یہ ٹولہ اتنا طاقتور کیوں ہے ؟ 16-5-2012

kal-ki-baatامریکی وزارت خارجہ کی طرف سے وضاحت جاری ہوئی ہے کہ امریکی عملہ نیٹو سپلائی لائن کی بحالی کے فیصلے پر موثر عملدرآمد کرنے کے لئے پاکستان میں پہلے سے ہی موجود ہے مگر اسے امریکی حکومت کی طرف سے معافی مانگنے کا اختیار حاصل نہیں کیوں کہ سلالہ چیک پوسٹ کے ” افسوسناک“ واقعے پر امریکہ پہلے ہی معذرت کا اظہارکرچکا ہے۔
اس وضاحت سے میرے ذہن میں یہ تاثر ابھرے بغیر نہیں رہ پا رہا کہ اب معافی پاکستان کے حکمران ٹولے کو مانگنی پڑ گئی ہے۔ (اُس تاخیر پر جو نیٹو سپلائی لائن کھولنے کے فیصلے میں ہوئی ہے )۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو پھر یہ بات بھی درست ہوگی کہ امریکہ نے ہمارے حکمران ٹولے کو معاف کردیا ہے جس کا ثبوت ان کی پھیلی ہوئی خالی جھولی کے بھر جانے سے مل جائے گا۔
اس سارے معاملے نے دو دنوں کے اندر بڑے دلچسپ بیانات اور واقعات کو جنم دیا ہے۔
محترمہ حنا ربانی کھر ابھی لندن میں ہی تھیں تو ان پر حالتِ ” کشف“ میں اس انکشاف کا نزول ہوا کہ نیٹو سپلائی لائن کے کھولے جانے کے فیصلے سے ہمارے 48ممالک کے ساتھ تعلقات کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔
” اے خوش اندام کرخت سخن بالکی ۔۔۔ جا اپنے ہم وطنو کو بتا کہ ہوش کے ناخن لیں۔ اور انکل سام سے اپنے گستاخانہ رویے پر معافی مانگ لیں۔“
اس وجدان نے ایک ” ورِد “ کی صورت اختیار کرلی اور تب سے محترمہ یہ ” ورِد“ مسلسل کئے جارہی ہیں۔ ” کھول دو۔۔۔ کھول دو۔۔۔ کھول دو۔۔۔“
اُدھر کائرہ صاحب نے فرمایا ہے کہ برطانوی وزیراعظم ہمارے وزیراعظم سے اس قدر متاثر ہوئے کہ بول اٹھے۔ ” جو آپ کا دشمن ۔۔۔ وہ ہمارا دشمن ۔۔۔“
خدا کرے کہ گیلانی صاحب نے اپنے دشمنوں کی ” نشاندہی نہ کردی ہو۔ تادم ِ تحریر ان کے دشمنوں میں سرفہرست عدلیہ ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ سب کچھ پھر نارمل ہوجائے گا۔حکمران ٹولہ پھر چین کی بانسر ی بجائے گا۔ رعایا پھر اس ٹولے کی درازی ءعمر کی دعائیں مانگے گی ۔ اور باقی سب لوگ اپنے اپنے نقطہ ءنظر سے یہ اندازے لگانے کی مشق میں شریک ہوجائیں گے کہ ” حکمران ٹولے “ میں آخر ہیں کون کون سے لوگ ۔؟ آخر یہ ٹولہ اتنا طاقتور کیوں ہے کہ چاروں طرف سے بلند ہونے والی آہ و بکا اور چیخ و پکار کا اس پر ذرا سا بھی اثر نہیں ہوتا؟

Scroll To Top