پندرہ اکتوبر کو مجھے ایسا کیوں لگا کہ ہم نے ایک بار پھر جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں؟

ہل ِ پاکستان تمہاری غیرت کہاں سو گئی ہے۔؟

22۔اگست 2016کو ایک غدارِ وطن نے برطانیہ کی سرزمین سے نعرہ لگایا۔ ”پاکستان مردہ باد“ اور اس کی آواز کے ساتھ آواز چند بد بختوں نے کراچی میں بھی ملائی۔
ملک کے طول وعرض میں غم وغصہ کی لہردوڑ گئی۔ ہمارے حکمرانوں نے بھی سخت غم وغصہ کا اظہار کیا ۔
مگر چند روز قبل اس غدارِ وطن کو وطنِ عزیز کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے نوخیز چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنا انکل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ کراچی کی سیاست میں اس کا ایک مقام ہے۔دو دن بعد حکومت برطانیہ نے اس غدارِ وطن کو منی لانڈرنگ کے الزامات سے مکمل طور پر بری کر دیا۔ جس کے بعد اس کے کارندوں نے اعلان کیا کہ کراچی والو ہم آرہے ہیں۔
15۔ اکتوبر کو یعنی گذشتہ روز ماردھاڑ سے بھرپور فلموں کے کسی وِلَن نمبر تین یا چار کی یاد تازہ کرنے والے حلیے کا ایک شخص کراچی پریس کلب میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ نمودار ہوا اور ملک بھر کے ٹی وی چینلز نے اپنے کیمرے اُس پر فوکس کر دیئے۔
اس شخص نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ ہم آگئے ہیں۔ کراچی ہمارا ہے۔
مجھے نہ تو اپنے کانوں پر اور نہ ہی اپنی آنکھوں پر یقین آرہا تھا۔
مجھے یوں لگا جیسے سندھ حکومت نے ایک نئی قرار داد منظور کی ہو جس میں ”پاکستان مردہ باد“ کا نعرہ لگانے کی اجازت دے دی گئی ہو۔۔ مجھے یوں بھی لگا کہ اِس قرارداد کو مملکت خداد اور پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی بھی مکمل تائید حاصل ہو۔ اور لگا مجھے یہ بھی کہ ہماری بہادر افواج نے ایک بار پھر جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہوں۔۔۔
ہم کدھر جا رہے ہیں۔؟ ہمارا کیا بنے گا۔؟ غداری اور حب الوطنی کے درمیان مٹتے چلے جانے والے فرق کے بعد ہم کس منہ سے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائیں گے۔؟
سرل المیڈا کی خبر نے بقول ہمارے جنرلز کے قومی سلامتی کو داو پر لگایا۔ اور جنرلز کے ہی بقول یہ خبر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت چھپوائی گئی۔ ؟ کیا ہم سب ملک دشمنوں کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔؟اس لئے بے بس ہو چکے ہیں کہ ہماری بیشتر مقتدر سیاسی شخصیات کے گھر اور کاروبار لندن میں ہیں اور لندن کے فیصلوں پر کنٹرول نئی دہلی کا ہے۔
میں نے الطاف حسین کے باعزت طور پر بری کئے جانے کے برطانوی فیصلے پر یہ ٹویٹ کیا کہ برطانیہ کا اصل چہرہ سامنے آگیا ہے۔
جواب میں ایک ہندو نے ٹویٹ کیا۔
”برطانیہ میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری بھارت کر رہا ہے۔ آپ لوگ تو بھکاری ہیں۔اور بھکاریوں کا کام بھیک مانگنا ہے۔“
ہمارے صفوں میں کون ایسا ہے جواٹھ کر بلند آواز میں دنیا سے کہے۔۔” ہم محمود غزنوی کے جانشین ہیں۔ بھکاری نہیں۔“؟

Scroll To Top