہے؟

برلن (نیوز ڈیسک) شام میں شدت پسند تنظیم داعش کے ظہور کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی میں لاکھوں معصوم افراد مارے جاچکے ہیں، جبکہ مزید لاکھوں اپنے گھر چھوڑ کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبورہوچکے ہیں۔ لیبیا اور عراق پہلے ہی تباہی سے دو چار ہو چکے ہیں۔ مشرق وسطٰی میں جاری اس تباہی کی اصل وجہ کیا ہے؟ اس کا تہلکہ خیز انکشاف ایک جرمن صحافی نے کردیا ہے۔
پچھتر سالہ جرجن ڈوڈنہوفر پہلے مغربی صحافی ہیں کہ جنہیں داعش نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میںد اخلے کی اجازت دی اور انہوں نے داعش کے مرکز رقہ کا بھی تفصیلی دورہ کیا۔ جرجن کہتے ہیں کہ انہیں داعش اور اس کے زیر قبضہ علاقے کو قریب سے دیکھنے کے بعد اندازہ ہوا ہے کہ شام کو ٹکڑوں میں بانٹنے کے منصوبے پر عمل جاری ہے اور اس منصوبے کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ خود امریکا ہے۔ اخبار ”دی انڈیپینڈنٹ“ کے مطابق جرجن نے جریدے ”رشیا ٹوڈے“ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکا شام میں بھی وہی کرنا چاہ رہا ہے کو جو اس سے پہلے عراق اور لیبیا میں کیا جاچکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبیا اور عراق کو توڑنے کے بعد اب امریکا شام کو توڑنے کی کوشش کررہا ہے۔
انہوں نے اس منصوبے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ کو کمزور کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ہر ملک کو کمزور کیا جائے کیونکہ اس خطے کے کمزور ممالک ہی امریکا کے فائدے میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شام کے چار سے پانچ ٹکڑے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جرمن صحافی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ پالیسی خود امریکا کے لئے بھی بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے لئے امریکا پر حملہ کرنا مشکل نہیں ہے، انہیں سرحدیں پار کرنے کی ضرورت نہیں، اگرچہ وہ یہ بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے دہشت گردوں کے حمایتی امریکا میں موجود ہیں اور وہ ان کے ذریعے کسی بھی وقت بڑا حملہ کرسکتے ہیں ،امریکا کے لئے انہیں روکنا ممکن نہیں۔ جرجن نے مشرق وسطٰی کی صورتحال کو اس خطے کے علاوہ دنیا کے لئے بھی تشویشناک بات قرار دیا۔

Scroll To Top