اُڑی سیکڑ حملے کی ٹائمنگ اہم ہے

بھارت کا تاذہ حملہ کا الزام پاکستان پر عائد کرنا خطے کے حالات سے شناسا کسی بھی باخبر شخص کے لیے حیران کن نہیں۔ مقبوضہ وادی کے سخت سیکورٹی کے علاقے میں حملے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا جس سے سفارتی محاذ پر یقینا پاکستان کو نقصان ہوسکتا ہے۔بھارتی فوج اور میڈیا نے پاکستان میں موجود ان ہی تنظمیوں پر کاروائی کا ملبہ ڈالا دیا ہے جن کے خلاف پہلے سے مہم جاری وساری ہے۔ 17بھارتی فوجیوں کا مارا جانا اور 35کا زخمی ہونا ہرگز معمولی واقعہ نہیں مگر مقبوضہ وادی یا دیگر بھارتی شہروں میں اب تک ہونے والے دہشت گردی کے دیگر واقعات کی طرح اس کاروائی بارے بھی متضاد موقف سامنے آرہے ہیں۔ کنڑول لائن اور ورکنگ باونڈری پر بھارت کے سخت انتظامات ہونے کے باوجود مسلح افراد کیسے اپنے ٹارگٹ تک جا پہنچے اس بارے ٹھوس شواہد دستیاب نہیں ۔ پٹھان کوٹ واقعہ کی طرح تازہ کاروائی کی اطلاع آتے ہی بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی کا آغاز کردیا۔
ادھر بھارتی موقف کی حمایت میں امریکہ کا بیان بھی سامنے آچکا جس میں امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ ”ہم بھارت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مضبوط شراکت داری کے پابند ہیں ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کربی نے کہا کہ ہم حملے کا شکار ہونے والے افراد اوران کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کرتے ہیں۔“
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بانکی مون نے بھی اوڈی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ واقعہ انجام دینے والوں کی نشاندہی کی جائیگی اور انھیں سزا دی جائیگی“
بھارت مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ کئی ہفتوں سے ظلم ستم کے پہاڈ توڈ رہا۔ نہتے کشمیریوں کے خلاف ظلم و زیادتی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ عالمی ادارے تو ایک طرف خود بھارت کے اندار سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پرزور انداز میں آواز اٹھائی جارہی۔ نئی دہلی میں باضمیر بھارتی مرد وخواتین ایک سے زائد بار اکھٹے ہوکر مودی سرکار سے برملا مطالبہ کرچکے کہ کشمیر سیاسی مسلہ ہے جس کے لیے طاقت کا استمال کسی صورت جائز نہیںمگر بھارتیہ جنتا پارٹی طاقت استمال کرنے پربضد ہے۔ اقوام متحدہ اور امریکہ کا اڈی سیکڑ واقعہ پر انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار درست مگر نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے لیے بھی عالمی ادارے کا فعال کردار ادا کرنا لازم ہوچکا۔
کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف عالمی سطح پر کسی نہ کسی حد تک رائے عامہ ہموار ہورہی۔ کشمیر کاز کے حمایتوں کا خیال ہے کہ لاکھوں مسلمان خاندانوں کوبھارتی جبر واستحصال کے رحم وکرم پر چھوڈنا کسی طور پر انسان دوستی نہیں ۔ بھارت دراصل اس معاملہ کو ایک طرف کفر واسلام کی جنگ قرار دینے میں تامل کا مظاہرہ نہیں کررہا تو ساتھ ہی وادی میں مسلسل بڑھتی ہوئی بے چینی واضظراب کو پاکستان کی سازش بھی کہہ رہا۔حال ہی میں نوجوان کمانڈر مظفر وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں غم وغصہ کے جو مناظر دیکھنے میں آئے ان کی اصلیت کو تسلیم نہ کرنا ہی خرابیوں کا بنیادی سبب بن چکا۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ حریت پسندوں کی اس سے بڑھ کر توھین ہو نہیں سکتی کہ ان کے جائز مطالبہ کو کسی دوسرے ملک کی سازش قرار دے دیا جائے۔ قابض بھارتی فوج مسلسل جذباتی استحصال کررہی جس کا نتیجہ پوری وادی میں شدید ردعمل کی شکل میں ظاہر ہورہا۔ مقبوضہ وادی کے باسیوں کے اخلاص اور ہمت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بدترین مظالم بھی انھیں جدوجہد آزادی سے دور کرنے میں کامیاب نہیں ہورہے۔ کشمیر میں آج قبرستانوں کے حجم میں اضافہ ہورہا مگر آبادیوں میں زندگی کی علامات مفقود ہیں۔وادی کشمیر کے باسی اس رائے کی صداقت پر پوری طرح یقین کرچکے کہ آزادی کا سورج قربانیوں کے بغیر طلوع نہیں ہوا کرتا چنانچہ مقبوضہ علاقوں سے نوجوانون کے جنازے اٹھانے کے باوصف جدوجہد آزادی مسلسل جاری وساری ہے۔
بھارت کی پاکستان پر الزام تراشی پر اقوام عالم میں دو قسم کا درعمل واضح ہے ایک یہ کہ بھارتی سیکورٹی فورسز تمام تر وسائل کی بھرمار کے باوجود اپنے زیرتسلط علاقے کی حفاظت کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی تو دوسری طرف پاکستان پر بہتان بازی پر یقین کرنے والے ایسے حلقے بھی ہیں جو مخصوص مقاصد کے لیے بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم نوازشریف کو اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران نئی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اوڈی پر ہونے والے حملے میں بھارت اورافغانستان بیک وقت سامنے آکر تقاضا کرسکتے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود بعض گروہوں کے خلاف کاروائی کرے اگرچہ پاکستان نے اس واقعہ کی بھرپور مذمت کی ہے اور بھارت سے ٹھوس ثبوت بھی مانگے ہیں مگر روایتی حریف باز کے باز آنے کا امکان نہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ موقف غلط نہیں کہ وزیراعظم نوازشریف کو اقوام متحدہ جانے سے پہلے پارلمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں مسلہ کشمیر کو اراکین پارلمینٹ کے سامنے رکھنا چاہے تھا ۔ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ ملک کی بشیتر سیاسی و مذہبی جماعتیں بھارت مظالم کے خلاف انفرادی طور پر آواز اٹھا چکیں۔ مسلم لیگ ن اس معاملہ کو ایوان میں لاکر ایسی مثالی حمایت حاصل کرسکتی تھی جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے موقف میں وزن پیدا ہوجاتا۔
مقبوضہ وادی میں ہونے والے تازہ واقعہ نے بھارت میں اس لابی کو اور بھی متحرک کردیا ہے جو پاکستان کے خلاف جارحیت کے ارتکاب کا حامی ہے۔ آنے والے چند دنوں میں یقینا صورت حال واضح ہوجائیگی کہ پاکستان اس بدلی ہوئی صورت حال سے کب اور کیسے کامیابی سے نمٹنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

Scroll To Top