۔۔۔ورنہ ہماری سیاست کے خدوخال عابد شیر علی ` رانا ثناءاللہ `طلال چوہدری اور دانیال عزیز جیسے لوگ طے کرتے رہیں گے۔۔۔۔

دنیا کے موقر ہفت روزہ ” دی اکانومسٹ“ کے حالیہ شمارے کی ٹائٹل سٹوری کا عنوان ہے ۔
The debasing of American politics
(امریکی سیاست کا اخلاقی انحطاط)
اس موضوع پر دی اکانومسٹ کا ادارتی مضمون کہتا ہے کہ امریکی سیاست میں برُے وقت پہلے بھی آئے او ر انتخابی دنگل خطرناک حد تک ذاتی تصادم تک پہنچ گئے لیکن جو کچھ حالیہ ” صدارتی مہم “ کے دوران ہوا ہے اور ہورہا ہے اس پر ہر امریکی کا سر شرم سے جھک جانا چاہئے۔
ماضی میں کسی بھی سیاسی حریف نے وہ زبان استعمال کرنے اور ویسے الزامات لگانے کی جسارت نہیں کی جس کا مظاہرہ ڈونالڈٹرمپ نے کیا ہے۔ اور جس کی وجہ سے ہیلری کلنٹن اور ڈونالڈٹرمپ کے درمیان ہونے والا انتخابی مقابلہ ایک ایسی ذاتی جنگ میں تبدیل ہوگیاہے جس نے امریکی ریاست کے دروازے بدترین گالی گلوچ اور اخلاق باختگی پر کھول دیئے ہیں۔
ایک جگہ دی اکانومسٹ لکھتا ہے ۔” جو باتیں اب تک امریکی سیاست میں ناقابل تصور سمجھی جاتی تھیں وہ اب اچانک امریکی سیاسی کلچر کی پہچان بنتی نظر آرہی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ڈونالڈٹرمپ امریکی جمہوریت کے لئے ایک بہت بڑی بدقسمتی بن کر نمودار ہوئے ہیں ` اور ان کی آمد نے امریکی سیاست سے اخلاقیات کو باہر نکال پھینکاہے۔“
پاکستان میں سیاسی ” اخلاق باختگی “ کا آغاز1970ءکی انتخابی مہم میں ہوا تھا۔ جب ملک کے شاید سب سے زیادہ پڑھے لکھے سیاستدان اور لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست میں ایسی زبان اور ایسے لب ولہجہ کو داخل کیا تھا جسے کہا تو ” عوامی “ گیالیکن درحقیقت اخلاقیات کو خیر باد کہنے کی طرف پہلا بڑا قدم تھا۔ میں اُس دور کی پولرائزیشن میں بھٹو کا زبردست مداح تھا کیوں کہ میں سمجھتا تھا کہ وہ ملک سے عدم مساوات کا خاتمہ کرنے اور محروم طبقوں کو جگانے کے لئے میدانِ سیاست میں اتر ے تھے۔۔۔ مگر جب میں ” مودودی ٹھاہ تے بھٹو واہ “ کے نعرے سنتا تھا تو مجھے یوں لگتا تھا کہ ” دلیل“ کی قوت سستی جذباتیت کے سامنے دم توڑ رہی ہے۔
تقریباً 46برس بعد پاکستان کی سیاست پر اخلاق باختگی کے وہ دروازے بھی کھول دیئے گئے ہیں جن پر پہلے بڑے مضبوط تالے لگے رہا کرتے تھے۔
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ عابد شیر علی ` رانا ثناءاللہ ` طلال چوہدری اور دانیال عزیز جیسے لوگ کبھی ہماری حکومت کے ترجمان بنیں گے۔
میں یہاں جناب عمران خان کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانا چاہوں گا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ جس مقصد کے لئے سیاست کے میدان میں اترے ہوئے ہیں وہ بڑا اعلیٰ اور ارفع ہے۔ اور شک اس بات میں بھی نہیں کہ جو باتیں وہ کہہ رہے ہیں وہ صداقت پر مبنی ہیں۔ یہ ملک یقینا چوری اور ڈاکہ زنی کے کلچر کا متحمل نہیں ہوسکتا لیکن اس بات کو ایسے الفاظ اور ایسے انداز میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اُن کے مدمقابل جو لوگ ہیں انہیں اخلاقیات کی حدود تہ و بالا کرنے کا بہانہ یا موقع نہ ملے۔
مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ قبل میں نے عمران خان کو ایک پیغام بھیجا تھا۔
” کپتان آپ کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ آپ نے سیاسی اخلاقیات کے ایسے اصول وضع کرنے ہیں جو نئی نسل کے لئے مشعل راہ بن سکیں۔آپ کو اپنے سامنے آنحضرت ﷺ کا اندازِ سیاست رکھنا ہوگا۔ آپ کو یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ قائداعظم ؒ اپنے مخالفوں سے کس لب و لہجے اور زبان میں مخاطب ہوا کرتے تھے۔ آپ آج سے ہی یہ محسوس کرنا شروع کردیںآپ مستقبل کے وزیراعظم ہیں۔ پھر آپ کے لئے اپنی حیثیت او ر اپنے مقام سے انصاف کرنا آسان ہوجائے گا۔“
مجھے یاد ہے کہ کپتان نے میری تمام باتوں سے اتفاق کیا تھا۔۔۔ مگر میرا تجربہ ہے کہ بعض اصول تالیوں کی گونج میں برُی طرح دب جایا کرتے ہیں۔
عمران خان کو اپنا انداز سیاست اپنے مقام اور مرتبے کے ہم آہنگ کرنا ہوگا ورنہ ہماری سیاست کے خدوخال عابد شیر علی اور رانا ثناءاللہ `طلال چوہدری اور دانیال عزیز جیسے لوگ طے کرتے رہیں گے۔۔۔۔

Scroll To Top