بات ان خزانوں کی جو یتیم ہوجایا کرتے ہیں 15-11-2009

یہ بات شیکسپیئر نے کہی تھی کہ دنیا ایک سٹیج ہے جس پر کہانیوں کے کردار اپنی باتیں کہنے کے لئے نمودار ہوتے ہیں, اور کہہ کر غائب ہوجاتے ہیں۔

یہ سلسلہ کب سے چلا آرہا ہے۔؟
اگرچہ آغاز داستان حضرت آدم علیہ اسلام اور حضرت حوا کے کرہ ارض پر اترنے سے ہوا لیکن ہم ” قبل از طوفان نوح“ سے پہلے کے صرف ایک واقعے کے بارے میں جانتے ہیں۔
قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل۔!
ایک بھائی کے ہاتھوں دوسرے بھائی کی ہلاکت!
روئے زمین پر ایک انسان کی پہلی موت !
تب سے ہمارے مقدر میں وہ سکرپٹ لکھ دیا گیا ہے جس کا ذکر شیکسپیئر نے کیا۔
کہاں گئے فرعون ؟ کہاں گئے نمردو؟ کہاںگیا بخت نصر؟ کہا ںگیا سکندر ؟ کہاں گیا کیخسرو؟ کہاں گیا اٹیلا ؟ کہاں گیا چنگیز خان ؟
اور دور حاضر میں آئیں تو کہاں گیا ہٹلر ؟ اور کہاں گیا سٹالن ؟
جب وہ تھے تو زمین ان کے قدموں تلے لرزتی تھی۔
جب وہ تھے تو ہزاروں میل کے فاصلے پر بھی لوگ ان کا نام اس قدر تعظیم و تکریم سے لیا کرتے تھے کہ کہیں کوئی گستاخی کسی عتاب کے نزول کا سبب نہ بن جائے۔
میں دور کیوں جاﺅں۔؟
میں نے تو اپنی آنکھوں سے صدرایوب خان کا رعب دیکھا ہے۔ نواب آف کالا باغ کا دبدبہ سہا ہے۔
بھٹو مرحوم بھی جب ”فکس اپ “ کرنے پر آتے تھے تو لرزنے والوں کی ٹانگیں جواب دے جاتی تھیں۔
اور پھر وہ مرد مومن جس نے اسلام نافذ کرنے کے لئے کوڑا ہاتھ میں پکڑ لیا تھا!
وہ سب آئے اور گئے۔۔۔مگر سٹیج خالی نہیں۔ وہاں اب نئے کرداروں کا جمگھٹا ہے۔ سب اپنی اپنی باتیں بول رہے ہیں۔ سب کو ایک ہی فکر ہے کہ کچھ ایسا ہو کہ وہ اس سٹیج کو آباد رکھیں۔ انکے جانے کا وقت نہ آئے۔
مگر جانا تو سکندر اعظم کو بھی پڑا تھا!
قارون کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ یوں تو اپنے خزانوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوا کرتا تھا مگر کبھی کبھی اچانک روبھی پڑتا تھا۔
ایک خدمت گزارنے پوچھا کہ آپ روتے کیوں ہیں۔ قارون نے جواب دیا۔ ” میں اپنے خزانوں کی بدقسمتی پر روتا ہوں’ میں مر گیا تو وہ یتیم ہوجائیںگے۔“
وطن عزیز میں کتنے قارون ہیں جن کے خزانے ان کے جانے کے بعد یتیم ہوجائیں گے؟

Scroll To Top